Urdu Afsana Chehray By Yaseen Ahmad

      No Comments on Urdu Afsana Chehray By Yaseen Ahmad
Urdu Afsana Chehray
انتخاب: محمد اویس
شہر میں دو دن سے کرفیو نافذ تھا۔اس کر فیو نے شہر کی ساری رونق ،ساری ہماہمی کو تہس نہس کر دیا تھا۔ جاگتا، جگمگاتا شہر، شہر خموشاں بن گیا تھا۔ بازار بند، ٹریفک کا شور وغل ساکت، انسانوں کی آمدورفت ندارد، سڑکوں پر سناٹا اور خوف۔ اُس سرکاری ہسپتال میں بھی اس وقت سناٹے کی حکمرانی تھی۔ ایمرجنسی وارڈ میں بھی گہری خاموشی طاری تھی۔
بیشتر مریض بستروں پر لیٹے ہوئے کروٹ بدل رہے تھے یا آنکھیں بند کیے نیند کو منانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ ان کے اٹنڈرس نیچے فرش پر لیٹے ہوئے یا کرسی پر بیٹھے بیٹھے اونگھنےلگےتھے۔ اعصاب پر بیرونی اور اندرونی دباؤ، ماحول کشیدہ اور ذہنوں پر بوجھ ہو تو نیند کہاں آتی ہے؟ اُس ایمرجنسی وارڈ کر ڈیوٹی ڈاکٹر نے دو نرسوں کے ساتھ وارڈ کا چکر لگایا اور پھر آکر کرسی پر بیٹھ گیا۔Urdu Afsana Chehray
دونوں نرسیں اُس کے سامنے دوسری سمت رکھے ہوئے میز کے اطراف بیٹھ گئیں۔ ایک نرس نے اپنے دونوں ہاتھ میز کی سطح پر رکھےاوراپنا سر ہاتھوں پر ٹکا دیا۔ دوسری نرس نے اپنا موبائل آن کر لیا۔ اب وہ موبائل پر نہ جانے کیا کیا دیکھ رہی تھی کہ کبھی اُس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ جاتی اور کبھی اس کا چہرہ ایسا سرخ ہو جاتا جیسے بدن میں خون کے بجائے شعلے دوڑنے لگے ہوں۔
دفعتاً اس خوموش ماحول میں تیز تیز قدموں سے چلنےاورکسی کےرونے چیخنے کی آوازیں گونجیں۔ ڈاکٹر جلدی سے اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا اور نرسیں بھی۔ اسپتال کا ایک ملازم اسٹریچر پر کسی زخمی کو لا رہا تھا۔ اسٹریچر کے ساتھ اُس کے ماں باپ بھی چل رہے تھے۔ ماں دبی دبی آواز میں آہ و بکار کر کہہ رہی تھی اور باپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ دونوں نرسیں اسٹریچر کی طرف لپکیں اور ڈاکٹر بھی زخمی لڑکی کے قریب آگیا۔Urdu Afsana Chehray
لڑکی شدید طور پر زخمی ہو گئی تھی اور نیم بے ہوشی کے عالم میں تھی ۔ لڑکی کے کپڑے خون میں بھرے ہوئے تھے۔ زخمی لڑکی کی ماں اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر ڈاکٹر کے سامنے گڑگڑانے لگیں۔’’ ڈاکٹر صاب!میری بچی کو بچا لیجئے۔ میر ی ایک ہی بیٹی ہے۔‘‘ ڈاکٹر صاب! میں ایک فنکشن ہال میں واچ میں ہوں۔ کرفیو کی وجہ فنکشن ہال میں کوئی پروگرام نہیں چل رہا تھا اور ہال خالی پڑا ہے۔
میری لڑکی پتہ نہیں کب کھیلتے کھیلتے اوپر چھت پر چلی گئی اور وہاں سیٹھیوں سے پھسل گئی۔‘‘ ڈاکٹر نے ایک سکون کی سانس لی۔ کیونکہ زخمی لڑ کی کو دیکھ کر ڈاکٹر کے دماغ میں یہی خیال آیاتھا کہ شاید یہ لڑکی انسان نما درندے کی درندگی کا شکار ہوئی ہو! اس وقت سارا شہر، شہر نہیں رہا تھا۔ ایک ایسا بھیا نک جنگل بن گیا تھا جہاں بھوکے بھیڑیئے غراتے، دندناتے، چنگھاڑتے پھر رہے ہوں ۔ اتفاقی حادثات کے آگے انسان بے بس رہتا ہے۔
صبر اور دعا کے سوا اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہوتا لیکن جن حادثات کے پیچھے انسانی بربریت اور ظلم کی کارستانی رہتی ہے وہ قابل نفرت ہے اور قابل گرفت بھی ۔ ڈاکٹر نے کہا۔’’ہمت سے کام لو، علاج میں ہم کوئی کمی نہیں کریں گے۔‘‘ اس وقت تک دونوں نرسیں اسٹریچر کو دھکیلتے ہوئے آئی سی یو کی سمت چلی گئی تھی۔ ڈاکٹر بھی ان کے پیچھے لپکا۔ زخمی لڑ کی کے ماں باپ کے چہروں پر قدرے سکون کے آثار نظرآئے۔ لیکن آنسو بدستور ان کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔Urdu Afsana Chehray
آس پاس کے مریضوں کے اٹینڈرس اُٹھ اُٹھ کر دونوں کے قریب جمع ہو گئے تھے ۔ ہمدردانہ نگاہوں سے ان کو دیکھ رہے تھے۔ ایک عورت آگے بڑھ کر زخمی لڑکی کو تسلیاں دینے لگیں تھی۔ وہ سب کے سب ایک دوسرے کیلئے اجنبی تھے۔ ایک دوسرے سے ناواقف۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان کے نام کیا ہیں؟مذہب کیا ہے ؟فرقہ کیا ہے؟ پھر بھی ایک دوسرے سے ہمدردی جتا رہے تھے کیونکہ وہ سب غم زدہ تھے، پریشان حال تھے۔ ان کے متعلقین کسی نہ کسی کو دکھ بیماری کا شکار تھے۔
بہت دیر بعد ڈاکٹر ایک نرس کے ساتھ باہر دکھائی دیا۔ ڈاکٹر زخمی لڑکی کے باپ سے بولا۔’’ زخم ہم نے صاف کر دیئے ہیں ۔ لیکن لڑکی کی حالت تشویش ناک ہے۔ خون کافی بہہ چکا ہے اس کو فوری خون چڑھانا ضروری ہے۔’’خون!‘‘ زخمی لڑکی کے باپ کیلئے یہ اطلاع غیر متوقع تھی۔ وہ بوکھلا سا گیا تھا۔ ایک نرس اس سے مخاطب ہوئی اور ایک پرچی اس کی طرف بڑھائی۔’’اس میں بلڈ گروپ لکھا ہوا ہے، قریب ہی بلڈ بینک ہے۔ وہاں چلے جاؤ۔ آپ کو خون مل جائے گا۔‘‘زخمی لڑکی کا باپ کچھ نہیں بولا اورنہ نرس کے ہاتھ سے پرچی لی۔
وہ تو شاید یہ سوچ کر وہاں آیا تھا کہ سرکاری دواخانہ ہے ہر قسم کی سہولت مل جائے گی۔ لیکن صورتِ حال اس کیلئے غیر متوقع تھی اور پریشان کن بھی دفعتاً وہاں کھڑے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص آگے بڑھ کر بولا۔’’ آپ بلڈ گروپ بتائیے اگر میرے گروپ سے ملتا ہے تو میں خون دینے کیلئے تیار ہوں ۔‘‘سب لوگ چونک کر اُس شخص کی طرف دیکھنے لگے۔نرس نے کہا’’بی پازیٹیو۔۔۔!‘‘ یہ سنتے ہی وہ شخص فوراً بولا۔’’ میرے خون کا بھی یہی گروپ ہے۔ ڈاکٹر صاحب آپ میرا خون لے سکتے ہیں۔Urdu Afsana Chehray
‘‘ ڈاکٹر اس شخص کی طرف لگا جس نے خون دینے کی پیشکش کی تھی۔ وہ ایک تیس اکتیس سال کا ہٹا کٹا اور صحت مند مرد تھا۔ ڈاکٹر اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا سوائے اس کے کہ وہ ایک زیر علاج مریض کے ساتھ وہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ اس شخص سے پہلے اس زیر علاج مریض کی دیکھ بھال ایک عورت کرتی رہتی تھی لیکن کرفیو کے نافذ ہونے کے بعد وہ عورت چلی گئی تھی اور وہاں وہ شخص آ گیا تھا۔ لگتا تھا عجلت میں وہاں آیا تھا۔ کپڑوں کا ایک فاضل جوڑا بھی اس کے ساتھ نہیں تھا۔
جو کپڑے پہن رکھے تھے وہ اب میلے ہو چکے تھے۔ ہسپتال کے کینٹین میں جو بھی مل جاتا وہی کھا کر گزارا کر رہا تھا۔ بہت کم بات کرنے کا عادی تھا۔ ہر وقت سر جھکائے اپنے متعلقہ مریض کے قریب بیٹھا رہتا تھا۔ مگر اس وقت وہ شخص ڈاکٹر کو بہت مہربان لگا۔ یہ اس کی رحم دلی اور ہمدردی تھی کہ فوراً ایک لڑکی جان بچانے کیلئے اپنا خون دینے کیلئے راضی ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر کے دل میں اس کیلئے بیک وقت تشکر اور احترام کے جزبا ت ابھر آئے۔ اس نے محبت سے اس کے کندھے پر اپنا ایک ہاتھ رکھا اور کہا۔
’’آئیے میرے ساتھ۔۔۔۔!‘‘پھر وہ دونوں آئی سی یو چلے گئے۔ زخمی لڑکی کے ماں باپ کے دل میں اس کیلئے احترام اور تشکرانہ کیفیت موجزن ہو گئی تھی اور ڈاکٹر نے اپنے سٹاف کے ساتھ اپنا کام شروع کیا ۔ ضروری جانچ پڑتال کے بعد اس شخص کا خون زخمی لڑکی کے جسم میں پہنچایا جانے لگا۔ یہ عمل تقریباً چار پانچ گھنٹے جاری رہا۔ پو پھٹ رہی تھی۔ جب وہ شخص نڈھال سا وارڈ میں دکھائی دیا۔ اس کے ساتھ ایک نرس بھی باہر نکلی۔ نرس نے پوچھا۔ ’’اگر آپ چاہیں تو میں ایک گلاس دودھ لے آؤ ، پی لے طبیعت بحال ہو جائے گی۔
‘‘اس شخص نے مسکرانے کی کوشش کی ۔’’ضرورت نہیں ہے میں بہتر ہوں۔‘‘ ان دونوں کو آتا دیکھ کر زخمی لڑکی کے ماں باپ تیزی سے اُس کے قریب آئے اور لڑکی کے متعلق دریافت کرنے لگے۔ نرس نے کہا۔’’وہ بہتر ہے آپ ان کا شکریہ ادا کیجئے ، لڑکی کی جان بچانے میں انہوں نے مدد نہ کی ہوتی تو شاید ۔۔۔۔‘‘ نرس کہتے کہتے چپ ہو گئی۔ زخمی لڑکی کے ماں باپ اُس شخص کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے رہے لیکن ان کہ منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلا۔
Urdu Afsana Chehray
شاید شکریہ ادا کرنے کیلئے ان کے پاس لفظ نہیں تھے۔ ان دونوں کے صرف ہونٹ لرزتے رہے۔ دفعتاً لڑکی کی ماں اس کے پاؤں چھونے کیلئے جھک گئی وہ شخص فوراً پیچھے ہٹ گیا اور پھر خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔ اس وقت صبح ہو چکی تھی۔ ایمرجنسی وارڈ میں چہل پہل شروع ہو گئی۔ دونوں نرسیں فریش ہونے کیلئے باتھ روم میں چلی گئیں اور پھر باتھ روم سے نکل کر انہوں نے چائے بنائی ۔ اپنے لئے اور ڈاکٹر کیلئے بھی۔ ڈاکٹر چائے پی رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ چار پانچ لمبے تڑنگے مرد گیلری میں سے آتے ہوئے دکھائی دیئے۔ ان کا حلیہ اور چال ڈھال دیکھ کر ڈاکٹر سمجھ گیا کہ ان کا تعلق پولیس سے ہو گا حالانکہ وہ سادہ لباس میں تھے۔
ڈاکٹر کے قریب پہنچ کر ایک شخص سامنے کرسی پر بیٹھ گیا اور جیب سے شناختی کارڈ نکال کر بتاتے ہوئے بولا۔ اس کے ایک آدمی نے اپنی جیب سے ایک تصویر نکال کر ڈاکٹر کے سامنے رکھ دی۔ انسپکٹر بولا۔’’میں نے سنا ہے وہ آدمی یہاں موجود ہے۔‘‘تصویر دیکھ کر ڈاکٹر حیران رہ گیا۔ تصویر اُسی شخص کی تھی جس نے زخمی لڑکی کو اپنا خون دیا تھا۔ غیر ارادی طور پر اس نے وارڈ کی طرف اشارہ کر دیا جہاں وہ شخص موجود تھا۔ ڈاکٹر سمجھ نہ سکا تھا کہ وہ شخص پولیس کو کیوں مطلوب ہے۔
انسپکٹر نے فوراً دو آدمیوں کو وارڈ کی سمت جانے کیلئے کہہ دیا تھا ۔ ڈاکٹر نے پوچھا ۔’’کیوں ۔۔۔ اس آدمی نے کیا کیا ہے، وہ شخص تو مجھے بے حد شریف اور رحم دل لگا ہے۔ ‘‘’’ڈاکٹر صاحب ! ‘‘انسپکٹر تلخ لہجے میں بولا ۔ فسادات میں اس شخص نے اپنی ایک ٹولی کے ساتھ بڑا دھوم مچایا ہے ۔ کئی دکانیں لوٹی ہیں۔ مکانات جلائے ہیں جس میں ایک شخص کی جان چلی گئی۔ ڈاکٹر کو اس بات پر یقین نہ آیا ۔ ڈاکٹر نہ کہا ۔’’شاید آپ کو غلط اطلاع ملی ہے یہ شخص بہت ہی رحم دل اور ہمدرد ہے۔Urdu Afsana Chehray
آج ہی اس انے اپنا خون دے کر ایک لڑکی کی جان بچائی ہے۔ ‘‘انسپکٹر تلخی سے مسکرایا ۔ آپ ڈاکٹر ہیں، کسی کے مرض کو پہچان سکتے ہیں لیکن کسی آدمی کو نہیں۔ ہم پولیس والے ہیں صورت دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ آج کا آدمی کتنے چہرے لیکر جیتا ہے۔ کہیں فرشتہ ہے تو کہیں درندہ۔۔۔۔۔!‘‘یہ کہتے کہتے انسپکٹر چپ ہو گیا کیونکہ اس کے دونوں آدمی اس شخص کو لے کر وہاں پہنچ گئے تھے۔ ڈاکٹر پر نظر پڑتے ہی اُس شخص نے اپنا سر جھکا لیا تھا۔
ڈاکٹر کے دل کو جھٹکا سا لگا۔ تعظیم اور توصیف کے وہ سارے جزبات جو اس شخص کیلئے ڈاکٹر کے دل میں پیدا ہوئے تھے۔ آہستہ آہستہ فنا ہونے لگے۔ شکریہ ڈاکٹر اس کو آپریشن کا ۔‘‘انسپکٹر نے مصافحہ کرتے ہوئے کہا اور اس شخص کے ساتھ باہر کی طرف جانے لگا۔ ڈاکٹر خاموش رہا اور سوچتا رہا واقعی آج کے انساں کا ظاہر کچھ اور ہے اور باطن کچھ اور ہے۔۔۔۔۔۔؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *