Urdu Afsana Qasor By Mahmood Ansari

Urdu Afsana Qasor

قُصُور

از قلم: محمود انصاری

“میرا کیا قصور”

اُس کی خاموشیاں یہی سوال کررہی تھیں۔ تصویر دیکھتے ہی مجھے کل کی شام یاد آئی جب وہ سر پر دوپٹّہ رکھے، نظریں جُھکائے ہمارے درمیان آبیٹھی تھی۔ میرے ہاتھوں کی انگلیوں نے اُس کی تصویر کو تھام رکھا تھا لیکن ذہن میں اُمنڈتی سوچوں کے سیلاب کو تھامنا میرے بَس میں نہ رہا۔ میرے ذہن کے پردے پراُسکی تصویر میں نِدا فاروقی کی صورت اُبھرتی گئی اور میں حال سے ماضی کا سفر کرنے لگی۔

گریجویشن کے تینوں سال پہلا مقام پانے والی، گہری آنکھوں اور مُسکراتے چہرے والی نِدا… یوں تو بیٹیاں نعمتِ خداوندی سے تعبیر کی جاتی ہیں لیکن جب یہی بیٹیاں غریب گھرانوں میں جوانی کی دہلیز پر پہنچتی ہیں تو والدین کی فکریں بڑھ جاتی ہیں۔ اپنی خواہشوں کو قربان کر کے اِن کی پرورش کرنے والے والدین بیٹیوں کو گھروں سے با عِزّت رخصت کرنے میں دیری نہیں کرتے۔

Urdu Afsana Qasor

گریجویشن میں نمایاں کامیابی کے بعد تو نِدا کی امّی، بیگم فاروقی نے باقاعدہ رشتہ داروں میں اعلان ہی کروا دیا تھا کہ جلد سے جلد نِدا کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں تا کہ اِسکے بعد زیبا اور ہُما کے لیے راہیں ہموار ہوجائیں۔ مہینوں گزر جانے پر بھی کسی رشتہ دار نے پہل نہ کی تب محّلے کی مشہور کَمُّو خالہ کو نِدا کا ہمسفر ڈھونڈنے کی ذمّہ داری سونپی گئی۔ خالہ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہوں نے بہت سارے گھرانوں میں رشتہ داریاں بڑھائی تھیں۔

گلی کے کون سے گھر میں کس کی بیٹی کی کتنی عمر ہوئی؟ بیٹے نے کیا پڑھائی مکمل کی؟ کس کے گھر میں کتنے لڑکے لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچے؟ ساری معلومات اُنکے خزانہء علم میں موجود ہوتیں۔ “کَمُّو! ہم تو سوچ رہے تھے کہ اپنے خاندان میں ہی نِدا کی شادی کردیتے لیکن رشتہ دار بجائے اِس کے، اِسکی بہنوں کے لیے پوچھ رہے ہیں۔

بیگم فاروقی کے ہاتھوں سے نِدا کی تصویر لیتے ہوئے کَمُّو خالہ نے لمبا سا ہممم کیا جو نِدا سمجھ نہ سکی کس بات کا اشارہ تھا۔ “اب بڑی کا گھر بَس جائے تب ہی تو چھوٹی بیٹیوں کا سوچیں گے ناں، تُو کچھ کر” بیگم فاروقی نے بات بڑھائی اور خالہ نے حامِی بھرتے ہوئے تصویر کو پلّو میں چُھپالیا۔ دو ہفتے ہی گزرے تھے کہ ایک دن تین عورتوں کے ہمراہ خالہ مہمان خانے میں محوِ گفتگو دیکھی گئیں اورتب سے یہ سلسلہ چل پڑا تھا۔

Urdu Afsana Qasor

کبھی تین چار تو کبھی پانچ سات عورتیں گھر آتیں۔ اِنکے لیے ہرممکن انتظامات کیے جاتے۔ سلام دعا اور حال و احوال سے ہوتی ہوئی گفتگو خاندانی رشتوں اور قریبی تعلقات تک پہنچتی اور بات سے بات بڑھتی ہوئی حُسن و جمال اور خوبصورتی کے طلبگاروں کی عدالت میں نِدا کی پیشی پر تمام ہوجاتی تھی۔ مہمانوں کے رخصت ہوتے ہی بیگم فاروقی گہری سوچ و فکر میں ڈوب جایا کرتیں۔ اور اُس رات اُن کے کمرے سے دیر گئے تک باتوں کی ہلکی آوازیں آتی رہتیں جو اُن کی سِسکیوں پر ختم ہوجایا کرتی تھیں۔

زیبا اور ہُما کی اُٹھتی سوالیہ نظروں سے نِدا دِل مَسوس کر رہ جاتی۔ اُس کی خاموشی سے اُن دونوں کے چہرے مایوسیوں میں دُھندلا جاتے اور نِدا خود سے دریافت کیا کرتی.

“میرا کیا قصور؟”

Urdu Afsana Qasor

اسی طرح ہرروشن دن کو رات کی تاریک چادر ڈھانپتی رہی اور وقت گزرتا رہا۔ نِدا کا دل اندیشوں اور فکروں کی گَرداب میں پھنستا گیا۔ ذہنی بوجھ نے اُسے تنہائی کا مریض بنا دیا۔ اُس کی خاموش طبیعت اور ڈھلتی جسمانی حالت سے والدین مزید پریشان رہنے لگے تھے۔ دُنیا کی مشکلوں سے لڑنے کا حوصلہ رکھنے والا بھی اپنی اولاد کو تکلیف میں دیکھ کر بکھرنے لگتا ہے۔ اُن ہی دنوں دِل کا دورہ پڑنے پر نِدا کے ابّو کو علاقے کے فیضی ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ بیگم فاروقی کو بیٹے تو تھے نہیں اور قرابت داروں نے دامن سمیٹ رکھا تھا سو نِدا اِن کو سہارا دیتی ہسپتال میں ساتھ ساتھ رہی۔

دُشوار حالات میں جب وقت کسی شناسا سے غیر متوقع ملاقات کرواتا ہے تو سہارے کی امیّد وابستہ ہوجاتی ہے۔ فیضی ہسپتال میں حواس باختہ داخل ہوتے ہوئے نِدا جس شخص سے ٹکرائی تھی وہ اُسی کا ہم کلاس فیصل تھا جو کالج کے آخری دِن ہال سے نکلتے ہوئے بے اختیار نِدا سے ٹکرا گیا تھا تب بھی نِدا ہونقوں کی طرح اُسے دیکھتی رہی تھی۔ لمحوں کے اُس ٹکراؤ سے کالج کے دنوں کا لمبا سفر کرتے ہوئے جلد ہی دونوں فیضی ہسپتال لوٹ آئے تھے۔

“نِدا فاروقی, آپ یہاں؟

وہ!… میں….” اور الفاظ نِدا کا ساتھ نہ دے سکے تھے۔ شناساؤں کی ہسپتال سے دوری ہی چاہی ہے لیکن آپ کو یہاں دیکھ کر اچھا لگا۔ آئیے…” کیبن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل بڑھ گئے تھے۔ کیبن سے نکلتے ہوئے بیگم فاروقی اور نِدا کے چہروں سے پریشانی کی گَرد کچھ کم ہوچکی تھی لیکن گہری سوچ میں ڈوبی آنکھوں اور سُکڑتی بھنوؤں کے ساتھ پیشانی کے بَل ڈاکٹر کے خیالوں کی ترجمانی کررہے تھے۔

نِدا پر طاری خاموشی و اداسی اُن کے لیے حیران کُن تھی۔ ذہین, شوخ و چنچل لڑکی جس کی آواز دورانِ لیکچر کلاس روم اور کالج کی کینٹین میں سہیلیوں کے جمگھٹے، تقریری مقابلوں کے پلیٹ فارم اور شعر و شاعری کی محفلوں میں گونجا کرتی تھی اُسے کیونکر خاموشی کے دیمک نے چاٹ کر کھوکھلا کردیا ہے؟ کبھی اپنا ہم خیال ماننے والے فیصل نے نِدا کے بدلے حالات کی وجوہات کو پانا چاہا لیکن وقت نے اُنہیں ہسپتال کی ذمّہ داریوں میں مصروف کردیا تھا۔ ہفتوں علاج کے بعد خاطر خواہ افاقہ ہونے پر فاروقی صاحب کو ہسپتال سے رخصتی ملی تھی۔

Urdu Afsana Qasor

ایک شام بیگم فاروقی کے کہنے پر نہ چاہتے ہوئے بھی نِدا کو اُن ہی مراحل سے گزرنا تھا جِن سے اُسے نفرت ہوچلی تھی لیکن امّی کی باتوں سے انکار کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ اُسے چَاروناچَار مہمانوں کے سامنے آنا ہی تھا۔ ہنستے مسکراتے چہرے جب وقت کی دھوپ سے جُھلس جاتے ہیں تو اُداسیوں کی لکیریں چہرے پر نقش ہوجایا کرتی ہیں اور اُن کی موجودگی کو چُھپانا بڑا ہی مشکل ہوجاتا ہے۔ نِدا اُسی کٹھن راستے پر سفر کررہی تھی۔ مہمانوں میں بزرگ عورت نے اُس سے پوچھا تھا۔ “بیٹی! تُمہارے کالج کے نتائج قابلِ تعریف ہونے کے باوجود تُم نے پڑھائی کا سلسلہ کیوں منقطع کیا؟ تمہیں پڑھائی کرنی چاہیے تھی۔”

چاہتی تو نِدا بھی یہی تھی لیکن چاہتوں کو قربان کرنا ہی اُس کا نصیب تھا۔ بچپن سے جوانی تک والدین کی چاہتوں کے مطابق تعلیم حاصل کرنے میں خود کی چاہتوں کو سمجھ ہی نہ سکی تھی اور جوانی کی راہوں نے پَرائی چاہتوں کی تکمیل کا پیمانہ بنا دیاتھاکہ زندگی کے سفر میں ساتھ چلنےکےلیے بھی خود کی چاہتوں کا گَلا گھونٹنا تھا۔ مہمان جا چُکے تھے۔ اِس سے پہلے کہ نِدا پر خاموشیوں کے بادل چھا جاتے، بیگم فاروقی نے خلاصہ کیا تھا۔

“آئے ہوئے مہمانوں میں ڈاکٹر فیصل کی امّی اور قریبی رشتہ دار تھے۔”

نِدا عجیب کیفیت سے دوچار تھی۔ انکار اور محرومیوں کا طویل سفر طئے کرتے ہوئے احساس کے پودے مرجھا رہے تھے کہ انہیں نئی زندگی دینے کے لیے پرانے دِنوں کا کوئی ساتھی نکل آیا تھا۔ اُس رات بیگم فاروقی کے کمرے سے باتوں کی آوازیں آتی رہیں جو سِسکیوں کے بِناء ہی خاموش ہوگئیں اور نِدا نے کروٹیں بدلتے ہوئے شب گزار دی۔ ہر ابتداء کو گزرتا وقت تکمیل اور خاتمے کے قریب کرتا ہے۔ سالوں قبل شروع ہوا سفر طئے کرتے ہوئے نِدا فاروقی، بیگم فیصل بن کر اُن کے آشیانے پہنچ گئی اور خوشیوں کے پنچھی نِدا کے دامن میں اُترنے لگے تھے۔

موسمِ بہار میں پیڑوں پرآئی ہریالی کو دیکھ کر کسی کو اِس بات کا احساس نہیں رہتا کہ انہیں پیڑوں کو خِزاں کی سختی نے زردی عطا کی تھی۔ دونوں جوان بیٹوں کی کامیابی سے نِدا کے چمن میں بہار آگئی تھی۔ شہروز نے ڈاکٹری مکمل کرتے ہی اپنے ابّو کے ساتھ پریکٹس شروع کردی اور شمائل نے تعلیمی ادارے میں معلم کی نوکری کرلی۔ بچّے خودکفیل کیا ہوئے خاندان اور تعلقات والوں نے رشتہ داری بڑھانے کی کوششیں تیز کردیں۔ پُرانے رشتوں میں نئی جان ڈالنے کے لیے خیر خیریت کے فون شروع ہوگئے۔

حیلے بہانے سے مہمانوں کی آمدورفت ہوگئی۔ قرابت دار ذمّہ داریوں کا احساس دلانے لگے۔ چند ہی مہینوں میں کئی لڑکیوں کی تصویریں نِدا تک پہنچائی گئ تھیں۔ والدین اُنہیں شہروز اور شمائل سے منسلک کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے تھے اور نِدا ایک بار پھر ٹوٹتے جُڑتے رشتوں کی ڈور میں الجھ رہی تھی۔

“کیا دیکھ رہی ہیں امّی؟”

بڑے بیٹے شہروز کی آواز نے اچانک ہی میرے خیالوں کے تسلسل کو توڑ دیا۔ “بیٹا! اس لڑکی کی سلیقہ مندی، سمجھداری اور سنجیدگی نے کافی متاثر کیا، اِسی کے بارے میں سوچ رہی ہوں” اِس موقع کو مناسب خیال کرتے ہوئے میں نے بات بڑھائی۔ “اچھا! ہماری امّی کی دور اندیش اور تجربہ کار نگاہوں میں ٹھہر جانا اور اِنکی سوچوں میں جگہ پانا واقعئی اِس لڑکی کی قابلیت کا کمال ہے۔

Urdu Afsana Qasor

لیکن اِس میں اتنا سوچنے والی کیا بات ہے امّی؟” اگر ازدواجی رشتوں کی عمارت صِرف صلاحیت اور قابلیت کی بنیاد پر تعمیرہوتیں تو سوچنے کی بات نہ ہوتی۔ میں کچھ توقف سے بول پڑی۔ “بیٹا! لڑکی دیگر باتوں میں بہت ہی قابل ہے لیکن رنگ و روپ اور حُسن و جمال میں کمزور ہے۔

شہروز کے جواب نے ایک اور نِدا کو ٹوٹنے سے بچا لیا اور میں اپنی تربیت پر مطمئن ہوگئی۔ اُس کے الفاظ میرے کانوں میں جَم سے گئے۔ امی مجھے ایک نیک سیرت پڑھی لکھی قابل اور سمجھدار شریکِ حیات چاہیے جو زندگی کے مراحل میں میرے شانہ بہ شانہ چل سکے، مجھے کوئی شو پیس نہیں چاہیے۔

اگر لڑکی سانولی اور عام صورت ہے تو اِس میں اِس کا کیا قصور”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *