shayari ka Badalta Takhleeqi Manzar Nama 1980 Ke Bad Episode 1

shayari ka Badalta Takhleeqi Manzar Nama 1980 Ke Bad Episode 1

(شاعری کا بدلتا تخلیقی منظر نامہ ( 1980 کے بعد

تحریر: ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن

مغرب میں جدیدیت 1890ء سے شروع ہو کر 1930ء میں ختم ہوجاتی ہے۔ اسکے چھ برس بعد اردو والے ترقی پسندی کے نام پرخواب گراں سے بیدار ہوتے ہیں اوراسے نئی سمجھنے لگتے ہیں۔ جو چیزمغرب والے پرانے کپڑوں کیطرح اتار پھینکتے ہیں تو ہم اسے اترن سمجھنے کی بجائے شان سے اپنا لیتے ہیں۔ پھرطرّہ یہ کہ ادب میں ہم اسے ایک رجحان یا تحریک کا نام دیتے ہیں۔ یہی نہیں جدیدیت کا آغازبھی ہمارے یہاں 1960ء کے آس پاس ہوتا ہے۔

جدیدیوں کے مطابق جدیدیت دراصل تجریدیت اور وجودیت کے خمیر سے تیار ہوئی ہے۔ یہ وجودیت بھی مغرب میں پہلی جنگ عظیم کے بعد مقبول خاص وعام ہو چکی تھی۔ فلسفۂ وجودیت کے مطابق انسان کرب، تنہائی، انسانی وجود منتشر ہوجانے، احساس جرم، قعر ضلالت کا اور حیات انسانی کے بے معنی ہونے کا ادراک حاصل کرتا ہے۔ اس ادراک کے بعد وجود انسانی ،آزادی کا جویا ہوجاتا ہے۔ اسکے بعد وہ کسی طرح کی پابندی قبول کرنے کے حق میں نہیں ہوتا ہے۔

shayari ka Badalta Takhleeqi Manzar Nama 1980 Ke Bad Episode 1

جب اس آزادی کو صحیح سمت و رفتار نہیں ملتی تو اس کی فکر انسانی تفکرات و تصورات سے متصادم ہو جاتی ہے۔ اوراس عالم میں وہ عجیب وغریب حرکتیں ہی نہیں کرتا ہے بلکہ عجیب قسم کا ادب بھی تخلیق کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور بسا اوقات یوں کہنے پر آمادہ ہوجاتا ہے کہ۔
ذرا ٹھیر ابّا ادھر آگئے اری سالی جلدی سے جمپرگرا
بکری میں میں کرتی ہے بکرا زور لگاتا ہے
سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ اور سورج کو مرغے کی چونچ میں لے کر کھڑا ہونے والے دیگراشعار کیوں اور کیسے شہرت پاگئے۔

اس میں کیا ہے کونسی جدت ہے اور کونسی ندرت ہے کونسی وجودیت ہے اور کونسی نئی چیز ہے یا کونسی نئی بات ہے اور کون سے جدید اندازمیں کہا گیا ہے۔ جس پر جدیدیت کی اساس قائم ہے۔ اسی طرح جدیدیت کے نامورشاعر جناب افتخار جالب کی نظم’’ نفیس لامرکزیت اظہار‘‘ کا یہ حصہ ملاحظہ فرمائیے اور ذرا دیر تک آنکھ بند کرکے اپنے ذہن کے تمام دریچے ہی نہیں دروازے کھول کر غورکیجئے اوراگرسمجھ میں کچھ آجائے تو ہم جیسے طفلان ادب کو بھی ذرا سمجھائیے۔ ہم آپکو سلام کریں گے۔

shayari ka Badalta Takhleeqi Manzar Nama 1980 Ke Bad Episode 1

کیا تنک ظرف شدھ الرجک جمیع تعظیم دل پھپھولے، سفید خاکستری پپوٹوں میں دم بخود، دائمی شراروں کی آنکھ، آنگن میں تنہا مرغی غنودگی کا شکار۔
ذرا اس نظم کو غور سے پڑھئے اور سردھنئے اسکے بعد اسکے اندر غوطہ لگانے کی کوشش کیجئے۔ اس میں کیا ہے کونسی نئی بات ہے کونسا انوکھا اوراچھوتا خیال ہے، کونسی علامت، ابہام کی نازک نازک پرتیں ہیں، پھرکونسا کنایہ ہے اور کونسی رمزیت یا اشاریت ہے ہم اور آپ ہی کیا اگر رد تشکیل کے دعویدار بھی اپنی پوری قوت اورطاقت صرف کردیں اور پورا زور لگا دیں تب بھی معنی نہیں کھل سکتے۔ اگر اس میں کچھ معنی ومفہوم ہوں توکھلیں گے۔ کیونکہ اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اس طرح وجودیوں کے افکارو تصورات میں جابجاآپ کو تضادات کی بھر مار ملے گی۔ آگے چل کر یہی تضادات جدیدیت کی بنیاد بن گئے۔

جدیدیت کے متوالے داخلیت اور حقیقی وجود کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ اگروہ داخلیت یا حقیقی وجود کے پیچھے ہاتھ دھوکرنہ پڑتے۔ توایسی افرا تفری اور ہنگامہ خیزی ہرگز نہ پھیلتی۔ انہوں نے سائنس کےعلاوہ مذہبی واجتماعی تصورات کوبھی رد کردیاتھا۔ اخلاقی قدروں کو بالائے طاق رکھ کرجنسی ادب کھل کر پیش کرنے لگ گئے۔ انکے تحت مذہب، اخلاق اور جبر سے فلسفہء وجودیت کا کوئی رشتہ نہیں۔ دراصل مذہب میں پابندیاں ہوتی ہیں ترقی پسندوں کےلئے بھی مذہب سے کوئی رشتہ نہ تھا۔اسی لئے کہ ترقی پسندیئے اور وجودیے انفرادی آزادی کے قائل تھے۔

shayari ka Badalta Takhleeqi Manzar Nama 1980 Ke Bad Episode 1

اسی لئے توساقی فاروقی اورمحمد علوی یا مصور سبزواری اوردوسرے جدیدیوں نے مذہب بیزاری اور خدا سے کفرکی حد تک شوخی کی۔ جس سے تعفن اورسرانڈ پیدا ہوگیا جس سے موجودہ نسل پناہ مانگتی ہے۔ چند تعیش پسند اورعیاش دماغوں نے شاعروں کو ہی نہیں بلکہ شاعرات کو بھی جنسی ترغیبات پر مبنی شعروادب تخلیق کرنے پرمبارکبادیاں پیش کیں۔ مگر یہ شاعرات بھی معصوم اوراپنی تہذیبی اورمذہبی جڑوں سے بے پرواہ ہو کر بازاری جنسیات میں متبدل ہو گئیں۔ نتیجہ میں ایسی شاعری وجود میں آنے لگی کہ ان کی شہرت میں چار چاند لگ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان شاعرات کامستقبل تابناک ہو گیا۔

اوروہ پنچ ستارہ ہوٹلوں میں شب وروز گذارنے لگیں اورانکے یہاں جام و میناکا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عجیب کلچراورتذکیر وتانیث کا حسین شعری امتزاج پیدا ہوگیا۔ کسی کو کوئی ہوش نہ رہا۔ سب اپنی جگہ مدہوش۔ پوچھو کون ہے؟ کیا نام ہے؟ کہاں سے آیا ہے اورکہاں جا تا ہے؟ہونٹ لرزتے ہیں، آنکھوں کی بوجھل پپنیاں اورپلکیں، اف الغرض وجودیوں نے ایسی آندھی چلائی کہ ایک ہلچل سی مچ گئی اور پھردیکھتے ہی دیکھتے چیخ و پکار، گریہ وزاری، اجنبیت، بے چہرگی، تشکیک اور بے گانگی نے انسانی روح پر دھاوا بول دیا۔

جدیدیت کا یہ سلسلہ 1960ء سے 1980ء یا اس کے بعد پانچ چھ برسوں تک رہا۔اس کے بعد تشکیل ، ردِ تشکیل اور ساختیات ،پسِ ساختیات جیسی اصطلاحیں اختراع کی گئیں۔ جنہیں ادب کے حواریوں نے تحریک یا رجحان کا نام بھی دینے کی کوششیں کیں۔ میں یہاں ساختیات اور پسِ ساختیات کی پیچیدگیوں میں الجھنا چاہتا ہوں اور نہ ہی تشکیل اور رد تشکیل کو سمجھنا چاہتا ہوں۔ مگریہ کہنا ضرور چا ہوں گا کہ1980ء کے بعد ایک اور سلسلہ کا آغاز ہوا جسے مابعد جدیدیت کا نام دیا گیا۔ عربی میں ’ما‘ یعنی جو کچھ،بعد یعنی اور جدیدیت یعنی ماڈرن اس طرح کل ملا کر جدیدیت کے معنی’’ جدیدیت کے بعد جو کچھ‘‘ کے ہوتے ہیں۔

shayari ka Badalta Takhleeqi Manzar Nama 1980 Ke Bad Episode 1

یہ مابعد جدیدیت بھی ایک عجیب و غریب اصطلاح ہے جس کی تعریف میں مختصراًیہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ محض ایک ’’ صورتحال‘‘ ہے۔ یہ صورتحال بھی تعجب خیز لفظ ہے جس کی تعریف یا اسے ڈیفائن کرنا مشکل ہے کیونکہ ’’صورتحال ‘‘تو ہمیشہ ’’ صورتحال ‘‘ ہی رہے گی۔ جدیدیت کے بعد چونکہ بعد جدیدیت کا لفظ کافی تھا اس پر ما کا اضافہ کردیا گیا۔ اس ما بعد میں ایک نقص یہ بھی ہے کہ جدیدیت کے بعد جو کچھ بھی ہوگا وہ سارا ادب مابعد جدیدیت کے ذیل میں آئے گامگریہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس میں زمانے کا تعین کیا ممکن ہوگا۔ اگر ہوگا تو اس مابعد جدیدیت کے بعدکیا نام دیا جائے گا بعد مابعد جدیدیت،بعدبعد مابعد جدیدیت۔۔واللہ عالم بالصواب ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *