Shayari ka Badalta Takhleeqi Manzar Nama 1980 Ke Bad Episode 2

Shayari ka Badalta Takhleeqi Manzar Nama 1980 Ke Bad Episode 2

دوسری قسط

(شاعری کا بدلتا تخلیقی منظر نامہ ( 1980 کے بعد

تحریر: ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن

بہرحال میں بھی اس اصطلاح کو قبول نہیں کرتا۔ جواز یہی ہے کہ آنے والے کل کا مسئلہ مابعد جدید کا ہوگااور کیا ہم اس کے بعد آنے والے نئے نظریات کو مابعد جدیدیت کہیں گے۔ مابعد جدیدیت کو باضابطہ رائج کرنے والے گوپی چند نارنگ کے ذہن میں بھی اس اصطلاح کی تعریف واضح نہیں ہے۔انہوں نے اس کا خود اعتراف کیا ہے۔

ما بعد جدیدیت کا تصور ابھی زیادہ واضح نہیں ہے اور اس میں اور پس ساختیات میں جو رشتہ ہے اس کے بارے میں بھی معلومات عام نہیں۔ لہذا پس ساختیات کازیادہ تعلق تھیوری سے ہے اور مابعد جدیدیت کا معاشرے کے مزاج اورکلچرکی صورت حال سے ہے۔ تا ہم ایسا نہیں کہ ما بعد جدیدیت کو تھیوری دینے یا نظریانے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔ ایسی کچھ کوششیں ہوئی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ (اردو ما بعد جدیدیت۔ایک مکالمہ ص۔۱۹)

ایک اور مضمون میں آگے چل کر ص ۴۷میں لکھتے ہیں۔’’ اس وقت ہماری سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ مابعد جدیدیت کی کوئی وجدانی یافارمولہ بندتعریف ممکن نہیں کیونکہ مابعد جدیدیت بنیادی طورپر فارمولے وضع کرنے یا ہدایت نامے جاری کرنے کے خلاف ہے۔

Shayari ka Badalta Takhleeqi Manzar Nama 1980 Ke Bad Episode 2

لہذا مابعد جدیدیت اردو والوں کے پاس آ توگئی اور اسے اردو والوں نے بڑے کروفراور شان و شوکت کے ساتھ قبول بھی کیا مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ ہمارے پاس بری طرح پھنس گئی تھی۔ جدیدیت کا بھی یہی حال ہو گیا تھا وہ بھی پھنس گئی تھی مگر وہ بخیر و خوبی بیس پچیس برسوں میں ہمیں خیرباد کہہ گئی۔ مگر اس مابعد جدیدیت کا کیا ہوگا اس سے اردو کاکیا کچھ اور کتنا بھلا ہوگا ؟اردو شعر وادب کے ماتھے کا ستارہ کیامزید درخشاں ہوگا ،اس میں کون کونسی غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

اس سے کونسا ادبی و شعری منظرنامہ بدلے گا،خود بے چارے ادیبوں اورشاعروں کا کتنا اور کیسا بھلا ہوگا اور اس کے ذریعہ اردو کے عام قاری کا کیاہوگا۔ کیونکہ آج کا کلچر خود غرضی ،شاطرانہ اور بازاری شعور کے آس پاس چکر لگاتا ہے۔ہمیں نہیں چاہیئے ما بعد جدیدیت کا وہ تصور جہاں سودا سلف کی طرح سب کچھ محض مادی ہے۔ ضرورت ہے کہ کلچر کو شاعری کی روح بنایا جائے مگر اس طرح نہیں کہ ساخت شکنی لازمی ہوجیسی کہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے حواریوں نے ادب میں مچا رکھی تھی۔

یہ سب ادبی چونچلے بازیاں ہیں جس کا پروپیگنڈہ کرنے والے نام نہاد ناقدین اردو ادب ہیں جو خود تو تخلیقی عمل سے نہیں گذرتے اور کوئی فن پارہ وجود میں نہیں لاتے مگر کوئی ایک فنکار ان تمام جھمیلوں سے دور ایک کونے میں بیٹھ کر اپنے تخیلات و تفکرات اور تجربات و مشاہدات کو صفحٗہ قرطاس پر لاتا ہے تو اس پر وہ جدیدیت ،مابعد جدیدیت یا مابعد جدید کاٹھپّہ لگا دیتے ہیں اور ادب میں اپنی ناک اونچی کرتے ہیں۔

Shayari ka Badalta Takhleeqi Manzar Nama 1980 Ke Bad Episode 2

ہرزمانے میں اور ہر ملک میں علوم و فنون اور افکار میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں زمانے کے بدلتے ہوئے رجحانات کے ساتھ ساتھ تہذیبی اور ادبی روایات اور تقاضات بھی بدلتے ہیں مگرہم اردو والے بہت جلدان سے مرعوب ہوتے ہیں۔ ہمیں اس بات سے انکار نہیں ہے کہ عالمی ادبی منظر نامہ پر نظر نہ رکھیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہو نا چاہیئے کہ اس منظرنامہ سے نتائج اخذ کئے جائیں اور باضابطہ طور پر ایک لائحہ عمل تیا رکیا جائے۔

جو کسی کی نقل نہ ہوبلکہ ہمارا اپنا ہو۔مگر ہمارا باوا آدم ہی نرالا ہے کیونکہ ہر چمکتی ہوئی چیز کو دیکھ کر ہماری نظریں چکا چوند ہو جاتی ہیں۔ اس کے باوجود آج بھی ہم تہذیبی روایات کی چادر اوڑھے پھرنے کے عادی ہیں کیونکہ ہماری مذہبی اور تہذیبی جڑیں مستحکم اور پائیدار ہیں۔ایک دور تو وہ تھاجس کے تعلق سے اقبالؔ نے کہا تھا۔
گیا دور سرمایہ داری گیا
تماشا دکھا کر مداری گیا

یہ ترقی پسند وں کا دور اور عجیب ادب تخلیق پا رہا تھا ہرطرف انقلاب زندہ باد کے نعرے بلند ہورہے تھے، آنچل کو پرچم بنالیتی تواچھا تھا کہا جارہا تھا، رقص کرنا ہوتو پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ اور اٹھ مری جان مرے ساتھ چلنا ہے تجھے پر زور دیا جارہاتھا، پھرچند ہی دنوں بعد ایسا ادبی بھونچال آیا کہ جس بچے نے جنم لیا ہو پرکھ نلی سے کیسے آنکھ ملائے وہ بجرنگ بلی سے (کیف احمد صدیقی) تھوڑی دیر میں اک چراغوں کی تھالی کالی بلی سر پررکھ کر آئے گی (بشیر بدر) روز پکتی ہے شاعری کی بطخ خوب شب خوں کا چلا مطبخ (ظفر اقبال)

Shayari ka Badalta Takhleeqi Manzar Nama 1980 Ke Bad Episode 2

جس فکری ارتکاز اور شعورکی ضرورت تھی ،اطمینان قلب اور روحانی تسکین بہم پہنچانے کی ضرورت تھی۔ انتشار ذہنی کے شکار نوجوانوں کو سکوں و طمانیت درکار تھی تو اوٹ پٹانگ اورالّم غلّم قسم کے ادب کا بول بالا شروع ہوا۔ جس پر ابہام اورعلامت کی پرتیں اتنی موٹی ہو گئیں جیسے ایک دہقانی عورت نا مناسب اور بے ڈھنگے پن سے میک اپ کر تی ہو۔ جدیدیت آئی اس کے بعد ما بعد جدیدیت بھی شروع ہوئی اب جدیدیت اور مابعد جدیدیت سے آگے کیا ہے؟

یہ بہت بڑا اور اہم سوال ہے جب کہ مابعد جدیدیت کے بارے میں اردو میں جدیدیت کے امام شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کا کہنا ہے کہ ’’مابعد جدیدیت کوئی ادبی نظریہ نہیں ہے بلکہ فکری صورتحال ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ جدیدیت کے بعد کوئی نیا ادبی نظریہ سامنے آیا ہوجسے ہم مابعد جدیدیت کہیں۔‘‘اس قول میں سچائی بھی ہے۔ اگر یہ نظریہ ہوتا تو اس کی مکمل و منضبط تعریف بھی ہوتی۔ حالانکہ ایسی کوئی ٹھوس اور منظم تعریف جدیدیت کی بھی نہیں رہی ہے۔

ما بعد جدیدیت میں زمینی کلچر اور زمینی ادب مستعار ہے ۔ موضوعات وہی ہیں جو جدیدیوں کے رہے ہیں شایداسی لئے اکثر یہ کہتے ہیں کہ مابعد جدیدیت ، جدیدیت کی توسیع ہے اس کے علاوہ جدیدیت کے تعلق سے بھی یہ بات مشہور تھی کہ جدیدیت ترقی پسند تحریک کی توسیع تھی۔ حقیقت یہ کہ وہی دور پر فتن اور مصائب و آلام سے پر نہیں تھا بلکہ آج کا آدمی بھی تنہائی کا شکار ہے، آج بھی خوف و ہراس ہے، بے یقینی اور رشتوں کی شکست و ریخت جیسے موضوعات آج بھی ہیں۔

مگر آج کی شاعری میں اہمال و ابہام کی پرتیں اتنی دبیز نہیں رہ گئی ہیں۔ آج کی غزلوں میں یہ محسوس کریں گے کہ ایک آزاد شخص آزادانہ طور پر سانس لے رہا ہے۔ غزل میں گھٹن کا ماحول نہیں رہ گیا۔ شاید اسی لئی جدیدیت اور ما بعد جدیدیت کے ہمنوا بھی اپنی غزلوں کو آج کی خود جواز غزلوں کے ہم دوش و ہم قدم کرنے لگے ہیں۔ اسی لئے مہملیت ان کی غزلوں سے بھی جانے لگی ہے۔

آج کی ادبی نسل فیشن گزیدی کا شکار نہیں۔ اس کے سامنے عجیب و غریب قسم کے مسائل ہیں۔ لہذا وہ جو دیکھتی ہے ، جو محسوس کرتی ہے اور جو سوچتی ہے وہی کہتی ہے۔ جس میں مرچ مسالہ اور رنگ و روغن کم ہی ہوتا ہے۔ مذکورہ باتوں کو ذہن میں رکھ کرحالات کی روشنی میں یہ اشعارپڑھئے۔
کچھ ایسی دھوپ تھی صحرائے زندگی میں کلیم
میں چیختا ہی رہا آب آب ، کیا کرتا
(شاہد کلیم)
عجب مقام پہ لے آئی ہے بے گھری مجھ کو
طویل دشت ہے، سورج کے سائباں میں ہوں
(شہپر رسول)
دیکھنا ہو گر بنا کر کانچ کا گھر دیکھنا
کون برساتا ہے کس جانب سے پتھر دیکھنا
(ڈاکٹر داؤد محسنؔ )
وادی حیرت میں جب اترا تو میں ششدر نہ تھا
جسم تو بکھرے پڑے تھے ان پہ کوئی سر نہ تھا
(عین تابش)

Shayari ka Badalta Takhleeqi Manzar Nama 1980 Ke Bad Episode 2

موجودہ نسل کو ہم مابعد جدیدیت کی نسل سے منسوب کرتے ہیں۔ لہذا اس نئی نسل (مابعد جدید) کے سامنے اپنا دکھ ہے، اپنے مسائل ہیں اور ان تمام سے نبرد آزما ہونے کو یہ تیار ہے حالانکہ یہ نسل زندگی کے فتنوں ،صیہونی طاقتوں ،فکر امروز کے علاوہ مشینوں،سائنسی ایجادات،کلوننگ سسٹم اور بھی دوسری حیرت ناک تبدیلیوں سے با خبر ہے مگر اپنی مذہبی و تہذیبی جڑوں سے کٹنا نہیں چاہتی۔آج کی شاعری موضوعات کے ساتھ ساتھ اپنے لئے ڈکشن بھی وضع کررہی ہے جو اپنے پیش روؤں سے قدرے مختلف ہے۔ اپنی فکری اساس کو یہ نسل پوری طرح مستحکم کرنے میں کامیاب ہے۔

ہمارا کیا ہے تیری صاحبی بدنام ہوتی ہے
کہ ہم اپنی ملامت تیری پھٹکار وں پہ لکھتے ہیں
(فٖ، س اعجاز)
نکلا ہلال ِ عید شمشیر کی طرح
ہر دل لہو لہان ہے کشمیر کی طرح
(منیر سیفی)
جو سراپا التجا بن کر ملا تھا پہلے روز
اتنی جلدی پھر خدا بن جائے گا سوچا نہ تھا
(سراج اجملی)

Shayari ka Badalta Takhleeqi Manzar Nama 1980 Ke Bad Episode 2

آج کی شاعری میں خواہ مخواہ اصطلاح سازی اور وضع ترکیبی کم ہے۔یہ ساراکام خود شعری تخلیق کے دوران انجام پاتا رہتا ہے۔ مقصد شعر یہی ہے کہ شاعری میں معنوی گہرائی اور تہ داری کے ساتھ ساتھ تہذیبی اور معاشرتی مناسبت ہو۔ایساشعر ذہن و دل کے ظلمت کدے کو روشن کرنے کا وصف پیدا کرتا ہے۔آج ادب برائے ادب اور ادب برائے سماج دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔موجودہ زندگی پرآج کے فنکار کی گہری نظرہے اور اسے فن کی حرمت کا شعور اور ادراک بھی ہے۔ اسی لئے نعرے بازی اور تجریدیت دونوں سے الگ رہتے ہوئے ایک مثبت فکر کے ساتھ آج کی شاعری نت نئی منزلوں کو سر کرتی ہوئی آگے بڑھتی جا رہی ہے۔نتیجتاً یہ تشکیک کے غار سے نکل کر باہر آگئی ہے۔

یہ معاشرے اور اس کے مسائل سے سروکاررکھتی ہے مگر ترقی پسندیوں کی طرح نہیں جہاں شاعر اپنے گلے میں ڈھول لٹکائے مداری کی طرح اپنے جمبورے سے یہ پوچھتا ہے کہ ’’ اس بابو کی جیب میں کیا ہے؟اس بابو کے سر پر کیا ہے؟بابو جی اپنے جیبوں کو سنبھالئے۔ جس کی کرتب بازیوں سے ناظرین یعنی قارئین دم بخود رہ جائیں۔ ترقی پسندوں نے سماج کو شعر و ادب پر فارمولے کی طرح تھوپ کر نعرہ بازی شروع کر دی ورنہ سب سے اچھا ادب اسی عہد میں تخلیق ہوتا۔ آج کی غزلوں میں بنیان اور شلوار کی نمائش نہیں ہوتی ہے۔ جیسا کہ سابقہ شعراء کے پاس موجود ہے۔

……….جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *