اردو افسانہ حصار | تحریر ارویٰ سجل

اردو افسانہ حصار

تحریر:ارویٰ سجل

اردو افسانہ حصار…  سرد ہوائیں بدلتے موسم کا سندیسہ دے رہی ہیں لیکن اب کے بار نجانے کیوں مجهے یہ موسم بہت چبهہ رہا ہے، میرا بس نہیں چلتا میں کیسے ایک جست میں سرما کے یہ چند ماہ عبور کر لوں. جی چاہتا ہے مرے اندر جو یہ بے چینیاں پل رہی ہیں میں انکی گهٹن اوڑهہ کے یا تو ہمیشہ کیلئے سو جاؤں کہ سارےموسموں سے بے ربط ہو جاؤں۔
یا پهر سو سال کیلئے کومہ میں چلی جاؤں اور ادهہ مری کسی ہاسپٹل کے آئی سی یو میں پڑی رہوں جہاں کوئی روز مجهے شیشے کے اس پار سے دیکھ کر آنکهوں سے زیارت کر کے کسی سراب کیطرح چهو لینے کی ناکام خواہش لیکر مضطرب سا ہو کر تهکے قدموں روز لوٹ جایا کرے۔وہ جب جب مجهے دیکهنے آئے نیم مردہ حالت میں بهی مجهے اسکے قدموں کی دهمک محسوس ہو۔

شیشے پہ رکهے اسکے ہاتهوں کا لمس مجهہ تک پہنچے اسکی گرم سانسیں مجهے ایک احساس دیں اور ان سانسوں سے نکلتا دهواں شیشے پہ ثبت ہوتا مجهے دکهائی دے  وہ شیشے پہ اپنی سانسوں کی نمی سے روز میرا نام لکهے اور شکست خوردہ لوٹ جائے۔

اردو افسانہ حصار

ہے نا کتنا تکیلف دہ منظر ہو گا نا اور کتنا مزہ آئیگا جب وہ روز اس کرب سے گزرے گا اور کچهہ نہیں تو کم از کم اسے احساس تو ہو گا نا کہ کوئی اسکیلئے بهی اتنی اذیت کاٹنے کے بعد اس حال میں پہنچا ہے۔ایک آنسو دهیمی سی انتقامی مسکراہٹ کے ساتهہ گرا اور تکیے میں کہیں جذب ہو گیا ناکامی انتقام کی آگ بهر دیتی ہے یہ تو کبهی سوچا بهی نہیں تها.

لیکن کبهی سوچا کہ جب وہ تمہیں دیکھ کر اس درد اس اذیت سے دوچار ہوگا تو کیا تمہیں کچهہ نہیں ہو گي وہ جب جب آئیگا اس کے بے چین قدموں کی آہٹ تمہیں محسوس ہوگی بے حس و حرکت ایک جسم کی روح اندر ہی اندر مضطرب ہو گی۔
اس کے آنسو تمہارے دل پہ گریں گے،اسکے ہاتهوں کی پوریں جب جب تمہیں چهونے کی خواہش میں شیشے سے ٹکرائیں گی۔ تمہارے اندر بهی ایک انگڑائی کروٹ لے گی اور تم چاہ کر بهی بے بس ہو گی گو کہ تب بهی وہ تمہارے گرد اپنا حصار باندهہ جائیگا.. ہے نا؟؟ہہہن… کیا کہا؟؟ شاید ہاں

حصارٹهیک کہا تم نے، میں اسکے حصار سے نکلی کب ہوں یہ اسکا حصار ہی تو ہے جس سے باہر آنے کی کوشش کبهی جینے کی خواہش چهین لیتی ہے تو کبهی اس سے انتقام پہ اکساتی ہےتم جانتے ہو مجهے اکتوبر سے خوف آتا ہے کہ اس نے اسی اکتوبر میں مرے گرد اپنا حصار باندها تها۔

اردو افسانہ حصار

اور نومبر میں نے اسی حصار میں جنت سمجهہ کے گزارا تها اور دسمبر(آنسوؤں کی لڑی پهر آنکھ سے رواں ہوئی) ہاں بولو کیا ہوا دسمبر میں۔ سارا منظر پهر سامنے آگیا جب اس نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر بولا تها دیکھ لو تمہارے ہاتھ سرد ہیں، پهر اسکی وہ بے نام مسکراہٹ محبت بهری آنکهیں اسکی سانسیں وہ لب۔.(میں تم سے محبت کرتا ہوں اس لئے لب چومنا میرا فرض تها)

وہ چائے جسکا ایک گهونٹ مجهے لینے کو کہا گیا تها اور باقی کی چائے تبرک سمجهہ کے پی تهی اس نے.. (آنسو اب بهی رواں تهے)ارے کہاں کهو گئی ہو.. میں نے پوچها کیا ہوا تها دسمبر میں؟؟ وہ چونکی…کیا؟ کچهہ نہیں.. اچها تم اب جاؤمیں جا کر بهی تمہارے ساتهہ ہی ہوں گا۔

سچ بتاؤیہ آنسو یہ گہری سوچیں، ابهی بهی اسی کے حصار میں تهی نا تم؟؟؟اس نے صرف اثبات میں سر ہلایاتو بات صرف اتنی سی ہے کہ تم نے اس سے محبت کی ہے اور محبت کا حصار بہت مضبوط ہوتا ہے.تم جینے کی خواہش کرو یا مرنے کی۔موسموں کے آنے پہ نالاں ہو یا خوش اس حصار کو نہیں توڑ سکتی۔
اچها اب سو جا میں چلتا ہوںوہ اتنی دیر سے اپنے ضمیر سے لڑتے لڑتے تهک گئی تهی جو شاید اسے اسکو بهول کر جینے کی ترغیب دے رہا تها لیکن اس حصار  سے باہر نہ آ سکنے کا احساس بهی دلا رہا تها اور وہ اس سے ہارنے کے موڈ میں نہیں تهی۔
باہر بارش گرج چمک کے ساتهہ اپنے عروج پر تهی”سرما کی پہلی بارش ہے اور میں پهر تمہارے خیال، تمہاری محبت کے حصار میں ہوں”تکیے سے لپٹ کر وہ بے بس سی ہو کر رو دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *