Urdu Afsana Aagahi By Qaisar Hameed Ronjho

Urdu Afsana Aagahi By Qaisar Hameed Ronjho

آگہی

از قلم: قيصر حمید رونجھو

کیا بات ہے سانول پریشان نظر آرہے ہو، کوئی پریشانی ہے تو ہمیں بتا دو! میار نے سانول کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا توسانول چونک گیا۔ نہیں کوئی بات نہیں ہے سانول کے جواب نے میار کو مایوس کردیا۔ ٹھیک تم بتانا نہیں چاہتے تو یوں سہی۔

Urdu Afsana Aagahi By Qaisar Hameed Ronjho

یارمیار کیا بتاؤں عجیب الجھن میں ہوں، کچھ دنوں سے دل پہ بوجھ سا ہے، دل چاہتا ہے کہیں نکل پڑوں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی شدت سے میرا انتظار کررہا ہے۔ کون انتظار کررہا ہے؟ میارنے سوال کیا تو سانول نےجواب نےدیا کہ پتہ نہیں یار بس مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہیں کوئی میرا انتظار کر رہا ہے اور مجھے جلد اس تک پہنچنا ہے۔

aaghi-qaisar-hameed-ronjho-jpg3

بیٹا تو ایسا کر کل گاؤں چلا جا، ہوسکتا ہے گاؤں میں کوئی تیرا منظر ہو! میار نے مسکراتے ہوئے کہا تو سانول چپ رہا۔ رات جب دونوں بستر پہ چپ چاپ لیٹے تھے تو سانول نے کہا کل میں گاؤں جارہا ہوں اور چپ ہوگیا۔

گاڑی فاصلوں کو سمیٹتی گاؤں کی جانب رواں تھی سانول کی بے چینی میں اضافہ ہورہا تھا۔ حلق سوکھ کر کانٹا بن چکا تھا، اسکا جسم پسینے سے ترتھا آس پاس سے یکسر غافل تھا کہ زوردار دھماکے کی آواز آئی اور ساتھ ہی چیخوں کی صدائیں بلند ہوئی۔

aaghi-qaisar-hameed-ronjho-jpg4

گاؤں کی مسجد سے اعلان ہورہا تھا، سانول ولدیت خدابخش کا انتقال ہوگیا ہے تدفین بعد نماز عصر ہوگی۔ میار نے چادر ہٹا کر دیکھا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ کوئی مسافر لمبی مسافت کے بعد منزل پر پہنچ کر اب پرسکون نیند سورہا ہو اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ سانول تو سچا تھا واقعی کوئی تیرا منتظر تھا اب تو اپنی منزل تک پہنچ چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *