Urdu Afsana Shangal Episode 5 By Qaisar Hameed Ronjho

Urdu Afsana Shangal Episode 5

(اردو افسانہ شانگل (پانچویں قسط

تحریر: قیصر حمید رونجھو

بالاچ نے اٹھ کر باہر کی طرف قدم بڑھائے تو سردارروئیداد خان کی آواز سنائی دی۔ ٹھیک ہے تم سوچ لولیکن یاد رکھنا یہ میرا اور تمھاری اماں جی کا مشترکہ فیصلہ ہے اور ہاں ایک بات اوراگر تمھارا کوئی خاص دوست ہے تو بتا دو جس کے ساتھ تم خراسان میں آرام سے رہ سکو میں اسکا بھی وہاں جانے کا بندوبست کرلوںگا۔

جی بابا سائیں! اماں جی کا نام سن کربالاچ کوجو تھوڑی بہت امید تھی وہ بھی دم توڑگئی اب آگے کیلیۓ سوچنا تھا۔ بالاچ ڈیرے سے نکل کر بے مقصد گھومتا رہا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس صورت_ حال سے کیسے نمٹے۔ شام ہو چلی تھی بالاچ نے اپنے طور پر فیصلہ بھی کر لیا اوراس کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلیۓ ضروری اقدامات بھی کر لیۓ۔ واپس ڈیرے پر پہنچا تو سردار روئیداد خان اپنے کارندوں کو اگلے دن کیلیۓ ضروری ہدایات دے رہا تھا۔

Urdu Afsana Shangal Episode 5

فارغ ہوا تو بالاچ کی طرف متوجۂ ہوا۔ چلو بیٹا حویلی چلتے ہیں اب میں کافی تھک چکا ہوں۔ حویلی پہنچ کر دونوں نے کھانا کھایا تھوڑی دیر ادھر، ادھر کی باتیں ہوئی اورپھرسب لوگ سونے کیلیۓ اٹھے۔ صبح اٹھ کرسردارروئیداد خان ڈیرے پر چلا گیا، وہاں پہنچا تو پہلے ہی پریامرس عارب خان اسکا انتظار کررہا تھا۔ پریامرس عارب خان کی خاطر مدارت کے بعد سردار چاکرخان اس سے مخاطب ہوا۔ عارب خان! سناؤ سویرے سویرے بغیراطلاع کیسے آنا ہواخیریت تو ہے۔

سردار بابا! آپکو علم ہے کہ سارونہ کی آخری پہاڑی مینگر تک کا علاقہ سون پور کا ہے۔ عارب خان اپنی بات ختم کرکے رکا۔ہاں عارب خان ٹھیک کہتے ہو تم! سردار بابا کل سنگور کے سردارمحبت خان نے اپنے آدمی بھیج کر سارونہ اور آس پاس کی چراہا گاہوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ اور ہمارے دو آدمیوں کو قتل کروایا ہے۔

یہ محبت خان کو کیا ہوا ہے یہ حدبندی تو صدیوں پہلے ہوئی ہے اب خوامخواہ قبائلی دشمنیاں کیوں پیدا کررہا ہے۔ عارب خان تم ایک کام کرو کچھ آدمی اپنے ساتھ لو اورمحبت خان کے آدمیوں کو وہاں سے بھگاؤ۔ کم ازکم اسکے چار بندے مارو۔ پھر قبائلی جرگہ کے معاملات میں خود سنبھال لونگا۔ سردارروئیداد خان ابھی عارب خان کو سمجھا رہا تھا کہ حویلی سے ایک نوکر دوڑتا ہوا آیا۔ سردارروئیداد خان کی نظر اس پر پڑی تو ایکدم کئی خدشے سرابھارنے لگے۔

Urdu Afsana Shangal Episode 5

بابا سائیں بابا سائیں! وہ بی بی اماں نے آپکو جلد حویلی بھلایا ہے۔ سردارروئیداد خان کو جھٹکا لگا وہ کھڑا ہوگیا۔عارب خان! تم ضروری بندوبست کرو میں دیکھ کر آتا ہوں۔ روئیداد خان تیزی سے حویلی کی سمت بڑھا، وہ سیدھا اپنی شریکِ حیات کے کمرے میں پہنچا۔ صفیہ! کیا بات ہے تم نے بھلایا خیریت تو ہے۔ سائیں! بالاچ بیٹا نجانے کہاں چلا گیا ہے یہ پرچہ رکھا ہوا تھا اس کے کمرے میں۔ سردار روئیداد جھٹ سے اسکے ہاتھ سے وہ کاغذ لے کر پڑھنے لگا۔

بابا سائیں! مجھے افسوس ہے کہ میں تمھاری بات مان نہیں سکتا۔ اس لیۓ میں گھر چھوڑ کرجارہا ہوں اور میں خود نہیں جانتا کہ میں کہاں جاؤں گا اس لیۓ مجھے تلاش کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ بابا سائیں! میرے لیۓ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں، آپ اپنا اور بی بی جی کا خیال رکھنا ! بالاچ

خط پڑھ کر روئیداد خان وہیں بیٹھ گیا۔ اسے یوں پریشانی میں مبتلا دیکھ کراسکی شریکِ حیات پوچھنے لگی۔ سائیں! کیا بات ہے پریشان لگ رہے ہو! کیا لکھا ہے بالاچ بیٹے نے؟ بالاچ نے خراسان جانے سے انکار کر دیا ہے، اوروہ مجھے سامنے کہہ نہیں سکتا تھا۔ اس لیے! اس لیۓ وہ یہ پرچہ لکھ کر رکھ گیا ہے۔ تم پریشان نہ ہونا وہ واپس مدرسہ گیا ہے۔ سردار روئیداد خان نے اپنی بیوئ سے حقیقت کو چھپایا، لیکن وہ خود کافی پریشان تھا اس لیۓ واپس ڈیرے پرچلا گیا۔

Urdu Afsana Shangal Episode 5

روئیداد خان کو دیکھ کر سب لوگ کھڑے ہوگۓ اور اپنی جگہ پر بیٹھ کر سردار روئیداد خان نے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تو سب لوگ بیٹھ گئے۔ روئیداد خان عارب سے مخاطب ہوا! تم دیرنہ کرو جلد ہی محبت خان کے آدمیوں کو وہاں سے بھگا دو ایسا نہ ہو کہ وہ ہمیں کمزور سمجھ کر مزید آگے بڑھنے کا سوچے۔ جی سردار بابا میں ابھی روانہ ہوتا ہوں عارب خان نے جواب دیا۔

سردار روئیداد خان اپنی نشست سے اٹھا اور کمرہِ خاص کی طرف بڑھا۔ پیرو! میرے لیے پانی لے کر آؤ۔ پیرو جب پانی لے کر کمرے میں پہنچا تو سردار روئیداد خان بولا پیرو! بالاچ پھرگھر سے نکل گیا ہے اورمجھے شک ہے کہ وہ ضرورشم ٹکری شاہ مراد کے پاس گیا ہوگا۔ تم ایک کام کرو اکیلے، اکیلے وہاں جاؤ اور دیکھو کہ بالاچ وہاں ہے یا نہیں پوری طرح معلوم کرنا۔ یہ خیال کرنا کسی کو پتہ نہ چلے تمھارے بارے میں کہ تم کون ہو۔ سمجھ گئے ہو نا میری بات؟؟ جی بابا سائیں سمجھ گیا پیرو نے جواب دیا۔ ٹھیک ہے پھر جاؤ تم۔

بالاچ حویلی سے نکل زمینوں پر پہنچا وہاں پر اس نے پہلے سے اپنے جانے کی مختصر تیاری کرلی تھی۔ بالاچ نے گاڑی کے بجائے اپنے دوست سے گھوڑا لیا تھا۔ اب اس نے اپنا سامان اٹھایا اور روانہ ہوا۔ اسے یقین تھا کہ اسکا دوست خوف کی وجہ سے سردار روئیداد خان کے سامنے کبھی زبان نہیں کھولے گا کہ بالاچ اس سے گھوڑا لیکر گیا ہے۔ سویرا ہونے تک بالاچ سون پور شہر سے باہر چھپر (جنگل) میں پہنچا۔ اب اسے دیکھے جانے کا خوف نہیں تھا وہ عام راستے ہٹ کر دشوار راستے پر سفر کر رہا تھا۔

اور کوشش کررہا تھا کہ وہ کسی کی نظر میں نہ آئے۔ دوپہر تک وہ مسلسل چلتا رہا بالاچ کے ساتھ ساتھ گھوڑا بھی تھک چکا تھا۔ وہ ایک بستی میں پہنچا اور خود کو مسافر ظاہر کیا۔ بستی والوں نے اسے کھانا وغیرہ کھلایا اور گھوڑے کو بھی کھلا چھوڑ دیا۔ تھوڑی دیر سستانے کے بعد اس نے آگے راستے کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کیں اور رختِ سفر باندھا۔ وہ اب چھپر (جنگل) سے نکل کر پہاڑوں کے دامن میں سفر کررہا تھا مغرب سے پہلے پہلے وہ ایک بستی میں پہنچ چکا تھا۔ اب مزید آگے جانے کے بجائے اس نے رات یہاں پر ہی بسر کرنے کا ارادہ کیا۔

Urdu Afsana Shangal Episode 5

کیونکہ اب سوڑج غروب میں تھوڑا وقت باقی رہ گیا تھا اورآگے آبادی جانے کتنی دور ہو رات کے اندھیرے میں ان پہاڑی علاقوں میں سفر کرنا خطرے سے خالی نہ تھا وہ بھی اس صورت میں جب راستے کا ٹھیک علم نہ ہو۔ بستی والوں نے مسافر سمجھ کر اسکی خاطر مدارت کی اور اسکے گھوڑے کو چارہ دیا۔ دن بھر کی تھکن کی وجہ بالاچ رات کا کھانا کھاتے ہی سو گیا۔ صبح جلدی اسکی آنکھ کھلی وہ تازہ دم لگ رہا تھا۔ ناشتہ کرکے وہ بستی والوں سے رخصت ہوکر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگیا۔

اسے امید تھی وہ شام سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔ پہاڑوں کے تنگ راستے کی وجہ سے آرام، آرام سے سفر کررہا تھا۔ جیسے جیسے فاصلہ سمٹتا جارہا تھا بالاچ کی بے چینی میں شدت آتی جارہی تھی۔ اسکا بس چلتا تو پل میں فاصلوں کو سمیٹ لیتا تاکہ اپنی راحتِ جاں کے سامنے جاکر اسے یہ بتا سکے کہ دیکھو شانگل میں نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا میں واپس لوٹ آیا ہوں اب ہمیشہ ہمیشہ کیلیۓ۔ وہ خیالوں میں شانگل کو اپنے سامنے بٹھائے اس سے باتیں کرتا ہوا جارہا تھا۔ اب دوپہر ڈھل چکی تھی اس نے رکنے کے بجائے چلنے کا فیصلہ کیا تاکہ جلدی منزل تک پہنچ سکے۔

پریامرس عارب خان نے سردار محبت خان کے آدمیوں سے سارونہ کی چراہا گائیں واپس لینے کیلیۓ تیاری شروع کر دی۔ انکی پیش قدمی جارہی تھی سارونہ ندی کے کنارے تک پہنچ چکے تھے۔ پریامرس عارب خان لشکر کے ساتھ نکلا اور صبح منہ اندھیرے سارونہ جا پہنچا تو سارونہ ندی کے کنارے پر سردار محبت خان کے لشکر سے ٹکراؤ ہوا۔ دوپہر تک لڑائی شدت اختیار کرچکی تھی دونوں قبائل پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے اب تک کئی افراد لقمۂ اجل بن چکے تھے۔

دونوں قبائلوں نے پیچھے اپنے قاصد روانہ کرکے مزید آدمی اور سازوسامان طلب کیا تھا۔ سنگور کے سردارمحبت خان کا لشکر جس انداز سے لڑ رہا تھا اس سے لگ رہا تھا کہ چراہا گاہوں پرقبضہ محض ایک بہانہ تھا انکےعزائم کچھ اور تھے۔ شام تک لڑائی رک چکی تھی لیکن تاحال دونوں لشکر مورچہ بند کسی بھی ہنگامی صورت حال سے تیار نمٹنے کیلیۓ تیار نظر آرہے تھے۔

عارب خان نے ایک قاصد سردار روئیداد خان کی جانب روانہ کیا تاکہ روئیداد خان کو ساری صورت سے آگاہ کرسکے۔ صبح ہوتے ہی لڑائی پھر سے شروع ہوئی تو عارب خان کے آدمی پسپا ہونا شروع ہوگئے۔ سنگور کے حملہ آورعارب خان کے لشکر کوروندتے ہوئے ندی کے دوسرے کنارے تک پہنچ چکے تھے۔ عارب خان کو ابھی تک پیچھے کی طرف مدد نہیں پہنچی تھی۔ دوپہر تک سردار محبت کا لشکر کافی آگے تک پیش قدمی کرچکا تھا۔ عارب خان کے حوصلے اب پست ہوچکے تھے وہ مختصر سازو سامان اور چھوٹا سا لشکر تیار کرکے آیا تھا اسے اندازہ نہیں تھا کہ حملہ آوراس حد تک تیاری کرکے بیٹھے ہونگے۔

Urdu Afsana Shangal Episode 5

عارب خان کو پسپا ہوتے دیکھ کر سنگور کے لشکر نے اور شدت سے حملہ کردیا۔ اس صورتحال نے عارب خان کے رہے سہے حوصلے بھی پست کر دیئے اب اسکے دفاعی حربے بھی ناکام ہورہے تھے اس نے ایک اور قاصد سردار روئیداد خان کی جانب روانہ کیا تاکہ سردار کو سنگور کے حملہ آوروں کے عزائم سے آگاہ کرئے۔ شام تک جنگ کا فیصلہ ہو چکا تھا پریامرس عارب خان کو شکست ہوچکی تھی اسکے زیادہ لوگ مارے جاچکے تھے صرف چند لوگ ہی جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہوسکے تھے۔

خود پریامرس عارب خان بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ سنگور کے لشکر کو فتح حاصل ہوئی اور وہ مالِ غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئے اور اپنے زخمی ہونے والے ساتھیوں کی مرہم پٹی کرنے لگے۔ انکا واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *