Sukoon Ka Raahi By Muhammad Suleman Asif

Sukoon Ka Raahi By Muhammad Suleman Asif

سکون کا راھی

تحریر: محمد سلیمان آصف

جو انسان یہ سمجھتاہے ہے کہ اچھا زمانہ تو گزر گیا ہے یا ابھی آیا ہی نہیں ‘ وہ کیسے سکون حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح جو انسان اللہ تعالی کی عظیم نعمتوں کا استعمال کرنے کے بجاۓ ایک ٹھنڈی سانس بھرے اور یہ کہے کہ یہ نعمتیں آخر کب تک تو یہ انسان کیسے سکون حاصل کر سکتا ہے؟؟؟

بلکہ ….. اگر خواہش اور حاصل کا فرق مٹ جاۓتو سکون مل جاتا ہے۔

انسان کو جو پسند ہے حاصل کرلے یا پھرجو حاصل ہے اسے پسند کر لے تو سکون مل جاتا ہے۔ جب ھماری تمنا کے پاؤں حاصل کی چادر سے باھر نکل جاتے ہیں تو ہمیں سکون نہیں ملتا۔ سکون حاصل کرنے والے تختہ دار پر بھی پُر سکون رھےاور مضطرب رہنے والے تخت شاہی پر بھی سسکیاں بھرتے رہے۔ خواہش کا بے ہنگم پھیلاؤ سکون سے محروم کر دیتا ہے
اور خواہش کی داستان کبھی مکمل نہیں ھوتی۔

Sukoon Ka Raahi By Muhammad Suleman Asif

تمنا کا سفر دشت بے اماں کا سفر ہے، سکون کا سفر اپنی ذات کا سفر ہے، اپنے باطن کا سفر ہے، سکون والا انسان اپنے دل میں ہی وہ روشن نقطہ دریافت کر لیتا ہے جس کی ضیا اسے نور بصیرت اور سکون بخشتی ہے، والدین کی خدمت، استاد کا ادب، سائل اور یتیم کی دعا، سکون قلب کے ذرائع ہیں۔ رزق صالح نہ ہو تو سکون قلب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

سکون حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ انسان سکون کی تمنا چھوڑ کر دوسروں کو سکون پہنچانے کی کو شش کرے۔ سکون دینے والے کو ہی سکون ملتا ہے کسی کا سکون برباد کرنے والا سکون سے محروم رہتا ہے۔ اگر فرض اور شوق یکجا ہو جائیں تو زندگی پُر سکون ھو جاتی ہے۔

Sukoon Ka Raahi By Muhammad Suleman Asif

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت سے سکون ملتا ہے، لیکن دولت اور مال نے کبھی کسی کو سکون نہیں دیا۔ بادشاہوں نے بادشاہی چھوڑ کر درویشی تو قبول کی ہے لیکن۔۔۔ کسی درویش نے درویشی چھوڑ کر بادشاہی قبول نہیں کی۔ وہ مال جو اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کیا جاۓ باعث سکون ہو سکتا ہے۔

نفرت، کینہ، بغض، جذبہ انتقام، حسد، لالچ، جسم پرستی سکون قلب کے دشمن ہیں۔ سکون حاصل کرنے والا انسان دوسروں کی زندگی اور خوشی کا احترام کرتا ہے۔ وہ علم حاصل کرتا ہے، جاھلوں کی خدمت کے لیے، دولت کماتا ہے غریبوں کی مدد کے لیے، وہ گنا ہ سے نفرت کرتا ہے گناہگاروں سے نہیں۔

Sukoon Ka Raahi By Muhammad Suleman Asif

سکون کا راھی ہر حال میں پُر سکون رہتا ہے۔ وہ خوف اور حزن سے آزاد ہوتا ہے وہ غم اور غصے سے بے نیاز ہوتا ہے۔ وہ حسرتوں اور مایوسیوں کو تیاگ چکا ہوتا ہے دراصل سکون قلب تقرب حق کا وہ مقام ہے، جھاں انسان نعمتوں سے منعم کی طرف رجوع کرتا ہے اور اسکی ذات میں محویت حاصل کرتا ہے۔ زندگی کے متلاطم سمندر میں سکون قلب ہی عافیت کا ایک جزیرہ ہے اور نصیب والے ہی اسے دریافت کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *