Taqreeb-e-Shuhada-e-Karbala Banam Mehfil-e-Musaalma

Taqreeb-e-Shuhada-e-Karbala Banam Mehfil-e-Musaalma

شهداء کربلا کی یاد میں ایک با وقار تقریب بنام “محفل مسالمه” کا انعقاد

پاکستان سوشل کلب کے ادبی ونگ کی کاوشوں سے جمعرات 20 اکتوبر کی شام جناح هال پاکستان سوشل کلب میں ایک مقدس اور با وقار تقریب شهداء کربلاکی یاد میں منعقد کی گئ.سفارت خانہ پاکستان کے کونسلر  چوہدری  شوکت علی، ٹائمز آف عمان کے سینئر صحافی شهزاد رضا،مشہور کاروباری شخصیات چوہدری الیاس اور یونس قادری نے خانوادہ رسول کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے خصوصی طور پر تقریب میں شرکت کی

مقبول احمد شیخ نے نظامت کے فرائض سنبھالتے ہوئے پروگرام کے آغازِ میں تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کرنے کے لئے محمد دانیال کو دعوت دی. اس کے بعد مرتضی قادری نے اپنی پرسوز آواز میں منقبت کے اشعار پیش کئے جس پر حاضرین جهوم اٹهے. تقریب میں جن مقامی  شعراء کرام نے شهداء کربلا کی شان اقدس میں گلهاء عقیدت پیش کیے ان میں موسی کشمیری ، محمد نسیم، شکیل شهاب، جمیل زیدی ،مقبول احمد شیخ اور محمد علی فضل شامل تھے

Taqreeb-e-Shuhada-e-Karbala Banam Mehfil-e-Musaalma

واقعہ شهداء کربلا کربلا کو تفصیل سے اجاگر کرنے کے لئے سلیم احمد خان کو دعوت دی گئی جو کہ گذشتہ 15 سالوں سے مسقط میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں. انہوں نے حضور اکرم صل اللہ علیہ و سلم کے وصال کے بعد سے کربلا برپا ہو نے تک کے واقعات کو اسکرین پریزینٹیشن کے ذریعے تفصیل سے بیان کر کے حاضرین کی معلومات میں بیش بہا اضافہ کیا.

انهوں نے بتایا نواسهء رسول نے دین کی سربلندی کے لئے نه صرف اپنی بلکہ اولاد اور خاندان والوں کی قربانی دے کر امت مسلمہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ باطل قوتیں تعداد اور طاقت میں تم سے زیادہ بهی هوں تب بھی حق کی راہ میں ڈٹ جا نا چا ہئے. امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حق کے علمبردار اور یزید کو لوگ تاقیامت ظلم اور بربریت کی علامت کے طور پر یاد رکھیں گے

اس کے بعد ارشد علی خان کو مدعو کیا گیا جو عرصہء دراز سے وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں. ان کا شمار مسقط کے چند انتہائی باوقار اور مہذب  اسکالرز میں کیا جاتا ہے انهوں نے کربلا کے واقعے کو نہایت اختصار اور علمی گہرائی سے بیان کیا اور بتایا کہ انہوں نے بذات خود ان مقامات مقدسہ کی زیارت کی

اور امام حسین علیہ السلام اور دیگر شہداء کے مزارات مبارکہ پر حاضری دی.  انهوں نے بتایا کہ کوشش کے باوجود ان کو یزید کی قبر کا نام و نشان بهی نه مل سکا. انهوں نے بتایا کہ آج کے زمانے میں بھی اگر غور کریں تو آپ کو حسینی علمبردار بهی مل جائیں گے اور یزیدی لشکر بهی بر سر پیکار ہیں. حق و باطل کی یه جنگ قیامت تک جاری رہے گی

اس کے بعد جنرل سکریٹری پاکستان سوشل کلب زعیم اختر نے  سفارت خانہ پاکستان کے کونسلر چوہدری شوکت علی کو دعوت دی جنہوں نے مختصراً شهداء کربلا کی لازوال قربانی پر پر اثر خطاب کیا اور پاکستان سوشل کلب کے ادبی ونگ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے آئندہ بهی اس طرح کے با مقصد پروگرام ترتیب دینے پر زور دیا.

اسکے بعد سوشل کلب کے ادبی ونگ کے روح رواں ناصر معروف نے مذہبی محافل کے تواتر سے انعقاد کی افادیت پر چودھری شوکت علی سے اتفاق کیا اور اس بات کا اعاده کیا که ادبی ونگ مستقبل میں بھی اس طرح کے دینی پروگرامز ترتیب دیتا رهے گا.  اس بابرکت تقریب کے شرکاء کے لیے یونس قادری نے اپنے ادارے کی طرف سے ایک عدد عمرے کے ٹکٹ کا اہتمام کیا  جو قرعہ اندازی کے ذریعے منظور الہی کے حصے میں آیا۔

Taqreeb-e-Shuhada-e-Karbala Banam Mehfil-e-Musaalma جسے چوہدری شوکت علی،زعیم اختر،یونس قادری اور لٹریری ونگ  ہیڈ ناصر معروف نے منظور الہی کو پیش کیا اور پروگرام کے اختتام پر مرتضی قادری نے دعا کروائی خصوصاً پاکستانی سکول میں زیر تعلیم جماعت کے بچے زفیر بن منورجس کی وفات گزشتہ ہفتے روڈ  حادثے کے نتیجے میں هویئ اس پر تمام شرکاء نے گہرے  رنج و غم کا اظہار کیا اور اس کے گھر والوں کے صبر جمیل اور بچے کے درجات کی بلندی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی گئ

اس تقریب میں پاکستان اسکول کے ڈائرکٹرز چودھری اصغر علی، محمد رضوان اور سابق چیر مین اسکول شبیر ندیم اور سوشل کلب کے عہدے داران  امجد فاروق اور محمد علی فضل اور دیگر شرکاء  افتخار احمد ،عابدمغل،مدثر ، مجاہد علی فاضل،عاطف چوہدری کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں پاکستانی کمیونٹی نے  شرکت کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *