Sir Zamin-E-Pakistan Ki Sair Bibi Nani By Babrak Karmal Jamali

Sir Zamin-E-Pakistan Ki Sair Bibi Nani

تحریر: ببرک کارمل جمالی

زندگی کے بعض سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں نہ تو پاؤں تھکتے ہیں، نہ دل بیزار ہوتا ہے اور نہ آنکھوں کو منزل دیکھنے کی جلدی ہوتی ہے۔ بلکہ دھیرے دھیرے سے منزل کی جانب بڑھتے ہوئے قدم اس راستے پر ہی چلتے رہنا چاہتے ہیں۔ میرا سفر جس مقام کی جانب جاری تھا، وہاں ہر سال ہزاروں لوگ، عقیدت مند اوردنیا بھرسے لوگ آتے ہیں۔

جی ہاں اس وطِن عزیز کو قدرت نے رعنائیوں سے بھرپورزمین عطا فرمائی ہے، یہاں فطرت کے تمام حسین رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں کچھ پُرکشش مقامات ہیں جن کی ہمسری دنیا کا کوئی سیاحتی مقام نہیں کر سکتا، ان میں ایک بولان پاس بھی کہلاتا ہے۔ سیاحوں نے ایسی وادیوں، سحر انگیز جھیلوں اور پُراسرار مقامات کی سیر توکی ہے مگر ایسے دل کش علاقے بھی ہیں جو صرف فلموں میں نظرآتے ہیں۔ اور جنہیں دیکھ کر خواب سا گمان ہوتا ہے۔ ان علاقوں میں سے ایک سر سبز وشاداب اور دل فریب علاقہ پیرغائب بھی ہے جوبلوچستان کے ضلع بولان میں واقع ہے۔

Sir Zamin-E-Pakistan Ki Sair Bibi Nani

پیر غائب کا علاقہ بے آب و گیاہ پہاڑوں کے درمیان ایک سر سبز و شاداب وادی کی صورت میں موجود ہے۔ اس حسین علاقے میں پہنچتے ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنت کی وادی میں آ گئے ہیں جہاں نظر پڑ تی ہے وہیں کچھ لمحوں کے لیے ٹھہر جاتی ہے۔ چاروں طرف خوب صورت بھورے جلے ہوئے پہاڑ اوران میں سے چھم چھم کرتا صاف شفاف اور ٹھنڈا پانی، آبشار کی صورت بہتا ہے۔ یہ حسین آبشار دو مختلف حصوں میں تقسیم ہو کر گرتی ہوئی پرُلطف نظارہ پیش کرتی ہے۔ آبشار کے دونوں حصوں کا پانی نشیب کی طرف بہتا ہوا ایک بہت بڑے تالاب میں مل جا تا ہے۔

پیرغائب، کوئٹہ سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پرواقع ہے۔ اس علاقے کا نام ایک بزرگ پر رکھا گیا، جوبرسوں سال پہلے اپنی بہن ’’بی بی نانی‘‘ کے ہمراہ لوگوں کواسلام کی دعوت دینے کی غرض سے یہاں آئے تھے۔ یہاں کے لوگ بت پرست تھے، اس لیےوہ ان دونوں کے دشمن بن گئے۔ یہاں تک کہ انہیں جان سےمارنے کی کوشش کی۔ تب بی بی نانی اپنے بچاؤ کے لیے بولان کی گھاٹیوں میں چھپ گئی۔ تادیر وہاں رہنے کے بعد ان کی موت واقع ہو گئی۔ وہیں ان کا مزار بنا دیا گیا۔

Sir Zamin-E-Pakistan Ki Sair Bibi Nani

بی بی نانی کا مزاربولان سے 15 کلو میٹر کے فاصلے پر پُل کے نیچے بنا ہوا ہے۔ جب کہ پیرغائب چٹانوں کے درمیان چھپ گیا، پھر کچھ عرصے بعد وہ غائب ہو گیا، اور ان کا کچھ پتہ نہ چلا۔ اسی وجہ سے یہ علاقہ “پیر غائب” کے نام سے مشہور ہے۔ یہ علاقہ اکثر بولان پاس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس جگہ اکثر ٹریفک جام ہو جاتا ہے تو کئی گھنٹوں تک لوگ اس جگہ بولان کے پانی میں نہاتے رہتے ہیں اور ڈرائیونگ کو بھی انجوائے کرتے ہیں۔

بی بی نانی کے اردگرد کوئی بہترین ہوٹل موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے سیاحوں کو کافی مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ پی ٹی ڈی سی (پاکستان ٹوریزم ڈیولپمینٹ کارپوریشن ) نے زیارت میں ایک ہوٹل قائم کیا ہے، مگر وہ سیاحوں کو خاصا دُور پڑتا ہے، اس لیے لوگ اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان لاتے ہیں مگر کھا پی کر وہیں کچرا پھینک دیتے ہیں جو اس جگہ کی خوب صورتی کو خراب کر رہا ہے۔ کچھ لوگ اس ٹھنڈے پانی میں نہا نہا کرواپس شام کو یا تو کوئٹہ چلے جاتے ہیں یا سبی کا رخ کرتے ہیں۔

Sir Zamin-E-Pakistan Ki Sair Bibi Nani

اس کے علاوہ سال 2015 تا 2014 میں بلوچستان پر14 دہشت گرد حملے ہوئے جس کے باعث سیاحت پر برااثر پڑا ہے اور بی بی نانی جیسے تسکین بخش تفریحی علاقے ویرانی کی نذرہوگئے ہیں۔ حال ہی میں خصوصی طور پر وزیراعظم نواز شریف نے پی ٹی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر چودھری کبیر احمد خان کو ہدایات دی ہیں کہ بلوچستان میں سیاحت کو بہتر بنایا جائے ۔اس کے لیے ہوٹل کے اخراجات کوکم کرنے،گرمیوں کے تفریحی پیکیجز کو متعارف کرانےاورسیاحوں کے جان و مال کی حفاظت پر زور دیا۔

پہاڑوں میں پوشیدہ ہونے کی وجہ سے بھی پیرغائب اور مین روڈ پہ واقعہ بی بی نانی زیارت کا علاقہ بالکل گم نام ہے اوراسی لیے یہاں تک ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی رسائی نہیں ہو پائی۔ ایک قدرتی تفریح مقام جہاں پر پہاڑوں سے نکلتا پانی علاقے کو سیراب کرتا ہواجاتا ہے اور لوگوں کو اپنی جانب مبذول کرواتا ہے، قدرت کا یہ حسین شاہکارعدم توجہ کی وجہ سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔

شاہ عبدالطیف سائیں کی شاعری کی سورمائیں (ہیروئن) عورتیں ہی ہیں۔ سسئی، مارئی، مومل، سوہنی، نوری یہ سب وہ کردار ہیں، جن کو انہوں نے اپنی شاعری میں بیان کرکے امرکردیا ہے۔ انہوں نے مرد کے بجائے اپنے کلام کے اظہار کے لیے عورتوں کا انتخاب کیا ہے، تاکہ معاشرے کو اس بات کا احساس دلایا جا سکے کہ عورت جسے ہم کم تر سمجھتے ہیں، وہ کسی بھی طرح کم تر نہیں، بلکہ ہمت، حوصلے، رومان اور مشکلات کا سامنا کرنے کی علامت ہے۔ مگر افسوس اس وقت مجھے ہوا جب بی بی نانی پہ میں نے کوئی کتاب، کوئی حوالہ ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر نا کام ہو رہا۔

Sir Zamin-E-Pakistan Ki Sair Bibi Nani

اللہ تعالی ہمارے لکھنے والوں کو ہمت دے جن مقامات پہ کوئی کچھ نہیں لکھتا، جو ہماری تاریخ سے جڑے ہیں، ان پہ کم از کم کچھ لکھیں تاکہ آنے والی نسل ہمارے تاریخی مقامات کو کم ازکم پہچان سکے اور ان کے بارے میں کچھ معلومات جان سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *