Shozaib Kashir Best Ghazals In Urdu

Shozaib Kashir Best Ghazals In Urdu

شوزیب کاشرؔ صاحب کی بہترین غزلیں قارئین کرام کے لیے پیش خدمت ہیں۔

دل پر نہ لیا کچھ بھی اثر سوچ سمجھ کر
ہم نے بھی کیا عشق مگر سوچ سجھ کر

ہر بار اٹھانا پڑا نقصان زیادہ
آغاز کیا جب بھی سفر سوچ سمجھ کر

گھر جل گیا اپنا بھی تو کس بات کا شکوہ
کیا تم نے جلایا تھا نگر سوچ سمجھ کر

اب جان پہ بن آئی تو کیوں کوس رہے ہو
تم نے تو ملائی تھی نظر سوچ سمجھ کر

سوچا تھا کہ بھولے سے بھی اب پیار نہ ہو گا
پھر کر ہی لیا بارِ دگر سوچ سمجھ کر

جس عمر میں جذباتی ہوا کرتا ہے انسان
وہ عمر بھی کی ہم نے بسر سوچ سمجھ کر

ایندھن کے لیے کاٹ دیا جاتا اسے بھی
بدلہ ہے پرندوں نے شجر سوچ سمجھ کر

گھر تک نہ چلا آئے زمانے کا تعفّن
رکھا نہیں دیوار میں در سوچ سمجھ کر

مر کر بھی نہیں مرتے شہیدانِ رہِ شوق
کٹوائے گئے دین پہ سر سوچ سمجھ کر

ہیہات ! ”لَفِی خُسر” کا مصداق یہ انسان
خود اس نے چنا جادۂ شر سوچ سمجھ کر

کچھ لوگ بھی خودغرض تھے کچھ ہم نے بھی کاشرؔ
رشتوں سے کیا صرفِ نظر سوچ سمجھ کر

شوزیب کاشرؔ

Shozaib Kashir Poetry In Urdu

Shozaib Kashir Best Ghazals In Urdu

پھر خدا سے اُلجھ پڑا ہوں کیا
اپنی حد سے نکل گیا ہوں کیا

تو مجھے دیکھنے سے ڈرتا ہے
لن ترانی کا سلسلہ ہوں کیا

اتنا کیا کان دھر کے سنتا ہے
میں بہت دور کی صدا ہوں کیا

پیرہن پھاڑ کر میں رقص کروں
عشق وحشت میں مبتلا ہوں کیا

بات دشنام تک چلی گئی ہے
سچ بتاؤ بہت برا ہوں کیا

کیا کہا تُو بھگت رہا ہے مجھے
میں کسی جرم کی سزا ہوں کیا

آ رہے لوگ تعزیت کے لیے
میں حقیقت میں مر گیا ہوں کیا

لوگ جھوٹا سمجھ رہے ہیں مجھے
یار میں کوئی گڈریا ہوں کیا

کن کہوں اور کام ہو جائے
آدمی ہوں کوئی خدا ہوں کیا

جس طرح چاہے گا برت لے گا
تجھ غزل کا میں قافیہ ہوں کیا

ایک ہی فارہہ سے پیار کروں
میں کوئی جون ایلیا ہوں کیا

میں انا الشوق انا الوفا ، کاشرؔ
بندۂ عشق دہریہ ہوں کیا

Shozaib Kashir Best Urdu Poetry

Shozaib Kashir Best Ghazals In Urdu

زمین اچھی لگی آسمان اچھا لگا
ملا وہ شخص تو سارا جہان اچھا لگا

جہاں پہ رہنا نہیں تھا وہیں پہ رہنے لگے
مکان چھوڑ کہ مالک مکان اچھا لگا

سب ایک جیسے حزیں دل تھے جمع ایک جگہ
یتیم بچوں کو دار الامان اچھا لگا

میں گھر کو جاتے ہوئے دشت میں نکل آیا
کہ جس میں قیس تھا وہ کاروان اچھا لگا

میں ہر سفید بدن پر لپکنے والا نہیں
تمہارے ہونٹ پہ تِل کا نشان اچھا لگا

مزے کی بات کہ دل ممتحن پہ آ گیا تھا
پھر اس نے جو بھی لیا امتحان اچھا لگا

چلا گیا تھا تو زندان ہو گیا تھا مجھے
وہ لوٹ آیا تو اپنا مکان اچھا لگا

نبی کا دین لہو کا خراج چاہتا تھا
خدا کو آپ ہی کا خاندان اچھا لگا

وہ سو رہے تھے اٹھے، اٹھ کہ چل دیے سوئے عرش
کہ دعوت اچھی لگی میزبان اچھا لگا

کرم کی حد ہے کہ لکنت کے باوجود انھیں
بس اک بلال برائے اذان اچھا لگا

دیار غیر میں قحط الرجال کے دن تھے
ملا جو کوئی بھی اہلِ زبان اچھا لگا

اسے عجیب غلط فہمی تھی کہ اچھا ہوں میں
خود اپنے بارے میں اس کا گمان اچھا لگا

وہ رب کے دھیان میں گم تھا میں اس کے دھیان میں گم
نماز پڑھتے ہوئے اس کا دھیان اچھا لگا

میں اس سے روٹھا ہوا تھا مگر رہا نہ گیا
کہا جب اس نے ، سنو میری جان ، اچھا لگا

دل ایک عشق پہ قانع نہیں تھا خانہ خراب
اسی کا ہو گیا جو مہربان اچھا لگا

وہ مسکراتے ہوئے چائے لائی جب کاشرؔ
پیالی اچھی لگی چائے دان اچھا لگا

Shozaib Kashir Best Ghazals In Urdu

Shozaib Kashir Best Ghazals In Urdu

اس کا بدلنے والا رویّہ تو ہے نہیں
دل گول گھوم جائے پہیّہ تو ہے نہیں

تجھ تک میں کیسے آؤں بڑی برف ہے یہاں
کشمیر میں پھنسا ہوں یہ لیّہ تو ہے نہیں

تم نے تو اوپر آنے میں گھنٹہ لگا دیا
ٹیرس ہے یار بامِ ثریّا تو ہے نہیں

پھر کیسے بات ہو گی اب اس ویک اینڈ پر
گاؤں میں تیرے فون مہیّہ تو ہے نہیں

منصور کے مرید بھلا کیسے چپ رہیں
مسلک میں اپنے شیخ تقیّہ تو ہے نہیں

ترکِ تعلقات بھی کر لیں گے کاشرا
الفت میں دین جیسا تہیّہ تو ہے نہیں

Shozaib Kashir

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *