Urdu Afsana Shangal Episode 3 By Qaisar Hameed Ronjho

Urdu Afsana Shangal Episode 3 By Qaisar Hameed Ronjho

(اردوافسانہ شانگل (تیسری قسط

تحریر: قیصر حمید رونجھو

شانگل کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے شدتِ جذبات سے اسکی آواز بھی رندھ گئی تھی۔ قسمت نے بالاچ کو کس دوراہے پہ لاکھڑا کردیا تھا۔ اس کا باپ تین بیگناہ انسانوں کا قاتل تھا، شانگل کے سرسے باپ کا شفقت بھرا سایہ چھین کریتیم بنانےاسکی ماں کا سہاگ اجاڑ کر بھری جوانی میں بیوہ بنانے والا۔ اس کے دادا کے دونوں بازوں جو کہ اسکے بڑھاپے کے سہارے تھے چھیننے والا بالاچ کا باپ تھا۔

کتنا ظلم کیا تھا اس معصوم خاندان پراپنی ہوس کی پیاس بجھانے کیلئے طاقت کے نشے میں سرشار ہوکر فرعونیت کی داستان رقم کی تھی روئیداد خان نے۔ شانگل حوصلہ رکھو قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔ شانگل نے اپنے آنسو صاف کیۓ اور بالاچ سے کہنے لگی بابوجی! دوجوان بیٹوں اور جوان بیٹی کے دکھ نے دادا سائیں کو بیمار کردیا۔ دادی اماں یہ صدمہ سہہ نہ سکی اور ابدی نیند سوگئ۔

Urdu Afsana Shangal Episode 3 By Qaisar Hameed Ronjho

اس دن کے ہمارے گھر کوئی خوشی نہیں آئی۔ شانگل ایک بات کہوں! بالاچ نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ کہا۔ کہو بابوجی! شانگل مجھے تم سے محبت ہوگی ہے اورمیں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، کل سے لے کراب تک میں تمھارے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ شانگل جو داستان سناتے سناتے نڈھال ہوئی تھی، بالاچ کے ان الفاظ نے شانگل کے اوسان خطا کردیے، کافی دیر بعد سنبھلی تو گویا ہوئی، کیا کہہ رہے ہو بابو جی تت تم ہوش میں توہو! کیوں شانگل ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟ اچانک شانگل اٹھ کرایک طرف چلنے لگی۔

رکو شانگل میری بات کا جواب دو شانگل کیا ہوا ؟ کہاں جارہی ہو؟ شانگل بنا رکے اس سے دور چلی گئ اور بالاچ وہیں پتھر پہ بیٹھ گیا۔ اب دن چڑھ چکا تھا بالاچ کوکافی دیر ہوگئ تھی بستی سے نکلے ہوۓ۔ وہ اٹھا اورمرے مرے قدموں سے جھونپڑوں کا رخ کیا۔ وہاں پہنچا تو باباجی کافی پریشان نظر آۓ، بالاچ کو دیکھ کر گویا ہوۓ! کہاں چلے گۓ تھے بیٹا؟؟ باباجی وہ میں تھوڑا دورنکل گیا تھا اس لیۓ واپسی میں دیر ہوگئ۔

اچھا اچھا ٹھیک بیٹا ! کھانے کا وقت ہوا ہے ہاتھ منہ دھولو میں کھانا لے آتا ہوں۔ بالاچ کا دل کچھ بھی کھانے کو نہیں کررہا تھا لیکن باباجی کا دل رکھنے کیلیۓ چند نوالے زہرمار کیۓ۔ وہیں پرلیٹ کرسوچنے لگا کہ کیا کرے اب۔ باباجی اسکی نظر میں انسان نہیں فرشتہ تھا جو اپنے دشمن کے بیٹے کی اتنی خاطر مدارت کررہا تھا۔ اس کے دل میں اپنے باپ کیلیۓ نفرت پیدا ہو رہی تھی۔ اس کے نوخیز دماغ میں باغیانہ سوچیں پنپ رہی تھیں۔ بالاچ کو گھر سے نکلے دوسرا دن تھا وہ کسی کو بتاۓ بغیر نکلا تھا۔ اب اسے گھر کی فکر بھی لاحق ہوگئ تھی گھر سے اسے اپنے باپ کی یاد آئی تو سوچ سے ہی نفرت ہونے لگی۔ اس نے رات مزید رکنے کا فیصلہ کرلیا۔

Urdu Afsana Shangal Episode 3 By Qaisar Hameed Ronjho

سردار روئیداد خان اپنے ڈیرے پر تھا مارے غصے کے اسکے منہ جھاگ نکل رہا تھا وہ اپنے محافظوں اورنوکروں پردھاڑ رہا تھا۔ اسکا اکلوتا بیٹا، اسکا وارث، اسکا جانشین کل سے غائب تھا اورتاحال اسکی کوئی خبر نہیں تھی۔ اچانک پیربخش پیرو نظرآیا جو اس طرف چلا آرہا تھا۔ قریب پہنچ کر وہ روئیداد خان کے سامنے جھکا اورہاتھ باندھ کرسرجھکا کرکھڑا ہوگیا۔ پیرو کیا خبر ہے تمھارے پاس! چاکر خان دھاڑا پیرو سہم گیا اورسر کو مذید جھکا کر ہاتھ باندھے بولا۔

مائی باپ! چھوٹے بابا کو سون پور سے باہر چھپرمیں دیکھا گیا ہے اور یہ راستہ شم اورکرمت کی طرف جاتا ہے۔ کیا بک رہے ہو تم ! روئیداد خان چیخ کرکھڑا ہوگیا۔ اسکے چہرے پرخوف کے سائے نمودار ہونے لگے تھے۔ وہ دونوں ہاتھوں سے سرتھامے بیٹھتا چلا گیا۔ شم اورکرمت کے نام سے بیس برس پرانہ واقعہ فلم کی طرح گھومنے لگا۔ اب اسکا بیٹا خود چل کر دشمن کے پاس گیا تھا اسکی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ صعوبیدارکو جلدی بھلا کرآؤ! روئیداد خان کا حکم سن کرایک نوکر دوڑتا ہوا ڈیرے سے باہر نکل گیا۔

تھوڑی دیرمیں صعوبیدار اپنے سپاہیوں کے ساتھ ڈیرے پرتھا۔ مائی باپ! آپ نے مجھے یاد کیا۔ ہاں صعوبیدار! ایک کام پڑ گیا ہے ۔ آؤ اندرچل کر بات کرتے ہیں۔ روئیداد خان کا سارا رعب جاہ و جلال پانی کی طرح بہہ گیا تھا۔ اندر کمرے میں پہنچ کر ساری کہانی صعوبیدار کو سنا دی۔ تم ابھی اپنے آدمیوں کولے کر نکلو میں اپنے کچھ محافظ تمھارے ساتھ کرتا ہوں جس چیز کی بھی ضرورت پڑے بتاؤ تمھیں مل جاۓ گی۔ مائی باپ فی الحال تو میں اپنے سپاہی لے کر جارہا ہوں۔ وہاں جاکر دیکھتا ہوں کیا صورتحال ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو آپ کے پاس اپنا آدمی بھیجوں گا۔

Urdu Afsana Shangal Episode 3 By Qaisar Hameed Ronjho

صعوبیدار نے صلح دی ٹھیک ہے صعوبیدارتم جاؤ اور نکلنے کی تیاری کرو۔ روئیداد خان کی بات سن کر صعوبیداراٹھا اور روئیداد خان کے سامنے جھکا پھرالٹے قدموں چلتا ہوا باہر نکل گیا۔ صعوبیدار نے دوسپاہی ساتھ لیے اورایک کھوجی جو پاؤں کا کھرا اٹھانے کا ماہر تھا ساتھ لیا روانہ ہوگیا۔ صعوبیدار جنگل پار کرکے پہاڑوں کے دامن میں پہنچا رات کافی بیت چکی تھی اس نے صبح کا انتظار کرکے دن کی روشنی میں آگے بڑھنے کا سوچا۔ سب گاڑی سے اتر کر ہموار زمین پر لیٹ گۓ۔

بالاچ نے رات کا کھانا بےدلی سے کھایا اور نیند کا بہانہ کرکے لیٹ گیا۔ گزشتہ دن کی تھکاوٹ اور رتجگے کی وجہ سے وہ جلد نیند کی وادی میں محو سفر ہوگیا۔ باباجی نے اسے جگایا تو سویرا ہوچکا تھا۔ سورج اپنی روشنی سے دھرتی کو منور کر رہا تھا۔ ناشتہ سے فارغ ہوکر وہ باہر کونکلا آج اس نے تہیہ کرلیا کہ وہ شانگل سے بات کرکے اسکی رضا معلوم کرکے واپسی کا قصد کرے گا۔ وہ سیدھا اسی جگہ پہنچا جہاں شانگل بھیڑ بکریاں چراتی تھی۔ آج جلد وہ شانگل کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگیا۔

سلام کیا اور اس کا حال احوال پوچھنے لگا۔ شانگل اسکی باتوں کا جواب تو دے رہی تھی لیکن بجھی بجھی سی نظرآرہی تھی۔ آج میں واپس اپنے شہر جارہا ہوں۔ وہ بات کرکے شانگل کے چہرے کو کھوجنے لگا۔ بابوجی! اتنی جلدی؟ ہاں جانا تو ہےجلد یا دیر سے کیا فرق پڑتا ہے۔ شانگل کا چہرہ اس کے اندر کے احساسات کوعیاں کررہا تھا لیکن شاید وہ اپنا آپ چھپانے کے فن سے بخوبی واقف تھی اس لیۓ خاموش رہی۔ شانگل کل میں نے تم سے کچھ کہا تھا؟ مجھے یاد نہیں کیا کہا تھا بابوجی!

شانگل جھوٹ کیوں بول رہی ہو؟ میں جھوٹ کیوں بولوں گی بابوجی! ٹھیک ہے تمھیں یاد دلاتا ہوں۔ جی بابوجی! شانگل مجھے تم سے محبت ہوگئ ہے اورمیں تمھیں اپنانا چاہتا ہوں۔ لیکن بابوجی آپ توآج واپس جارہے ہو؟؟ ارے پگلی میں واپس شہر جارہا ہوں اورچند دن تک واپس آجاؤں گا۔ لیکن تم یہ تو بتاؤ کہ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہویا نہیں۔ شانگل چپ چاپ بیٹھی انگلی سے زمین پرآڑھی ترچھی لکیریں کھینچ رہی تھی۔ بالاچ تھوڑی انتظار کرتا رہا پھر اٹھ کر روانہ ہوا۔

کہاں جارہے ہو بابوجی! شانگل کی آواز نے بالاچ کے بڑھتے قدم روک دیئے۔ واپس جارہا ہوں اپنے شہر۔ ہمیں چھوڑکرجارہے ہو بابوجی۔ بالاچ ایکدم شانگل کی طرف مڑ گیا وہ نظریں جھکاۓ کھڑی تھی۔ بالاچ واپس چلتا ہوا اسکے سامنے کھڑا ہوگیا دوبارہ کہو کیا بولا تھا تم نے؟؟ شانگل چپ کھڑی تھی بالاچ کو اسکی سانسوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ بولوگی بھی شانگل یا میں چلا جاؤں ؟ نہیں بابوجی! کہہ کر شانگل بالاچ کے سینے سے لگ گئی۔

Urdu Afsana Shangal Episode 3 By Qaisar Hameed Ronjho

بالاچ کچھ پل تو سمجھ نہ سکا کہ کیا ہوا ہے۔ جب اوسان بحال ہوۓ تو شانگل کو بانہوں میں کس لیا۔ شانگل کا جسم بانہوں کے گھیرے میں ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔ بالاچ سوچ رہا تھا کہ کاش وقت تھم جائے اور یونہی عمر بیت جائے۔ بالاچ نے کندھوں سے پکڑ کر شانگل خود سے الگ کیا۔ شانگل کی نظریں جھکی تھیں لرزتی جھکتی پلکوں سے پیار کے موتی چھلک رہے تھے۔ بالاچ نے بڑھ کر پلکوں پر اپنے پیار کی مہر ثبت کردی۔ جسموں کے پل دو پل کے اس ملن میں روحوں نے صدیوں کا سفر طے کرلیا تھا۔

دونوں چپ کھڑے خاموشی کی زبان میں باتیں کررہے تھے۔ اس خاموشی کو بالاچ نے توڑا! شانگل میں سالوں سے بھٹک رہا تھا آدھا ادھورا تن لیۓ اپنے آپ کو تلاش کر رہا تھا آج تم نے مجھے مکمل کر دیا ہے۔ اب زندگی کا باقی ماندہ سفر تمھارے سنگ بتانا چاہتا ہوں۔ بولو ساتھ دوگی میرا۔ بابوجی! میں عورت ذات ہوں اس معاشرے کی کمزوراور ریتوں، رسموں میں جھکڑی بے بس ہوں میرے وجود کے گرد نادیدۂ حصاروں کا جال بنا ہوا ہے۔ میں اپنا وجود تمھیں سونپ چکی ہوں اس بڑھ کر اور کیا چاہتے ہو مجھ سے۔

شانگل کے کھلے اظہار محبت نے بالاچ کے تشنہ وجود کو سیراب کردیا اوروہ مہبوت اس پہاڑی دوشیزہ کے اقرارمحبت میں سرشار اس کے گلابوں سے مہکتے، شبنمی دمکتے حسین کومل بدن کو دیکھ رہا تھا جسے بنانے والے نے فرصت کے لمحوں میں بنایا تھا۔

Urdu Afsana Shangal Episode 3 By Qaisar Hameed Ronjho

بالاچ کو آج واپس اپنے شہر جانا تھا لیکن اب تو دل نہیں کررہا تھا شانگل سے دور جانے کو۔ دل پہ جبر کرکے شانگل سے اجازت مانگی۔ بابوجی! جارہے ہو لیکن یاد رکھنا جوسپنے ان آنکھوں میں سجاۓ ہیں انکی لاج رکھنا یہ آنکھیں سدا تیری واپسی کی منتظر رہیں گی۔ میری سانسیں اب تم سے جڑی ہیں میں مر جاؤں گی اگر تم جلد لوٹ کر نہ آۓ۔ شانگل میں وعدہ کرتا ہوں کرتا جلد لوٹ کر آؤں گا ہمیشہ ہمیشہ کیلیۓ پھر ہم دونوں ہونگے اور ہمارا پیار ہوگا۔

جاؤ بابوجی رب تیری حفاظت کرۓ اس سے پہلے کہ یہ ان آنکھوں کی روشنی گل ہو واپس لوٹ آنا۔ بوجھل دل کے ساتھ بالاچ جھونپڑوں کی جانب لوٹنے لگا۔ باباجی سے مل کر اپنی واپسی کا بتایا۔ تو باباجی نے اسے گلے لگا کر اجازت دی اور کہنے لگا ! بیٹا تمھارا اپنا گھر ہے جب دل چاہے چلے آنا۔ باباجی کی بات سن کر بالاچ کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور وہ باباجی سے لپٹ گیا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *