آج کی شخصیت تلوک چند محروم صاحب

آج کی شخصیت تلوک چند محروم صاحب

انتخاب: مہر خان

تلوک چند آپ کا نام اور محرومؔ تخلص تھا۔ یکم جولائی 1887ء کو تحصیل عیسیٰ خیل، ضلع میانوالی کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ محروم نے بعد بی اے تک روایتی تعلیم حاصل کی۔ حصولِ تعلیم کے بعد محروم نے عملی زندگی کا آغاز ڈیرہ اسماعیل خان کے مشن ہائی اسکول میں انگریزی کے اسٹنٹ ماسٹر کی حیثیت سے کیا۔ 1935ء سے 1942ء تک انہوں نے کونوینٹ بورڈ اسکول راولپنڈی میں بطور ہیڈ ماسٹر کام کیا۔ بعد ازاں گورڈن کالج راولپنڈی میں اردو اور فارسی کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد نقل مکانی کر کے ہندوستان چلے گئے اور وہاں پنجاب یونیورسٹی کے کیمپ کالج دہلی میں 1947ء سے 1958ء تک اردو پڑھاتے رہے۔

زمانۂ طالب علمی میں ہی تلوک چند محروم صاحب کی نظمیں پنجاب کے اخبارات اور رسائل میں شائع ہونی شروع ہو گئی تھیں۔  تلوک چند محروم صاحب کی شاعری میں نظمیں، غزلیں اور رباعیات شامل ہیں، تاہم انہوں نے نظم نگاری پر زیادہ توجہ دی۔ ان کی نظموں میں حبّ الوطنی، قومیت، قدرتی مناظر اور سیاسی خیالات کا رنگ نمایاں ہے۔ انہوں نے رباعیات بھی کہیں اور بچوں کی ذہنی تربیت کے لیے بھی بہت اچھی نظمیں لکھیں جو انہیں اخلاق سازی اور کردار سازی کادرس دیتی ہیں۔

انکا پہلا شعری مجموعہ ‘کلام محروم’ کے نام سے شائع ہوا۔ اس مجموعۂ کلام کے دو مزید حصے بھی شائع ہوئے۔ انکے دوسرے شعری مجموعے کا نام ‘شعلہ نوا’ ہے۔ اس کے بعد ‘گنج معانی’، ‘کاروان وطن’، ‘نیرنگ معانی’ اور ‘رباعیات محروم’ بھی منظرِ عام پر آئے۔ تلوک چند محروم کا 6 جنوری 1966ء کو دہلی میں انتقال ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *