Urdu Afsana Shangal By Qaisar Hameed Ronjho

Urdu Afsana Shangal

(اردو افسانہ شانگل (دوسری قسط

تحریر: قیصر حمید رونجھو

نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی حالانکہ دن بھر سفر کی تھکاوٹ کی وجہ جسم تھکن سے چور چورتھا۔ کروٹیں بدلتے بدلتے نجانے کتنی رات بیت چکی تھی۔ لالٹین کی روشنی مدھم ہوچکی تھی باہر کالی رات کے پرآسیب سناٹے کا کہر چھایا ہوا تھا۔ گیڈروں کے چیخنے چلانے کی آوازیں اور کتوں کے بھونکنے کی آواز ماحول کو ڈراؤنا بنا کر رہی تھی۔ بالاچ کے دل کی عجیب کیفیت تھی۔ اچانک باہر سے دھیمی سرگوشیاں سن کر وہ چونکنا ہوگیا۔

کہ اچانک بابا جی کی تیز اور گرج دارآواز کانوں سے ٹکرائی ! کہاں جارہے ہو تم لوگ۔ تھوڑی دیرسناٹا چھا گیا کہ پھر بابا جی کی آواز سنائی دی، یہ تم لوگوں کے ہاتھوں میں ہتھیار کیوں ہیں جواب دو مجھے کیا ارادہ ہے تم لوگوں کا ! اچانک بالاچ کی سماعت ایک اور ٹکرائی۔ بابا سائیں ہمارا دشمن ہمارے سامنے ہے، ہم سالوں سے بدلے کی جس آگ میں جل رہے آج اس کے خون سے اپنی آگ کو ٹھنڈا کریں گے۔

Urdu Afsana Shangal

سوزل ! تم ہوش میں تو ہو وہ ہمارا مہمان ہے۔ بابا جی کی تیز آوازآئی نہیں بابا سائیں نہیں! یہ روئیداد خان کا بیٹا ہے اور روئیداد خان ہمارا قاتل ہے بابا سائیں خون کا بدلا خون ہم اس کے بیٹے کو مار کرحساب برابر کریں گے۔ سوزل ! تم بھول رہے ہو ہمارا دشمن روئیداد خان ہے اسکا بیٹا نہیں اوروہ اس وقت ہمارا مہمان ہے ہمارے قبیلے کی ریت ہے کہ ہم گھر آۓ مہمان کی حفاظت کیلیۓ اپنی جان قربان کر دیتے، بابا جی کی آواز گونجی۔

اور یاد رکھو سوزل میں قبیلے کی رسموں روایتوں سے بغاوت نہیں کرسکتا یہ جتنے دن تک ادھر ہے کوئی اسکا نام نہیں لے گا۔ اگر اسکو کچھ ہوگیا تو کان کھول کر سن لو قبیلے کے روایتوں کے باغی کی سزا موت ہے۔ بابا جی کہ آواز جوش کے مارے کانپ رہی تھی۔ کچھ دیر سناٹا چھایا رہا باہر ہونے والی باتوں نے بالاچ کے رونگھٹے کھڑۓ کر دیئے تھے۔ روئیداد خان ہمارا قاتل ہے، روئیداد خان ہمارا قاتل ہے۔

بالاچ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے مسلسل رو رہا تھا۔ یا خدا یہ کیا ہوگیا سہہ پہر سے اب تک سجاۓ گئے سہانے خواب چکنا چور ہوچکے تھے ان ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں اس کے وجود کو چھلنی کر رہی تھی۔ آنسو نکل نکل اسکے گالوں سے نیچے بہہ رہے تھے مسلسل بے آواز رو رہا تھا۔ نجانے کتنی دیر بیت چکی تھی لالٹین کے ذرد شعلے کو تکتے تکتے اس نے ایک فیصلہ کرلیا تھا۔

Urdu Afsana Shangal

بالاچ کو حاجت ضروریہ محسوس ہوئی تو باہر نکلا، وہ حیران رہ گیا بابا جی بیٹھے چلم کے کش بھر رہے تھے۔ قدموں کی چاپ سن کر باباجی بالاچ کی طرف متوجہ ہوئے۔ بیٹا خیریت تو ہے کہاں جارہے ہو؟ بالاچ نے اپنا مدعا بیان کیا اورباباجی سے مخاطب ہوا آپ ابھی تک جاگ رہے ہو؟ ابھی ابھی آنکھ کھلی ہے میری باباجی نے پانی کا لوٹا بالاچ کو تھما دیا اوراس کے ساتھ جھونپڑوں سے باہر آگیا اورایک طرف اشارہ کرکے کہا بیٹا میں ادھر رکتا ہوں تم آرام سے حاجت پوری کر آؤ۔

بالاچ اب پرسکون ہوچکا تھا واپس باباجی کے پاس آیا تو اسوقت اذان کی آواز آرہی تھی جب دونوں چلتے ہوئے جھونپڑوں کے پاس پہنچے تو کئی جھونپڑوں میں آگ جل رہی تھی۔ بالاچ نے پوچھا! باباجی آپ لوگ اتنی جلدی اٹھ جاتے ہو؟ جی بیٹا اذان کے ساتھ اٹھ جاتے ہیں کیونکہ سویرے کام پر جانا ہوتا ہے۔ دونوں جھونپڑے میں پہنچ چکے تھے اب، باباجی کیا کام کرتے ہیں یہاں کے لوگ؟

بیٹا ادھر پہاڑوں سے پتھر نکلتا ہے آس پاس کے سب لوگ کان میں کام کرتے ہیں۔ بیٹا میں نماز پڑھ کر آتا ہوں بابا جی باہر نکل گئے۔ رات ہونے والا واقعہ ابھی تک بالاچ کے دماغ میں ہلچل بپا کررہا تھا۔ باباجی واپس آئے تو بڑی سی کیتلی اور پیالے ہاتھ میں تھے دونوں چائے پینے لگے کہ ایک عورت اندرداخل ہوئی اورآکر دسترخوان بچھایا، مکھن میں چُپڑی ہوئی روٹیاں اورتازہ تازہ چھاچھ تھی۔

Urdu Afsana Shangal

نئے اور انوکھے ناشتے سے فراغت کے بعد بالاچ نے باباجی سے کہا! باباجی میں گھوم پھرکر یہ علاقہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ ضروربیٹا شوق سے دیکھو تمھارا اپنا گھر ہے۔ جب سورج نکل آیا تو بالاچ باہر نکلا آس پاس وہی بچے کھیل رہے تھے۔ اب وہ جھونپڑوں سے باہرآگیا تھا اسکی نظر گدھوں کی قطار پر پڑی بڑے بڑے کین لدے ہوئے تھے گلے میں پڑی گھنٹیاں عجب ردھم سے سر بنا رہی تھی۔ انکے پیچھے عورتیں چلی آرہی تھیں جن کے سروں پر مشکیزے تھے۔

بالاچ گھومتے پھرتے چشمے تک پہنچ گیا اور ہاتھ منہ دھوکر تازہ دم ہوا۔ وہ بڑے پتھر پر بیٹھا سوچ رہا تھا کہ وہ اس وقت اپنے دشمنوں میں ہے رات تو باباجی ڈھال بن گئے تھے اور بالاچ کو یقین ہوگیا جب اس نے بتایا کہ وہ سردارروئیداد خان کا بیٹا ہے تو انکے خاموش ہونے کی وجہ یہی تھی باباجی کو اسی وقت اندازہ ہوگیا ہوگا کہ کہیں یہ لوگ بالاچ کو نقصان نہ پہنچائیں اس لیے باہر بیٹھ پہرا دیتا رہا۔

چھوٹے کنکر پانی میں پھینکتے پھینکتے کافی دیر تک بالاچ پتھر پر بیٹھا رہا۔ اچانک اسکی نظر پہاڑ پرچرتی بھیڑ بکریوں پر پڑی تو یک دم اس لڑکی کا سراپا آنکھوں کے سامنے گھوم گیا ضرور وہ بھی ادھر ہی ہوگی۔ چھلانگ لگا کر وہ اٹھا چلنے لگا کافی دیرریوڑ کے آس پاس بھٹکتا رہا۔ بابوجی ! کیا تلاش کر رہے ہو؟ آواز سن کراسکے لبوں پرمسکان چھا گئی اسے گوہر مقصود حاصل ہوچکا تھا۔

Urdu Afsana Shangal

وہ میں تت ت تمھیں میرا مطلب ہے تمھاری بکریوں کو دیکھ رہا تھا۔ مڑ کراس نے جواب دیا لڑکی کی کھنکتی ہنسی کی آواز آئی تو اتنے پریشان کیوں ہو؟ نہیں تو میں پریشان ہرگز نہیں بس اچانک تمھاری آواز سے ہڑ بڑا گیا تھا۔ اب بالاچ سنبھل چکا تھا۔ تمھارا نام کیا ہے؟ بالاچ نے پوچھا جی شانگل ہے میرا نام، شانگل بالاچ نے زیرِلب دوہرایا بہت پیارا نام ہے تمھارا آپکا نام کیا ہے بابوجی اور کہاں سے آئے ہو؟ لڑکی بڑے اعتماد سے بات کررہی تھی بالاچ نام ہے اور سون پور سے آیا ہوں۔

وہ کافی دیر ادھر اُدھر کی باتیں کرتا رہا۔ تم سردارروئیداد خان کو جانتی ہو؟ بالاچ نے پوچھا شانگل چونک کربالاچ کی جانب دیکھنے لگی۔ بابوجی تم کیوں پوچھ رہے ہو؟ ایسے ہی کیونکہ وہ بڑا سردار ہے سون پور شہر کا بالاچ نے سرسری جواب دیا اور حقیقت چھپائی کیونکہ اسے حقیقت جاننا تھی۔ جی بابوجی نام سنا ہے پرکبھی دیکھا نہیں۔ کیوں وہ کبھی ادھر آیا نہیں؟ بالاچ نے سوال کیا۔ شاید پہلے آتا تھا پراب نہیں کیونکہ وہ شانگل کہتے کہتے رک کر بالاچ کی طرف دیکھنے لگی۔

وہ کیا آگے بولو نہ رک کیوں گئ ؟ بالاچ نے کہا تو شانگل نے بولنا شروع کیا بالاچ کے چہرے پر کئی رنگ آتے رہے۔ بابو جی! یہ اسوقت کی بات ہے جب میں دودھ پیتی بچی تھی۔ اس وقت باہر کے کچھ لوگ ادھر آۓ پہاڑوں سے پتھر تلاش کرنے میرے بابا ان کے منشی تھے۔ وہ اکثر ٹھیکیدار کے ساتھ شہر آتے جاتے تھے۔ ایک دن بابا ٹھیکیدار سے ملنے علی الصبح شہر کو روانہ ہوئے ٹھیکیدار کے پاس پہنچےتو اسکے ساتھ ایک اورآدمی بیٹھا تھا۔ ٹھیکیدار نے بابا کو بتایا کہ یہ سردار روئیداد خان ہیں۔

Urdu Afsana Shangal

یہ ہمارے ساتھ چل کر سب جگہوں کا معائنہ کریں گے پھر جوسازو سامان اور مشینری درکار ہوگی اس سلسلے میں حکومت سے بات کرکے جلد کام شروع کریں گے ۔ بابا ٹھیکیداراور روئیداد خان کے ساتھ شام کو آئے روئیداد خان اور ٹھیکیدارتو پہاڑوں کا معائنہ کرنے چلے گئے بابا گھر پرانکے لیۓ کھانے پینے کا بندوبست کرنے لگے۔ اس وقت ہمارے ریوڑ کے ساتھ پھپھواورمیرے چھوٹے چاچا جاتے تھے۔ شام کو بکریاں تو واپس آگئیں لیکن چاچا اور پھپھو دونوں نہیں آۓ۔

اور نہ روئیداد خان اور ٹھیکیدار واپس آئے۔ جب رات ہوئی تو بڑے بابا سائیں چاچا اور بابا دونوں کی تلاش میں نکلے کافی تلاش کے بعد چاچا کی لاش ملی اسے چاقو سے مارا گیا تھا پھر پھپھو ایک غار میں زخمی حالت میں تھی وہ زندہ تھی لیکن اسکی حالت بہت خراب تھی۔ پھپھو اور چاچا کی لاش کو گھر لے آئے حکیم کو بلایا گیا تو اس نے پھپھو کو دیکھ کر کچھ دوا دارو کی لیکن شہر لے جانے کا مشورہ دیا۔

بابا نے ایک آدمی کو ساتھ لیا شہر کو روانہ ہوئے جبکہ باقی چاچا کے کفن دفن کا بندوبست کرنے لگے جب راستے میں پھپھو کو ہوش آیا تو اس نے بابا کو بتایا کہ دو آدمی آئے تھے ہم سے پانی مانگا مجھ دیکھ کرانکی نیت خراب ہوگئی اور ایک آدمی نے میرے ساتھ دست درازی کی باؤ کو غصہ آیا اس کے ساتھ لڑنے لگا جسکی وجہ اس آدمی نے باؤ کو چاقو مارے باؤ گرگیا تو مجھے غار میں لے گئے۔

Urdu Afsana Shangal

پھپھو نے آدمی کا جو حلیہ بتایا تھا وہ سردار روئیداد خان تھا۔ کیونکہ وہ واپس بھی نہیں آئے جبکہ رات انکو ہمارے گھر ٹھہرنا تھا۔ پھپھو کو ہسپتال پہنچا کر بابا ٹھیکیدار کے پاس پہنچے اسکو دیکھ کرجوش میں اسے قتل کردیا اوروہاں سے روئیداد خان کی طرف گئے۔ لیکن اکیلا اور خالی ہاتھ ہونے کی وجہ بابا کو روئیداد خان کے آدمیوں نے ماردیا۔ پھروہ آدمی جو پھپھو کے ساتھ گیا تھا کسی طرح بابا کی لاش اور پھپھو کو واپس لے آیا پھپھو بھی ٹھیک نہ ہو سکی اور کچھ دن بعد ہی اس دنیا چلی گئی۔

ایک دم ہی ہمارا سب کچھ ختم ہوگیا، بابا، چاچا اورپھپھو ایک ساتھ چلے گئے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *