Urdu Afsana Anaa By Arwa Sajal

      No Comments on Urdu Afsana Anaa By Arwa Sajal
Urdu Afsana Anaa

رات کا پچهلا پہر تها،اماں دنیا کے جهنجهٹ نمٹا کے تهکی ہاری سو رہی تهیں. اس کی آنکھ حسب معمول پهر آج کهل گئی ، گهڑی پر نظر دوڑائی تو دو بج رہے تهے. وہ کافی دیر لیٹی آسمان کو تکتی رہی اور پتہ نہیں کیا سوچتی رہی. پهر اچانک سے اٹھ بیٹهی،پریشان سی بال کندهوں پہ بکهرے ہوئے الماری سے اپنی شال نکال کر کندهوں پر ڈالی۔ جوتوں کے تسمے بند کئے اور اٹھ کهڑی ہوئی۔

Urdu Afsana Anaa

پهر کچھ سوچ کر دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔  کیا مجهے اس شخص سے ملنا چاہئیے؟؟ اگر اماں کو پتہ چل گیا تو سخت ناراض ہوں گی، اورمیں اماں کی ناراضگی کسی طور مول نہیں لے سکتی۔ آخروہ کیسے اس عورت کو ناراض کر سکتی تهی جس نے اپنی سب مسکراہٹیں اس پر قربان کر دی تهیں۔ جس نے راتیں جاگ کر مشین چلائی اور اس کے سکول سے یونیورسٹی تک کے خرچے پورے کئے تهے.

آخرکار وہ کچھ  تہیہ کر کے اٹهی، اور دبے پاؤں اپنے کمرے سے باہر آئی. اماں برابر والے کمرے میں سو رہی تهیں۔مجهے اس شخص سے ہر صورت ملنا ہے اور اماں کے جاگنے سے پہلے واپس بهی آنا ہے اس نے خود سے کہا اور آہستہ سے دراوزہ کهول کر باہر نکل گئی۔ وہ کہر جمی سنسان سڑک پر چلتی جا رہی تهی۔ اگر کسی نے مجهے دیکھ  لیا تو پتہ نہیں کیا کیا کہانیاں گهڑیں گے یہ لوگ مری ماں کا جینا مشکل کر دیں گے

Urdu Afsana Anaa

اور اگر میرے واپس آنے پر اماں جاگ رہی ہوئیں تو نجانے میرے بارے میں کیا سوچیں گی  کہ انہوں نے قطعی مری تربیت یوں تو نہیں کی کہ آدهی رات کو انکی بیٹی گهر کی دہلیز پار کر کے کسی سے ملنے جائے… طرح طرح کے وسوسے اسے ستا رہے تهےاور سانسیں تیز ہو رہی تهیں۔ لیکن ان تمام وسوسوں واہموں نے اسے واپس لوٹ جانے پہ قائل نہ کیا…وہ تیز تیز قدم اٹهاتی اپنے گرد و نواح کا جائزہ لیتے دل میں کسی سے ملاقات کی امنگ لئے چلتی جا رہی تهی۔

سڑک بالکل سنسان تهی۔ عجیب سا خوف مسلط تها لیکن ارادہ مصمم تهاایک طرف ماں کی ناراضگی کا خدشہ ستا رہا تها تو ایک طرف ملنے کی خوشی سےدل مچل رہا تها۔  آخرکار وہ اس شخص کے دراوزے پر کهڑی تهی، اس نے کال بیل پہ ہاتھ  رکها اور دل ایک دم سے دهڑک کے رہ گیا۔ ایک دم سے دروازہ کهلا، وہ اس کے سامنے کهڑا تها۔ بهوری آنکهیں اور ان میں محبت بهری چمک وہ کهلی آنکهوں سے اسکو دیکهتی رہ گئی

Urdu Afsana Anaa

دل بلیوں اچهل رہا تها اور دهڑکن تیز ہوئی جاتی تهی آخرکار اس نے دوڑ کر دروازے کا زینہ پار کیا اور دیوانہ وار اس سے لپٹ گئی۔ اتنی محبت اتنی چاہ کون کر سکتا ہے اس دنیا میں. وہ بهی اس سے مل کے بہت خوش ہوا تها اور وہ بهی بے تحاشا محبت کرتا تها۔ اس نے اس کی پیشانی پہ بوسہ دیا اور پهر دونوں ہاتهہ پکڑ کر اس کو سامنے بٹها لیا  اور کافی دیر نظروں سے کلام کے بعد آنسوءوں کا سلسلہ رکا تو دونوں نے آپس میں ڈهیروں باتیں کیں۔

جاؤ اس طرف کچن ہے۔ کهانا گرم کر کے لاؤ. اتنی رات گزر گئی آپ نے کهانا نہیں کهایا؟ آج تم نے ملنے آنا تها تو تمہیں دیکهنے کی خوشی میں نہیں کهای۔ یوں تو تمہیں دیکهہ کے ساری بهوک اتر گئی- وہ ہلکی سی مسکرائی اور کچن کی طرف بڑهہ گئی۔  کهانا کهانے کے بعد وہ اس کے کاندهے  پہ سر رکهے اس کو سنتی رہی اور وہ اس کے بالوں کو سہلاتا رہا… وہ بہت سکون محسوس کر رہی تهی- اچها میں اب چلتی ہوں، اماں کی آنکهہ کهل گئی تو سخت ناراض ہوں گی-

Urdu Afsana Anaa

اپنا خیال رکهئے گا بہت سارا  اچها سنو! وہ پیچهے مڑی، جی کہیئےپهر کب آؤگی؟ یکا یک آنکهوں میں آنسو امڈ آئے جب آپ لینے آئیں گے۔ فقط اتنا ہی کہہ سکی دروازہ بند ہو چکا تها اور وہ حسرت بهری نگاہوں سے کبهی دروازے کو دیکهتا تو کبهی اپنی انگلیوں کی پوروں کو جن میں آج ایک مانوس سی خوشبو رچ بس گئی تهی وہ سہمی سہمی ہوش بحال کرتی گهر کے دروازے پر پہنچی اور دبے قدموں اندر داخل ہوئی… اماں سو رہی تهیں

فضہ!!!! قبل اسکے کہ وہ اپنے کمرے میں داخل ہوتی اماں کی آواز نے اس کو چونکا دیا خون جیسے وہیں رگوں میں جم گیا ہو نحیف سی آواز آئی ج ج جی اماں پیچهے مڑ کے دیکهنے کی سکت نہ رہی میں نے پوچها کہاں سے آرہی ہو؟ وہ کچھ دیر وہیں کهڑی رہی، پهر ایک دم سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ  گئی۔اماں  بهی پیچهے گئیں۔ اور دونوں شانوں سے اسے مضبوطی سے پکڑ کر جهنجوڑا تم کہاں گئی تهی فضہ اتنی رات گئے، میں نے تمہاری تربیت میں تو کوئی کسر نہیں چهوڑی تهی۔

Urdu Afsana Anaa

وہ چپ چاپ سامنے کهڑی رہی. اماں رات کے اس پہر اسے دروازے سے داخل ہوتا دیکھ  کر بوکهلا گئیں تهیں۔ اب اسکی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر انکے چہرے کی زردی بڑهتی جا رہی تهی آخرکار ضبط کے زینے کو عبور کر لیا اور زوردار طمانچے کی گونج نے فضہ کی خاموشی کو توڑ ڈالا  اماں! آپ نے کیوں مجهے اور خود کو اپنی انا کی بهینٹ چڑهایا؟ کیا مطلب ہے تمہارا؟ کیا کہنا چاہتی ہو تم آپ نے خود ساختہ اصولوں کے ساتہ زندگی گزاری خود بهی ساری عمر سزا کاٹی اور مجهے بهی محبت کے اس سائبان سے محروم رکها جسکا سایہ ہم دونوں کیلئے نعمت تها

اب آپکی بیٹی جوان ہو گئی ہے، خدارا نکل آئیں اس انا کے خول سے جسکی نذر آپ نے تین زندگیوں کو کیا ہے۔ آپ نہ صرف اپنی اور میری مجرم ہیں بلکہ اس شخص کی بهی مجرم ہیں جس نے ساری عمر آپکی محبت میں آپکی خوشی کو عزیز رکها اور کبهی آپکی دہلیز کا رخ نہ کیا صرف اس لئے کہ آپ اس سے ملنا نہیں چاہتی تهیں سننا چاہتی ہیں نا میں کہاں گئی تهی اور کس سےملنےگئی تهی تو سنیں مسز قاسم علی۔ میں آج قاسم علی سے ملنے گئی تهی

Urdu Afsana Anaa

اس شخص سے جس کے زندہ ہوتے ہوئے بهی آپ نے بیوگی کا روپ دهارے رکها اور مجهے بهی یتیمی کی جهلک دکهلائی۔  میں آپکی منت کرتی ہوں کہ توڑ دے انا کا یہ حصار وہ اماں کے قدموں میں سر رکهے رو رہی تهی اماں کچھ  دیر حیران و پشیمان  کهڑی رہیں پهر فضہ کو گلے سے لگا کے رو دیں باپ کی محبت نے آج  ایک مضبوط عورت کی انا کو توڑ دیا تها۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *