آج کی شخصیت سید شمشیر حیدر صاحب

آج کی شخصیت سید شمشیر حیدر صاحب

انتخاب: اروی سجل

منفرد لب و لہجے اور پروقار شخصیت کے حامل شاعر محترم سید شمشیر حیدر 10 اگست 1973 کو خان پور ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ آجکل واہ کینٹ میں مقیم ہیں، شمشیر حیدر ادب کی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، آپکی شاعری کی دو کتب “دشت خواب” اور “پانیوں سے الگ” مطبوعہ شکل میں منظر عام پرآچکی ہیں۔

شمشیر اپنی شاعری میں کہیں کسی دشت کسی بیاباں کے باسی دکھتے ہیں تو کہیں پانیوں سے ہمکلامی انکا شیوہ ہے۔ شمشیر کی کتب کا عمیق مطالعہ کرنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی دشت، صحرا میں کوئی انوکھی تشنگی لئے پانیوں کی تلاش ہے۔ تو کبھی محسوس ہوتا ہے کہ پانیوں تک پہنچ کر بھی تشنہ لبی ایک جنون لئے ہوئے ہے.کہیں دریا کی لہروں میں ڈوب کر اپنے اشعار کی روانی برقرار رکھے ہوئے ہیں، کسی ایسے آئینے کی تلاش ہے جس میں اپنا بھرپور عکس نظر آ سکے۔ کہیں پرندوں کے سنگ اڑان ہے، کہیں پرندہ بن کر تخیلی پرواز ہے۔ شمشیر حیدر کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ قاری وسامع کو ایسا اپنے الفاظ میں جکڑتے ہیں کہ وہ پڑھتے یا سنتے ہوئے خود کو کبھی کسی دشت میں لاحاصل کی تمنا میں بھٹکتا ہوا پاتا ہے تو کہیں پانیوں سے محو سخن ہے۔ ہر شعرہرغزل میں وہ قاری کو اپنے ساتھ دلفریب انداز سے پرندوں، آئینوں اور پانیوں کی حیرت انگیز دنیا کی سیر کروا رہے ہیں. خدا انکے قلم کا یہ ہنر و کمال تابندہ رکھے

شمشیر حیدر کی پہلی کتاب دشت خواب میں سے چند اشعار قارئین کی نذر

آج کی شخصیت سید شمشیر حیدر صاحب

دل بیتاب مدینے کے سفر کو ترسے
جیسے تتلی کوئی خوشبو کے نگر کو ترسے

کچھ اور اونچی اڑانوں میں لے گئے تجھ کو
یہ میرے طور طریقے پجاریوں والے

بنا رہا تھا پرندہ میں ایک کاغذ پر
کہ خود بھی اڑنے لگا اسکے پر بناتے ہوئے

پہلے تو پانیوں سے رہی گفتگو مری
پھر یوں ہوا کہ آئینہ ایجاد ہو گیا

میں ایک عمر سے بھٹک رہا ہوں دشت خواب میں
نہ کوئی ہمسفر مرا، نہ کوئی ہم نشیں مرا

یہ کون بانٹ گیامجھ میں رونقیں اپنی
یہ کون کر گیا آباد اک جہاں مجھ میں

تو رہا کسی کی تلاش میں، میں تری تلاش میں گم رہا
تری جستجوبھی عجیب تھی مری جستجو بھی عجب رہی

چاہتا ہوں ترے پنجرے سے رہائی لیکن
سوچتا ہوں تو اسی کام سے خوف آتا ہے

تمہیں مل کر میں خود سے مل رہا ہوں
مجھے بھی آئینہ اچھا لگا ہے

اسکی آنکھیں کیسی کیسی باتیں کرتی رہتی ہیں
وہ خاموش بهی ہو جائے تو کتنا بولتا رہتا ہے

کیابتاؤں میں زمانے کو اداسی اپنی
کسطرح نام ترا میری زباں پر آئے

یہ کیا غضب ہے کہ خود کو بھی کھو دیا میں نے
یہ کس تلاش میں حد سے گزر گیا ہوں میں

یہ فقط شوق نہیں یہ ضرورت ہے مری
میرا صحرا ترے دریاؤں کا پانی چاہے

دریا سے اسقدر تھے مراسم کہ کیا کہوں
اب اتنی دوریوں کا سبب میری پیاس ہے

لوگ اوروں سے تو پل بھر میں خفا ہوتے ہیں
کوئی تو میری طرح خود سے بھی ناراض رہے

میں اپنی آنکھ سے آنسو چھپانے لگتا ہوں
تمہارا ذکر مری جاں اگر کہیں آئے

میں نے تو کھل کے تجھ سے بھی کب حال دل کہا
کس نے بتا دی بات یہ سارے جہان کو

کبھی ہو سکے تو نباہ یوں کہ زمانے بھر کی مثال ہو
مرے ساتھ جی، مرے ساتھ مر کبھی دھوپ میں کبھی چھاؤں میں

عذاب جتنے بھی آنے تھے ٹل گئے سارے
تری نگاہ سے موسم بدل گئے سارے
وہ مل گیا تو اسے کچھ بھی کہہ نہیں پایا
جو لفظ سوچے تھے اشکوں میں ڈھل گئے سارے

ترے ملنے سے بڑا حوصلہ ملتا ہے مجھے
اپنی کھوئی ہوئی منزل کے نشاں کھلتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *