Thela Aur Woh By Waqas Mahmood

      No Comments on Thela Aur Woh By Waqas Mahmood
Thela Aur Woh By Waqas Mahmood

تحریر: وقاص محمود

نہ جانے بعض لوگ کس قدرعالی ہمت، بلند حوصلہ اور محنت سےعظمت کمانے کے خوگر ہوتے ہیں کہ زندگی کتنی کٹهن ہی کیوں نہ ہو جائے۔ حالات کسی بهی ڈگر پہ کیوں نہ آجائیں۔ زمین میں پشت پہ چلنا ناممکن ہی کیوں نہ ہو جائے اپنے پرائے ہو جائیں بیگانوں کے فاصلہ بهلے مزید بڑه جائیں دوستیاں سرد مہری کا شکار ہوجائیں، دشمنوں اور رقیبوں کی خوشیوں میں اضافے ہوں تو ہوتے رہیں، حلیف حریفوں کی صف کے سپاہی جا بنیں اپنے اور بیگانے کا فرق کرنا مشکل ترہی کیوں نہ ہو جائے۔

Thela Aur Woh By Waqas Mahmood

یہ بے وفا زندگی جو تماشہ لگائے اور جو چاہے کرتب دکهائے، نہ ان کا حوصلہ پست کر سکے، نہ انہیں اس بوڑهی عمر، لرزتی ٹانگوں، کانپتے ہاتهوں اور نہ ہی اس کمزورونحیف جان کے ہزار بہانوں اور لاکھ معزوریوں کے ساتھ  کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے پر آمادہ کرسکے۔  تو پھر میں کیوں نہ داد دوں اس عزم و ہمت کے پیکر، جرات و استقلال کے نشان اور مضبوطی و توانائی کے اس جهریوں بهرے لیکن اطمینان وسکوں سے عیاں وزیبا ں چہرے کے مالک بوڑهے شخص کو کہ جو ہرصبح یونیورسٹی جاتے مجهے کندهے پہ رکهے تهیلے اورایک ہاتھ میں پکڑی لاٹهی کے ساتھ نظر آتا۔

اور بڑہی ہمت سے قدم اٹهاتا کچہرے کے ڈهیروں کو گهنگالتا جاتا اور بعض چیزیں اٹها اٹها کہ اپنے تهیلے میں ڈالتا جاتا، کئی دن دیکهنے کے بعد آخر میں نے پوچھ ہی لیا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ وہ بزرگ ٹهنڈی آہ بهرنے کے بعد بولے،، بیٹا محنت کر کے کمانا هاتھ پهیلانے سے ہزار درجے بہتر ہے۔ یہ زندگی  تو چند لمحوں سانسوں کی مہمان ہوتی ہے۔ اس لیے میں کبهی اپنی زندگی میں ایساکام نہیں کرسکتا جو ہمیشہ مجهے شرمندگی و ندامت کی آگ میں سلگاتا رہے لہذا تم بهی محنت کو اپنا شعار بنانا۔

Thela Aur Woh By Waqas Mahmood

اتنی قیمتی باتیں سن کر میں نے ان کے حوصلے و ہمت کوداد دی۔ ان سے دعا کی درخواست کی جب اجازت چاہی تو ڈهیروں دعاوں کے ساتھ اپنی چمکدار آنکهوں کے ساتھ رخصت کیا۔ میں نے اپنی راہ لی وہ اپنے کام کے ہولیے مگر جب انکی یاد آتی ہے تو سوچ کی گہری وادیوں میں گم ہو جاتا ہوں کہ ایسے لوگ کتنے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

کہ نہ تو وہ قدرت سے شکوہ کناں ہوتے ہیں۔ اور نہ ہی حالات کے جبر سے تنگ آکہ وہ کوئی ایسا اقدام کرتے ہیں کہ جو معاشرہ پہ خواہ مخواہ کا بوجھ بن بیٹهیں۔ بلکہ وہ زندگی کےکسی بهی موڑ پر اپنی عزت اور بلند ہمتی کا دامن چهوڑنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اورحالات کا یوں ڈٹ کہ مقابلہ کرتے ہیں کہ زندگی کے نشیب وفراز اورمصائب و آلام بهی انکے سامنے نہ صرف اپنا دامن پهیلانے پرمجبور ہو جاتے ہیں۔

Thela Aur Woh By Waqas Mahmood

بلکہ انکے قدموں کی مضبوطی  اوران کے اعصاب کی ناقابل شکست طاقت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ انسانیت کیلیئے توقیر وتکریم کا دائمی نشان بن جاتے ہیں کہ جنکا ذکر ہمیشہ فخرکے طورپرکیا جاتا ہے۔ اورنسلیں ایسے لوگوں سے مشعل راہ پکڑتی ہیں۔ یہی لوگ حقیقت میں ہیرو اور قابل تقلید ہوتے ہیں جو آزمائش و امتحان کے کڑے وقت میں بهی جینے کا ڈهنگ سکها جاتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *