سید شمشیر حیدر صاحب کےخوبصورت کلام میں سے منتخب غزلیں

سید شمشیر حیدر صاحب کےخوبصورت کلام میں سے منتخب غزلیں

انتخاب: مہر خان

تجھ سے میری چاہتوں کا سلسلہ اپنی جگہ
اور بدلتے موسموں کا مشورہ— اپنی جگہ

میں بهی تیرے بعد ہوں اک ماتمی ماحول میں
ٹوٹ جانے پر بضد ہے آئینہ—- اپنی جگہ

عشق کے آگے یہ دوری تو کوئی دوری نہیں
یہ زمین و آسماں کا فاصلہ— اپنی جگہ

لذت ہجراں کہاں اور وصل کا موسم کہاں
ہر زیاں اپنی جگہ– ہر فائدہ اپنی جگہ

تو نہیں ہے تو غزل میں تشنگی ہی تشنگی
خوبصورت ہیں ردیف و قافیہ– اپنی جگہ

ہجرتوں کے دکھ اٹهانے سے بھی کچھ حاصل نہیں
آج بھی موجود ہے— ہر مسئلہ اپنی جگہ

شمشیر حیدر 

سید شمشیر حیدر صاحب کےخوبصورت کلام میں سے منتخب غزلیں

دنوں سے کیسے شبوں میں ڈھلتے ہیں دن ہمارے
یہ ہم بدلتے ہیں یا بدلتے ہیں دن ہمارے

جو کٹ گیا ہے سفر ابھی تک نہیں ہمارا
خبر نہیں اور کتنا چلتے ہیں دن ہمارے

یہ کس کے جانے پہ بین کرتی ہیں چاند راتیں
یہ کس کے جانے پہ ہاتھ ملتے ہیں دن ہمارے

شبیں جہاں اپنی حکمرانی کا سوچتی ہیں
چراغ بن کر وہیں پہ جلتے ہیں دن ہمارے

جہاں سے آتی ہے مسکراہٹ ترے لبوں کی
وہیں سے روتے ہوئے نکلتے ہیں دن ہمارے

جوان ہو کر بھی بچپنے کا حصار کیوں ہے
انہی کھلونوں سے کیوں بہلتے ہیں دن ہمارے

سید شمشیر حیدر

سید شمشیر حیدر صاحب کےخوبصورت کلام میں سے منتخب غزلیں

شوق سفر میں طے وہ مراحل نہیں ہوئے
میرے جو خواب تھے مری منزل نہیں ہوئے

تیرے علاوہ جتنے مناظر تھے سب کے سب
آنکھوں تک آئے خون میں شامل نہیں ہوئے

مل جائے انکا پھل تو مقدر کی بات ہے
وہ پیڑ جن کے سائے بھی حاصل نہیں ہوئے

آپس میں اختلاف تو ہوتے رہے کئی
پر ایک دوسرے سے برے دل نہیں ہوئے

روشن ہیں کچھ ابھی بھی سر شہر آرزو
سارے دیے ہواؤں سے غافل نہیں ہوئے

سید شمشیر حیدر

سید شمشیر حیدر صاحب کےخوبصورت کلام میں سے منتخب غزلیں

زندگانی کا ہمیں پھر سے بنا سکتی ہے
اک محبت ہے، جو دنیا سے ملا سکتی ہے

شام! اے ڈھلتی ہوئی شام! بتا دے سب کچھ
اسکے بارے میں تو جتنا بھی بتا سکتی ہے

گل خوش رنگ تجھے دیکھنا لازم تو نہیں
تری خوشبو تری تصویر بنا سکتی ہے

کشتی جان میں تجھے پار لگا سکتا ہوں
سوچ لے کیا تو مرا بوجھ اٹھا سکتی ہے

اپنی تصویر بھی جاتے ہوئے مجھ سے لے جا
مرے دریا یہ مری پیاس بڑھا سکتی ہے

شاد و آباد شجر پل میں اجڑ سکتے ہیں
ایک آہٹ بھی پرندوں کو اڑا سکتی ہے

میرے حلیے سے مرا نرخ لگانے والے
تری دنیا مری مٹھی میں سما سکتی ہے

سید شمشیر حیدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *