Shakir Kandan Ghazals Collection

      No Comments on Shakir Kandan Ghazals Collection
Shakir Kandan Ghazals Collection

اختیارات بھی سفاک بنا دیتے ہیں

اختیارات بھی سفاک بنا دیتے ہیں
آدمیت کو ہوس ناک بنا دیتے ہیں
حادثے اشک کی صورت میں نہ ضائع کیجئے
حادثے صاحبِ ادراک بنا دیتے ہیں
بے گھری، شدتِ حالات، زمانے کے فسوں
کم سفوں کو بھی یہ چالاک بنا دیتے ہیں

Shakir Kandan Ghazals Collection
رات کا خون ٹپکتا ہے ، جنہیں کلیوں کی
ولولے صبح کے، پوشاک بنا دیتے ہیں
شب کی تاریکی میں دھرتی کے یہ ننھے جگنو
دشت کو مانندِ افلاک بنا دیتے ہیں
وقت کے جھونکے نگاہوں کو بھی شاکرؔ کنڈان
سُرخی دے دیتے ہیں، بے باک بنا دیتے ہیں

Shakir Kandan

اپنے سورج کوبھلا کوئی نکالے کیسے

Shakir Kandan Ghazals Collection

اپنے سورج کوبھلا کوئی نکالے کیسے
کور چشموں کے لیے دن کے اجالے کیسے
تجھ کو اے دوست کہا ں کو زہ گری آتی ہے
اپنی مٹی کو کروں تیرے حوالے کیسے
اس طرف آج تلک دن کبھی نکلا ہی نہیں
آنکھ سے صاف کروں رات کے اجالے کیسے
میں ہوا کی طرح آیا تھا سفر کرتے ہوئے
یہ اُبھر آئے مرے پاؤں میں چھالے کیسے
ایک سناٹے کی ہذیان بھری چیخ کے بعد
پڑ گئے خوف سے دروازوں پہ تالے کیسے
جب مقدر میں اندھیرے ہوں تو شاکرؔ کنڈان
چاند ہر رات نیا کوئی اچھالے کیسے؟

Shakir Kandan

وہ حدِ اجتناب سے آگے نہیں بڑھے

Shakir Kandan Ghazals Collection

وہ حدِ اجتناب سے آگے نہیں بڑھے
اور ہم بھی جی، جناب سے آ گے نہیں بڑھے
کیا نام دیں تعلقِ خاطر کو ، جس میں ہم
سر رشتہ حساب سے آگے نہیں بڑھے
سونپی گئی ہے جن کو مقدر کی بھاگ دوڑ
وہ اپنی آب و تاب سے آگے نہیں بڑھے
دریا بدست تھے جو سمندر بھی پی گئے
تشنہ وہاں سراب سے آگے نہیں بڑھے
ہم اہلِ درد سنتے رہے داستانِ درد
سو دردو غم کے باب سے آگے نہیں بڑھے
منظر نے رات ذہن کو اتنا لبھا دیا
ہم رقصِ ماہتاب سے آگے نہیں بڑھے
شاکرؔ کہیں پہ کوئی کمی تو ضرور تھی
جو ہم طلسمِ خواب سے آگے نہیں بڑھے

Shakir Kandan

ہوا نے رکھا تھا ہاتھ اُس کی اڑان پیچھے

Shakir Kandan Ghazals Collection

ہوا نے رکھا تھا ہاتھ اُس کی اڑان پیچھے
پرندہ ورنہ پڑا ہی رہتاچٹان پیچھے
جو بُلبلا ایک پھیل کر تھا زمین ٹھہرا
یہ سلسلہ چھوڑ ہی نہ دے آسمان پیچھے
یہ مرتبہ، یہ مقام تیرا، ترا نہیں ہے
لکھا ہوا ایک نام ہے تیری شان پیچھے
وہ یک بیک مسکراتی محفل تڑپ اٹھی تھی
نجانے کیسا تھا المیہ داستان پیچھے
کہاں نشانے کی زد میں آتا درندہ، آخر
شکار وہ گر نہ دیکھ لیتا مچان پیچھے

Shakir Kandan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *