Suman Shah Beautiful Ghazals

      No Comments on Suman Shah Beautiful Ghazals
Suman Shah Beautiful Ghazals

اب تری سر کشی بس بہت ہو گئی
اور مری خاموشی بس بہت ہو گئی
جان لینا کبھی جان دینا کبھی
یہ تری دل لگی بس بہت ہو گئی
اک تمنا تری اک تری جستجو
یہ ادا سر پھرِی بس بہت ہو گئی

Suman Shah Beautiful Ghazals

مدتوں تک رہا ہے نشہ بس ترا
اب تو یہ مے کشی بس بہت ہو گئی
یہ تغافل ترا بن گیا روگ ہے
مجھ سے یہ شوخی بس بہت ہو گئی
تو تو بت ہے صنم بت رہے گا صدا
پر مری بندگی بس بہت ہو گئی

Suman Shah

شہرِ دل میں ہیں نئی بے تابیوں کی آہٹیں

Suman Shah Beautiful Ghazals

شہرِ دل میں ہیں نئی بے تابیوں کی آہٹیں
بے قراری سے بھری کچھ خواہشوں کی آہٹیں
پھر مہکنے سا لگا ہے تشنگی کا اِک نشہ
چاہتوں میں ہیں نئے پھر موسموں کی آہٹیں
اس سمندر سے بدن میں خواہشوں کی جل پری
سُن رہی ہے پھر تری ان قربتوں کی آہٹیں
یہ خزاں کے زرد موسم ہیں اُداسی سے بھرے
پر چھپی رہتی ہیں ان میں گل رتوں کی آہٹیں
جھلملا سی جو رہی ہیں ساحلوں کی ریت میں
ہے ہوا میں بھی رچی ان سیپیوں کی آہٹیں
خواب بھی ہیں کچھ خفا سے نیند بھی روٹھی ہوئی
ہیں سنی جب سے انہوں نے رت جگوں کی آہٹیں
جُستجو کو مل رہی ہے روشنی کی آگہی
راستوں کو جو ملی ہیں منزلوں کی آہٹیں
بارشوں نے اس طرح چُوما ہے کلیوں کا بدن
چُھو رہی ہیں اب چمن کو خوشبوؤں کی آہٹیں
اے خُدا رکھنا سلامت تو مِرا یہ آشیاں
سُن رہی ہوں میں غضب کی بجلیوں کی آہٹیں
Suman Shah

ابھی تک میں بیٹھی ہوں

Suman Shah Beautiful Ghazals

مری روح کے دریچے پر مری سوچوں کی چوکھٹ پر
ابھی تک ہے تری خوشبو مرے ہونٹوں کی چوکھٹ پر
تری آشا کا ہر شب میں بجھا سا جو دکھائی دے
وہ تارا جھلملائے پھر مری صبحوں کی چوکھٹ پر
نیاپھر درد کا موسم یہ غم شاداب پھر ہونگے
ترے خوابوں کی دستک پھر مرے نینوں کی چوکھٹ پر
تری یادوں کے سب جگنو سحر تک چنتے رہتے ہیں
ترے پیماں جو بکھرے ہیں مر ی راتوں کی چوکھٹ پر
وہ تتلی کے پروں سی جو محبت میں کبھی گزرے
ابھی تک میں تو بیٹھی ہوں انہی لمحوں کی چوکھٹ پر
عجب سی گرد پھیلی ہے مرے رخسار پر ہر سو
کوئی ٹوٹا ستارا ہے مری پلکوں کی چوکھٹ پر
جہاں بھی تو رہے جاناں اماں تجھ پہ رہے رب کی
دعا ہر پل مہکتی ہے مرے ہاتھوں کی چوکھٹ پر

Suman Shah

کسی گمنام سائے کی طرح بھیجی گئی ہے جو

Suman Shah Beautiful Ghazals

کسی گمنام سائے کی طرح بھیجی گئی ہے جو
ترے طاسِ تمنا پر ستم بوئی گئی ہے جو
جنوں کے پتتے صحرا میں تجھے جُھلسائے رکھے گی
کہ میں وہ بے قراری ہوں تجھے بخشی گئی ہے جو
پلک چھپکے ہی نظروں سے ہو جائے پل میں ہی اوجھل
سحر کے اُس ستارے سی تجھے سونپی گئی ہے جو
تجھے پیاسا ہی رکھے گی یہی اُس کا نصیبی ہے
خدا جانے ترے رستوں میں کیوں لائی گئی ہے جو
ترا ہونے نہیں دے گی مری وحشت مری دشمن
کوئے تشنہ کی مٹی میں گھلی گوندھی گئی ہے جو

Suman Shah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *