Siraj Gulaothwi Beautiful Ghazals

      No Comments on Siraj Gulaothwi Beautiful Ghazals
Siraj Gulaothwi Beautiful Ghazals

ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی صاحب کی لاجواب غزلیں قارئین کرام کے لئے پیش خدمت ہیں۔

ہوا عشق کی یوں بغاوت کرے گی
محبت بھی ہم سے تجارت کرے گی

خبر کیا تھی ہو جائے گی نوٹ بندی
حکومت امیروں کی درگت کرے گی

ستم حسن کے سب بھلادو پرانے
محبت میں بھی اب وہ جدت کرے گی

خبر کیا تھی بہلائیں گے اس کو دشمن
محبت ہماری بغاوت کرے گی

سجا دے گی غم سے ترے دل کی دنیا
یہ نفرت تری ایسی حالت کرے گی

بیاباں کی ویرانیاں دور ہونگی
محبت جو میری حمایت کرے گا

مدد آسمانوں سے اترے گی اس پر
جو راتوں کو امت عبادت کرے گی

یہ قدرت کے غصے کو کر دے گی ٹھنڈا
تری جیب جب جب سخاوت کرے گی

حکومت گرے گی سراج ایک دن وہ
نہیں جو غریبوں کی خدمت کرے گی

Siraj Gulaothwi

Siraj Gulaothwi Beautiful Ghazals

ہر گھڑی غم میں مبتلا ہیں ہم
رنج میں ڈوبی کربلا ہیں ہم

ہم بتائیں تمہیں کہ کیا ہیں ہم
صرف پانی کا بلبلا ہیں ہم

تلخ یادوں کا قافلہ ہیں ہم
حادثوں کا ہی سلسلہ ہیں ہم

بے سہاروں کا آسرا ہیں ہم
ظلمتوں میں بھی اک ضیا ہیں ہم

اس پہ دل جان سے فدا ہیں ہم
یہ الگ بات اب خفا ہیں ہم

آبرو ہیں تری ردا ہیں ہم
اے صنم دل کا مدعا ہیں ہم

تو ہے منزل تو راستہ ہیں ہم
کب تری ذات سے جدا ہیں ہم

کیا بتائیں سراج کیا ہیں ہم
لوگ کہتے ہیں پارسا ہیں ہم

Siraj Gulaothwi

Siraj Gulaothwi Beautiful Ghazals

جھگی میں کسی روز تو جاکر دیکھو
حالات کے ماروں کو ہنسا کر دیکھو

مظلوم کو سینے سے لگا کر دیکھو
تم درد کی قندیل جلا کر دیکھو

آسان ہے غنچوں کو مسلنا لیکن
غنچہ کوئی گملے میں کھلا کر دیکھو

ہو جائے گا سچ جھوٹ سبھی کچھ ظاہر
پردے یہ تعصب کے ہٹا کر دیکھو

جو دیپ مرے دل میں منڈیروں پر ہیں
وہ دیپ محبت کے جلا کر دیکھو

آجا ئیں گے آداب محبت کے تمہیں
بس ناز حسینوں کے اٹھا کر دیکھو

آسان ہے کہنا کہ بھلا دو ہم کو
اب تم ہی ذرا ہم کو بھلا کر دیکھو

ملتی ہیں پشیماں کو مرادیں دل کی
سجدے میں ذرا دل کو جھکا کر دیکھو

ہمدردی سے ملتا ہے عجب دل کو سکوں
روتے ہوئے بچوں کو ہنسا کر دیکھو

Siraj Gulaothwi

Siraj Gulaothwi Beautiful Ghazals

ہم نے سونپی تھی متاع جنکی نگہبانی میں
قافلے لٹتے رہے ان کی ہی نگرانی میں

بس پریشان کیا اس نے تو نادانی میں
یاد آیا وہ بہت ہم کو پریشانی میں

دن گزرتا مرا سارا ہی نادانی میں
رات گزرے ہے مری روتے پشیمانی میں

خدمتِ خلقِ خدا کی ہے پریشانی میں
ہم نے لوٹے ہیں مزے فقر کے سلطانی میں

زندگی اپنی کٹی بے سر و سامانی میں
فرق آیا نہ کوئی جذبہ ءایمانی میں

تم کو ڈھونڈا کبھی محفل کبھی ویرانی میں
ہم بھٹکتے رہے صحرا کی بیابانی میں

دیش کو چھوڑ دیا بے سرو سامانی میں
گھر گئے آ کے یہاں بھی تو پریشانی میں

بھول جاتے ہیں غریبوں کو فراوانی میں
ہاں وہی گھرتے ہیں حالات کی تغیانی میں

Siraj Gulaothwi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *