Shozaib Kashir Beautiful Ghazals | Shozaib Kashir Poetry In Urdu

Shozaib Kashir Beautiful Ghazals

Shozaib Kashir Poetry In Urdu 

قربتِ یار نہیں یار مقدر میرا
ہے یہی ہجر کا آزار مقدر میرا
میں کہ منصور ہوں اس عہدِ ستم پیشہ کا
کبھی زنداں ہے کبھی دار مقدر میرا
ہاں یہی جرم ہے میرا کہ میں سچ بولتا ہوں
تہمتیں ہیں سرِ بازار مقدر میرا
کاتبا ! تیرے حوالے مری لوحِ قسمت
پھر ملے یا نہ ملے یار مقدر میرا
میں بھی دیکھوں کہ ہے تو کن فیکوں پر قادر
کر دے اس شخص کو اک بار مقدر میرا
Shozaib Kashir
Shozaib Kashir Beautiful Ghazals
یہ وہ غم ہے کہ نہیں جس کی تلافی ممکن
چھین کر لے گئے اغیار مقدر میرا
مجھ سے نفرت ہی کرو تم مگر اخلاص کیساتھ
جانتا ہوں کہ نہیں پیار مقدر میرا
پہلے پہلے اسے پانے کی تگ و دو کی بہت
بعد میں مان گیا ہار مقدر میرا
واہ رے یزدان مشیت تری کیا ہے جس کی
زد میں آیا بھی تو ہر بار مقدر میرا
جب بھی چاہا کہ اسے اپنا بنالوں کاشرؔ
بن گیا راہ کی دیوار مقدر میرا

Shozaib Kashir

Shozaib Kashir Beautiful Ghazals
بہتا ھے کوئی غم کا سمندر مرے اندر
چلتے ھیں تری یاد کے خنجر مرے اندر
کہرام مچا رہتا ہے اکثر مرے اندر
چلتی ہے ترے نام کی صرصر مرے اندر
گمنام سی اک جھیل ھوں خاموش فراموش
مت پھینک ارے یاد کے کنکر مرے اندر
جنت سے نکالا ھوا آدم ھوں میں آدم
باقی وہی لغزش کا ہے عنصر مرے اندر
کہتے ھیں جسے شامِ فراق اہلِ محبت
ٹھرا ہےاُسی شام کا منظر مرے اندر
آیا تھا کوئی شہرِ محبت سے ستمگر
پھر لوٹ گیا آگ جلا کر مرے اندر
احساس کا بندہ ہوں میں اخلاص کا شیدا
ہرگز نہیں خرص و ہوسِ زر مرے اندر
کیسے بھی ھوں حالات نمٹ لیتا ھوں ہنس کر
سنگین نتائج کا نہیں ڈر مرے اندر
Shozaib Kashir
میں  پورے دل و جان سےھو جاتا ھوں اُس کا
کر لیتا ہے جب شخص کوئی گھر مرے اندر
میں کیا ھوں مری  ہستی ہے مجموعۂ اضداد
ترتیب میں ہے کونسا جوہر مرے اندر
کڑتا ہے کبھی دل کبھی رک جاتی ہیں سانسیں
ہر وقت بپا رہتا ہے محشر مرےاندر
ہمشکل مرا کون ہے ہمزاد وہ ہمراز
رہتا ہے کوئی مجھ سا ہی پیکر مرے اندر
جب جب کوئی اُفتاد پڑی کھل گیا کاشرؔ
الہام کا اک اور نیا در مرے اندر

Shozaib Kashir

Shozaib Kashir Beautiful Ghazals

زمیں کو جان کر بستر پڑا ہوں
فلک کی اوڑھ کر چادر پڑا ہوں
Shozaib Kashir
کوئی کیوں خواہ مخواہ آنکھیں دکھائے
ارے کیا میں کسی کے در پڑا ہوں !!
امیروں کے جہاں پکّے مکاں ہیں
وہیں پر ڈال کر چھپّر پڑا ہوں
تمہیں معلوم کیا دکھ مفلسی کا
شکم پر باندھ کر پتھر پڑا ہوں
کچل دے ، روندھ دے ، پامال کر دے
ترے قدموں کی ٹھوکر پر پڑا ہوں
اُسے رستہ بدلنا ہی پڑا ہے
میں اُس کی راہ میں اکثر پڑا ہوں
Shozaib Kashir
مجھے بس وہ حزیں دل جانتے ہیں
جنوں بن کر میں جن کے سر پڑا ہوں
مری تصویر کیِسے میں رکھی ہے
میں اُس کی جیب کے اندر پڑا ہوں
خدا معلوم نیّت کوزہ گر کی
ابھی تو چاک کےاُوپر پڑا ہوں
بڑی صحرا نوردی ہو گئی تھی
پئے آرام اب تو گھر پڑا ہوں
مجھے اغیار میں مت بانٹ لینا
تمہارے پاس مثلِ زر پڑا ہوں
تمہارے ساتھ ہی ہریالیاں تھیں
تمہارے بعد میں بنجر پڑا ہوں
تمہاری یاد جس میں دفن کی تھی
اسی تابوت کے اندر پڑا ہوں
بہت دن بعد کاشرؔ اتّفاقاً
جو دیکھا آئینہ تو ڈر پڑا ہوں

Shozaib Kashir

Shozaib Kashir Beautiful Ghazals
زمین اچھی لگی آسمان اچھا لگا
ملا وہ شخص تو سارا جہان اچھا لگا
Shozaib Kashir
جہاں پہ رہنا نہیں تھا وہیں پہ رہنے لگے
مکان چھوڑ کہ مالک مکان اچھا لگا
سب ایک جیسے حزیں دل تھے جمع ایک جگہ
یتیم بچوں کو دار الامان اچھا لگا
میں گھر کو جاتے ہوئے دشت میں نکل آیا
کہ جس میں قیس تھا وہ کاروان اچھا لگا
میں ہر سفید بدن پر لپکنے والا نہیں
تمہارے ہونٹ پہ تِل کا نشان اچھا لگا
مزے کی بات کہ دل ممتحن پہ آ گیا تھا
پھر اس نے جو بھی لیا امتحان اچھا لگا
چلا گیا تھا تو زندان ہو گیا تھا مجھے
وہ لوٹ آیا تو اپنا مکان اچھا لگا
نبی کا دین لہو کا خراج چاہتا تھا
خدا کو آپ ہی کا خاندان اچھا لگا
وہ سو رہے تھے اٹھے،اٹھ کہ چل دیے سوئے عرش
کہ دعوت اچھی لگی میزبان اچھا لگا
کرم کی حد ہے کہ لکنت کے باوجود انھیں
بس اک بلال برائے اذان اچھا لگا
Shozaib Kashir
دیار غیر میں قحط الرجال کے دن تھے
ملا جو کوئی بھی اہلِ زبان اچھا لگا
اسے عجیب غلط فہمی تھی کہ اچھا ہوں میں
خود اپنے بارے میں اس کا گمان اچھا لگا
وہ رب کے دھیان میں گم تھا میں اس کے دھیان میں گم
نماز پڑھتے ہوئے اس کا دھیان اچھا لگا
میں اس سے روٹھا ہوا تھا مگر رہا نہ گیا
کہا جب اس نے ، سنو میری جان ، اچھا لگا
دل ایک عشق پر قانع نہیں تھا خانہ خراب
اسی کا ہو گیا جو مہربان اچھا لگا
وہ مسکراتے ہوئے چائے لائی جب کاشرؔ
پیالی اچھی لگی چائے دان اچھا لگا
Shozaib Kashir

1 comment on “Shozaib Kashir Beautiful Ghazals | Shozaib Kashir Poetry In Urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *