Syed Fazal Gilani Introduction And Ghazals

Syed Fazal Gilani Introduction And Ghazals

سید فضل گیلانی صاحب کا تعارف اور کلام

تعارف
سید فضل گیلانی صاحب بہت اچھے شاعر ہیں۔ سید فضل گیلانی صاحب 3 نومبر 1977 کو ضلع ڈیرہ غازی خان پاکستان میں پیداہوئے۔ گیلانی صاحب نے شاعری کا آغاز 2002 میں کیااور ابھی تک جاری ہے۔ سید فضل گیلانی صاحب بہت اچھی شاعری کرتے ہیں۔

آئیں سید فضل گیلانی صاحب کو مزید انکے کلام کے ذریعے جانتے ہیں۔

Syed Fazal Gilani Ghazals

بدن کی رمز سمجھ ‘ رُوح کا اشارہ سمجھ
مجھے سمجھ ‘ نہ سمجھ ‘ دُکھ مِرا خدا را سمجھ

تجھے ہم اور کسی کا نہ ہونے دیں گے کبھی
تُو بھا گیا ہے ہمیں ‘ خود کو اب ہمارا سمجھ

جو تِیرگی میں تجھے کچھ دِکھائی دیتا نہیں
سمجھ میں آئے تو اِس کو بھی اک نظارہ سمجھ

نہیں تو وقت ہی سمجھائے گا تجھے اک دن
مَیں چاہتا ہوں ‘ مِری بات کو دُو بارہ سمجھ

کہ مَیں تو اپنے بھی کچھ کام آ نہیں پایا
تجھے یہ کس نے کہا تھا ‘ مجھے سہارا سمجھ

یہ دل سے آنکھ تک آیا ہُوا جو آنسو ہے
یہ تیرگی میں چمک جائے تو ستارہ سمجھ

یہ کار گاہِ طلِسمات ہے ‘ یہاں سیـــــّد
خسارہ نفع سمجھ ‘ نفع کو خسارہ سمجھ
فضــل گیـــلانی

Syed Fazal Gilani Ghazals

گر نہیں ہے تو میرے ہاں نہیں ہے
رائیگانی کہاں کہاں نہیں ہے

جسے موجِ ہوا اّڑائے پھرے
یہ مرا جسم ہے دھواں نہیں ہے

میں وہاں بھی نہیں جہاں میں ہوں
تو وہاں بھی ہے تو جہاں نہیں ہے

اب تو کھل کر ملا کرو مجھ سے
اب محبت بھی درمیاں نہیں ہے

بات کرنی ہے جانتے ہوئے بھی
اس جگہ جان کی اماں نہیں ہے

کل یہاں ایک پیڑ تھا سید
اوراب دور تک نشاں نہیں ہے
سید فضل گیلانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *