Shakir Kandan Ki Ghazal Ka Fikri Jaiza

شاکرؔ کنڈان کی غزل کا فکری جائزہ

شاکرؔ کنڈان کی غزل کا فکری جائزہ

مضمون نگار: عبداللہ نعیم رسول

وقتِ سحر وقتِ مناجات ہے
خیز در آں وقت کہ برکات ہے

بارہویں صدی عیسوی میں بابافریدشکرگنج(۱۱۷۸ء تا۱۲۶۵ء) کےان دوہوں سے اردو شاعری اور اُردو غزل کا آغاز ہوا۔اردو کے دوسرے شاعر امیر خسرو (م۱۳۲۵ء)تھے، انھوں نے کئی اصنافِ نظم میں لکھا۔ یہ حضرات شمالی ہند(دلّی) سے تعلّق رکھتے تھے۔ دکن کے معروف اردو شعراء نُصرتی، قلی قطب شاہ، ولی دکنی تھے۔ ولی نے فارسی شاعری میں برتے گئے مضامین کو اردو شاعری میں باندھا۔ یوں رفتہ رفتہ اردو شاعری کاارتقاء ہوتا رہا تا آں کہ دو دبستان قائم ہوئے، دبستانِ دہلی اور دبستانِ لکھنؤ۔

دبستانِ دہلی کا حصّہ میرؔ، غالبؔ، مومنؔ، ذوقؔ، ظفرؔ وغیرہ، جبکہ دبستانِ لکھنؤ میں مصحفیؔ، جرأتؔ، آتشؔ، ناسخؔ وغیرہ شامل تھے۔

ہیئت کے اعتبار سے اردو غزل کے پہلےشعرکےدونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف یا صرف ہم قافیہ ہوتے ہیں جسے مطلع کہا جاتا ہے،اسکے علاوہ ہر شعر کے دوسرے  مصرعے کے آخر میں قافیہ اور ردیف یا صرف قافیہ آتا ہے، جس غزل میں ردیف ہو اسے مردّف غزل اور جس میں ردیف نہ ہواسےغیرمردّف غزل کہا جاتا ہے۔ غزل کا آخری شعرجس میں شاعراپنا تخلّص لاتا ہے، مقطع کہلاتا ہے۔ تخلص اس مختصر نام کو کہتے ہیں جو شاعر اپنے اشعار میں لاتا ہے، مثلًا میرؔ، ذوقؔ، مصحفیؔ وغیرہ۔

شاکرؔ کنڈان کی غزل کا فکری جائزہ

اگر آخری شعر میں تخلّص نہ ہو تووہ شعر مقطع نہیں کہلائے گا بلکہ اسے غزل کا آخری شعر ہی کہیں گے غزل کے اشعار کی تعداد عموماً پانچ سے سترہ بتائی جاتی ہے، مگر اسکی کوئی قید نہیں۔ اردو میں آزاد غزل اور نثری غزل لکھنے کے تجربے بھی کئے گئے مگر کامیاب نہ ہو سکے۔

تقسیمِ ہند (۱۹۴۷ء) کے بعد پاکستان میں دبستانِ کراچی، دبستانِ لاہور، دبستانِ راولپنڈی کے علاوہ دبستانِ سرگودھا منظرِعام پر آیا۔ جب کبھی دبستانِ سرگودھا کا نام سامنے آتاہےتو فوراً ایک شخصیت کا نام ذہن میں آتا ہےجو شاکر کنڈان کا ہے۔ اس حوالے سے انکی کتاب سرگودھا  کا دبستانِ شاعری (حصّہ اوّل)‘‘اور ’’ سرگودھا کا دبستانِ شاعری(حصّہ دوم)‘‘ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

شاکر کنڈان ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ وہ افسانہ نگار، سفر نامہ نگار، انشائیہ نگار، مضمون نگار، محقق اور نقّاد ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے شاعر بھی ہیں۔ بچپن سے ہی انکی طبیعت شعر و شاعری کی طرف راغب تھی۔ سکول میں ہم نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں حصّہ لیتے ۔ تقریر اور بیت بازی کے مقابلوں میں تو باقاعدگی سے شرکت کرتے۔ سکول کے زمانے میں ہی شعر کہنا شروع کئے۔ اور اب ایک دنیا انکی مدّاح ہے۔

ملک شاہ سوارعلی ناصر نے انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا کیا آپکو کبھی کسی سے محبت ہوئی تو انھوں نے کہا ’’ہاں!کتاب سے‘‘۔ یہ مکمل انٹرویو’’کچھ بھی نہ کہا‘‘کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔ شاکر کنڈان کا کتابوں سے عشق مثالی ہے۔ انکے گھر میں تقریبًا بارہ ہزارکتب موجود ہیں یعنی ان کا گھر ’’کتاب گھر‘‘ ہے۔ وہ وسیع المطالعہ شخص ہیں، یہی وجہ ہے کہ انکی شاعری بہت سے موضوعات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ شاکر کنڈان کی شاعری فکری اپج کی عمدہ مثال ہے۔

شاکرؔ کنڈان کی غزل کا فکری جائزہ

انھوں نے کئی اصنافِ نظم میں طبع آزمائی کی ہے مگر یہاں صرف اُنکی غزل کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ انکی غزل کے چار شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جنکے نام’’ آشوبِ زیست‘‘،’’رفاقتوں کی فصیلیں‘‘،’’ہتھیلی پہ سورج‘‘ ، اور ’’ریاضت‘‘ہیں۔

انکی غزلوں میں موضوعات کا تنوّع ہے۔ اشعار بلندئ فکر کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہیں کہیں حمدیہ اور نعتیہ اشعار نظر آتے ہیں۔حمد اللہ پاک کی تعریف میں کہے گئے اشعار ہوتے ہیں جبکہ نعت حضورنبی کریمﷺ کی تعریف میں کہے گئے اشعاریاایسےاشعارجن میں شاعر حضورﷺ سے اپنی محبت کے جذبات کا اظہار کرے۔ انکے ہاں تصوف اور روحانیات سے متعلّقہ اشعار بھی ملتے ہیں۔

یہ کون ہے جو محافظ ہے رنگ و خوشبو کا
کسی نے تو یہ زمانہ اُجال رکھا ہے
بس ایک لمحہ کہ جس نے بدلا نظامِ عالم
بس ایک لمحہ وہی تو شاکرؔ منیر ٹھہرا

بدن سے روح تک جانے کی خاطر
کئی صدیاں خشوع کرنا پڑے گا
جسے دل کے صنم خانے میں خواہش ہو عبادت کی
وہ پتھر میں کبھی اپنا خدا رہنے نہیں دیتا

انکی شاعری حکمت کے نکات سے پُر ہے۔ وہ فرقہ بندی کے خلاف اور اتّحاد کے پیغامبر ہیں۔ قرآن پاک میں فرمانِ باری ہے کہ : ’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لواور فرقہ فرقہ مت بنو

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔ صحابہ واہلِ بیت کی زندگیاں اتّحاد و اتّفاق کا عمدہ نمونہ ہیں۔ اسلا ف و علماءِ دین نے بھی اتّحاد پر زور دیا۔ ہمارے اکثر معاشرتی مسائل کی وجہ ہمارے اندر اتّحاد کا فقدان ہے۔ شاکر ذات پات کے مسائل میں نہیں الجھتے اور اس سے ماورا ہو کر مل جل کر رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔

ہمارے عہد میں یہ المیہ تو ختم ہوا!
کہ پوچھتا ہی نہیں اب حسب نسب کوئی

دین میں کسی ذات کو فوقیت نہیں بلکہ فضیلت کا معیار تقوٰی ہے۔ وہ شعروں کےذریعے اخلاقیات کا درس دیتے ہیں۔ موت کا ذکر ان کے شعروں میں بار بار آتا ہے۔

ہم ہتھیلی پہ لئے سورج کو
صورتِ شام ہوئے جاتے ہیں
کیا تجھے اشک بہانے سے ملے گا شاکر
پک گیا تھا جو سرِ شاخ ثمر گرنا تھا

یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ شاعری کسی بھی شاعر کی زندگی کی عکاس ہوتی ہے۔ بہت سے شعرأ اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات اور دلی کیفیات و جذبات کو شعروں میں نظم بند کرتے ہیں۔ اصطلاح میں اسے داخلیت کہتے ہیں۔ خواجہ زکریا لکھتے ہیں۔

داخلیت سے مراد یہ ہے کہ شاعر باہر کی دنیا سے غرض نہیں رکھتا بلکہ اپنے دل کی دنیا میں جھانک کر اس کی واردات کا اظہار کرتا ہے۔ اگر باہر کی دنیا کے بارے میں کچھ کہتا ہے تو اسے بھی شدید داخلیت میں ڈبو کر پیش کرتا ہے۔ انکے کلام میں روایت اور کلاسیکی غزل کا رنگ نظر آتا ہے۔ کلاسیکی شاعری میں ہمیں رنج، دکھ، اور مصائب و آلام کا ذکر بار بار ملتا ہے۔

شاکرؔ کنڈان کی غزل کا فکری جائزہ

میرؔ کی شاعری کو آہ کی شاعری کہا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر دلّی کی شاعری دکھوں بھری شاعری ہے، یعنی دلّی کے شعرأ کا عمومی رجحان داخلیت کی طرف رہا۔ شاکر کنڈان نے بھی داخلی موضوعات کوشعروں میں نظم کیا ہے۔ خوشاب سے تعلّق رکھنےوالے ایک شاعر فاروق لودھی ان کی شاعری پر یوں تبصرہ کرتے ہیں۔

چونکہ نا مساعد حالات انسان کو شاعر بنا دیتے ہیں۔ اس لئےایک شاعر جتنا زندگی کی حقیقتوں سے واقف ہوتا ہے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ جناب شاکر نے بھی زندگی کو ایسے زاویے سے دیکھا ہے۔‘‘
اپنے دکھ،دھرتی کے دکھ،احباب کے دکھ حالات کے دکھ
ایک اکیلی جان کے اوپر کیا کیا آن کے تڑپے دکھ
تجربہ ہے یہ میرا شاکر ؔ زیست کے ان دو لمحوں کا
تعبیریں بھی دکھ ہوتی ہیں جب ہوتے ہیں سپنے دکھ
میں نے اس طریقے سے زندگی بسر کی ہے
اک سفر ،سفر میں تھا دوسر ا سفر آیا
محبتوں میں تغیّر پسند ہوں شاکر
کہ دل اداس بھی تھا اور شادماں بھی رہا

داخلیت کے ساتھ ساتھ خارجیت بھی ان کے کلام کا حصّہ ہے ۔ڈاکٹر ابواللّیث صدیقی خارجیت کی یوں تعریف کرتے ہیں:۔ ’’خارجیت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ شاعر جذبات،احساسات اور کیفیات کی جگہ صرف لوازم اور متعلقات میں الجھ کر رہ جاتا ہے،وہ محبوب کی آنکھوں میں شراب سے پیدا ہونے والی کیفیت نہ محسوس کرتا ہے اور نہ دوسروں کو محسوس کرا سکتا ہے،وہ صرف ان کے لباس، زیورات، سامانِ آرائش،کنگھی چوٹی،مسی،آئینہ،محرم اور انگیا کی چڑیا پھانسنے کی فکر میں گم رہتا ہے۔

یہ خارجیت کی ایک محدود تعریف ہے۔ اسکے علاوہ بھی کئی مضامین خارجیت کا حصّہ ہیں۔ خارجی شاعری میں شاعر کائنات کا مطالعہ کرتا ہے، مختلف واقعات کا ذکر کرتا ہے، مناظر کو شعروں میں بیان کرتا ہے۔ خارجی شاعری زیادہ تر بیانیہ شاعری ہوتی ہے۔ لکھنؤ کی شاعری میں خارجیت کا عنصر غالب رہا۔ شاکر کنڈان بڑے د لکش انداز کے ساتھ خارجی عوامل کو شاعری میں برتتے ہیں۔ انکی غزل میں زندگی کا احساس موجود ہے۔ انکی شاعری اپنے عہد اور معاشرے کی عکّاس ہے۔

شعروں میں تاریخی و سماجی شعورنظرآتا ہے۔دورِ حاضر میں فیشن کے نام پہ پھیلتی بے حیائی کو بُرا سمجھتے ہیں۔ سیاسی و سماجی مسائل اور المیوں کو موضوعِ شعر بناتے ہیں اور بُرے سیاسی نظام کے خلاف کھل کر بات کرتے ہیں۔
ہر ایک دور میں چہرے بدل کے آتے رہے
نظامِ کہنہ کی لیکن شباہتیں نہ گئیں
اک دستِ بد قماش کی سُرخی کے واسطے
کتنے لہو کو رنگِ حنا کر دیا گیا
اے وطن! جھوٹے ترانے ہیں تری عظمت کے
ورنہ گردن تو تری حلقۂ سفّاک میں ہے
بے حجابی میں یہ فیشن کی تگ و دو ہیہات
دخترِ قوم کی عادات پہ رونا آیا
ہے یہ شاکرؔ مرے عہد کا المیہ
بِن بیاہی کئی بیٹیاں رہ گئیں

وہ اپنی اعلیٰ اقدار سے مزیّن تہذیب کے لاشے پہ کھڑے نوحہ کناں ہیں۔ وہ بُری روایات اور فرسودہ رواجوں سے نہ صرف بیزار ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ اس کا نعم البدل(بہترین نظام) تلاش کر تے ہیں۔
تہذیب کے لاشے پہ کھڑا کب سے نجانے
فرسُودہ رواجوں کا بدل سوچ رہا ہوں

وہ حسبِ حال گفتگو کرتے ہیں۔ان کا اسلوب دیگر شعراء سے قدرے منفرد اور خوبصورت ہے۔سیف الدّین سیف نے کہا تھا۔
سیف اندازِ بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
یہی اندازِ بیاں انھیں دیگر شعراء سے ممیّز کرتا ہے۔ اس سلسلے میں م۔ت۔ذکی کی رائے اہم ہے۔ ایک بات جوشاکر کنڈان کو اپنے معاشرے میں ممیّز کرتی ہے وہ انکا انفرادی رنگِ تغزّل ہے۔ انکی غزلوں کے مضامین جیتے جاگتے معاشرے سے متعلق ہوتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شاکر کی غزلوں میں محض پند و نصائح کے دفاتر کھلے ہوئے ہیں۔ انکے ہاں حسرت کی رنگین مزاجی اور شگفتہ بیانی بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار ملاحظہ ہوں۔

ایک کافر سے آشنائی کی
دِل نے ایمان سے برائی کی
گو حسینوں سے ملاقات نہیں ہو سکتی
چھپ کے بھی ان سے کوئی بات نہیں ہو سکتی؟

حسن وعشق اردو غزل کے اہم موضوعات ہیں۔ مختلف تشبیہات و استعارات کےذریعے محبوب کے حسن و جمال کا بیان کیا جاتاہے۔ ولیؔ محبوب کی آنکھوں کو ہرن سے تشبیہ دیتا ہے تومیرؔ محبوب کے لبوں کی نازکی کو گلاب کی پنکھڑی سے تشبیہ دیتا ہے۔ صنائع بدائع سے شعروں میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ فن میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ خصوصاًنظریہ ’’ادب برائے ادب ‘‘ کے تحت کی جانے والی شاعری ان موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔

شاکرؔ کنڈان کی غزل کا فکری جائزہ

انکی غزل میں عشق، محبت، حسن اور جمالیات ایسے موضوعات بھی ملتے ہیں۔ اردو شاعری میں ایک اصطلاح’’معاملہ بندی ‘‘ہے۔ معاملہ بندی سے مُراد معاملاتِ حسن و عشق کو شاعری میں نظم بند کرنے کے ہیں۔ عہدِ غالب میں معاملہ بندی کے بڑے شاعر مومن خاں مومنؔ تھے۔ شاکر کنڈان کی شاعری میں بھی معاملہ بندی کے اشعار ملتے ہیں۔

میں نے اک مہتاب کو دیکھا تھا آنکھیں کھول کر
اب نظر میں آفتابِ وقت بھی جچتا نہیں
تیرا بھی مجھ سے کوئی تعلق ضرور ہے
انگلی اٹھی جو مجھ پہ تو شق ہو گیا ہے تُو
بچھڑتے وقت بھرم رکھنے کے لئے شاکرؔ
کسی نظر سے سہی مُڑ کے اُس نے دیکھا تو

اردوغزل میں محبوب کی بے رُخی، بے اعتنائی اور بےوفائی کا ذکربھی ملتا ہے۔ اس موضوع کو کلاسیکی و جدید شعرأ نے اپنے شعروں میں برتا۔ مگر جس انداز سے شاکر کنڈان نے برتا، یہ انھی کا خاصہ ہے۔ انکے ایسے اشعار میں صیغہ مؤنث نہیں ہے۔ وہ ہر منافق کے چہرے سے پردہ اُٹھاتے ہیں اور اسکی حقیقت ظاہر کر تے ہیں۔
مجھے معلوم ہے تیری زباں میں شہد شامل ہے
ترا زہریلا لہجہ تیری فطرت ہو نہیں سکتی
وہ ایسے رویّے پر طنز بھی کرتے ہیں۔
میں زندگی میں کبھی اِتنا رائیگاں تو نہ تھا
یہ تُو نے کیوں مُجھے خود سے نکال رکھا ہے

فیض احمد فیضؔ، ضمیرؔ جعفری، افضل گوہرؔ اور مقبولؔ حسین اردو کے معروف شعرأ ہیں اور ان سب کا تعلق پاک آرمی سے تھا۔ یہ سب صاحبِ سیف و قلم ہیں، اور انھی میں سے شاکر کنڈان بھی ہیں۔ شاکر کنڈان پاک آرمی سے ریٹا ئیرڈمیجر ہیں۔ انھوں نے زندگی کا ایک طویل عرصہ پاک فوج میں گزارا۔ وہ ایک سچے حبّ الوطن ہیں۔ انکی شاعری میں بھی جذبۂ حبّ الوطنی کا اظہار اور سپاہیانہ اوصاف کا ذکرملتا ہے۔

اجمل جنڈیالہ نے ان کے بارے کہا تھا
کیپٹن تجھے ادب کا بھی رب نے بنا دیا

ملک شاہسوار علی ناصر اپنے مضمون ’’شاکر کنڈان،ہمہ جہت شخصیت‘‘میں لکھتے ہیں کہ:۔

شاکر نہ زر پرست ہے نہ مادیت پرست۔ وہ ایک دفعہ سرکاری فرائض کے سلسلے میں وطن سے باہر گیا اور جب انا کو مجروح ہوتے دیکھا تو قسم کھا لی کہ دولت کمانے کے لئے وطن سے باہر کبھی نہیں جائے گا۔‘‘ انھوں نے تلوار سے بھی جہاد کیا اور قلم سے بھی اور یوں صاحبِ سیف و قلم ٹھہرے۔
میں نے کب کی ہے دیارِ غیر کے دھن کی طلب
مفلسی میں بھی مجھے اپنا وطن اچھا لگے
وطنِ عزیز پر جو کبھی وقت آئے گا
شاکر ؔ گزر ہی جاؤں گا میں اپنی جان سے
گو لی سے بچاؤ کو پنہ گاہ جو ڈھوندیں
ثابت وہ کبھی اچھے کمانڈر نہیں ہوتے
فرنٹ رو میں کھڑا ہوں میں سینہ تانے ہوئے
یہ وال میپ پر ہیں نکبتیں لکھیں کس نے

شاکر کنڈان کی شاعری میں جہاں روایت کی پیروی نظر آتی ہے وہاں جدیدیت بھی نظر آتی ہے۔م۔ت۔ذکی ان کی غزل پر اپنی رائے دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔’’شاکر کے جذبے کی سچائی ان کی شاعری سے بخوبی عیاں ہے۔ان کے لہجے میں روایت سے جو اختلاف پایا جاتا ہے اس میں نہ تو وہ روایت کے باغی ہیں نہ اسیربلکہ انھیں گزرے کل اور آنے والے کل کے درمیان ایک پُل کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

وہ ابتذال سے اپنی شاعری کے دامن کو بچاتے ہیں۔شاکر کنڈان کی اکثر شاعری ’’ادب برائے زندگی‘‘ کی شاعری ہے۔ وہ ایک پُر گو شاعر ہیں۔دنیا بھر کے ادباء و شعراء نہ صرف ان سے واقف ہیں بلکہ ان کو بڑا شاعر بھی مانتے ہیں جن میں ڈاکٹر وزیر آغا بھی شامل ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ گزشتہ سال جب میں بزمِ طارق عزیز میں گیا تو وہاں میری ملاقات اردو کے ایک شاعر، پروفیسر ایّوب ندیم سے ہوئی،جب میں نے ان سے شاکر کنڈان کے بارے سوال کیا تو کہنے لگے’’وہ تو بہت بڑے شاعر ہیں‘‘۔ اسلام آباد سے ان کی غزل پر ایم۔اے کا مقالہ لکھا جا چکا ہے اورفیصل آباد سے بھی ان کی شاعری پر کام ہوا ہے۔

شاکرؔ کنڈان کی غزل کا فکری جائزہ

انکی غزل میں اصلیّت کا پہلو غالب ہے۔ کہیں آپ رو ایت کے علم بردار نظر آتے ہیں تو کہیں جدیدشاعر، کہیں تصوف کی طرف جھکاؤ ہے تو کہیں ما بعد الطّبیعیاتی موضوعات،کہیں داخلی عوامل ہیں تو کہیں خارجی عوامل، کہیں معاشرتی المیوں کا ذکر کرتے ہیں تو کہیں کرپٹ پولیٹیکل سسٹم کےخلاف بے باکانہ اظہار کہیں نفسیات کو موضوع بناتے ہیں تو کہیں روحانیات واخلاقیات کو،کہیں حُبّ الو طن نظرآتےہیں توکہیں ناصح اورکہیں سائنسی مضامین کو موضوع بناتے ہیں،غرض ایسے بہت سے اعلٰی مضامین کو اپنی غزل میں یوں جڑتے ہیں جیسے کوئی مرصّع کار انگوٹھی میں خوبصورت نگینے جڑتا ہے۔

انکی شاعری مقامی ہونے کے ساتھ ساتھ آفاقی بھی ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ انکی شاعری کے تجزیے کے لیے ایک ضخیم کتاب درکار ہے۔ المختصر انکی شاعری بلندئ مضامین کا عمدہ نمونہ ہے۔
؂ مکینِ دل تھا وہ، میں انحراف کیا کرتا
اور اِس سے بڑھ کے بھلا انکشاف کیا کرتا
آنکھ کے عدسے نے شاکر
ساون کو تصویر کیا
ڈر سے سیسے کی فصیلیں توبنا لیں تم نے
دیکھنا لان کی یہ گھاس نہ ڈس جائے کہیں
میرے ماحول کے لوگوں میں بڑی خامی ہے
اپنی ہی ذات کی تشہیر کیا کرتے ہیں
حادثے اشک کی صورت میں نہ ضائع کیجیے
حادثے صاحبِ ادراک بنا دیتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *