شاہد ذکی صاحب کی کتاب سفال میں آگ میں سے منتخب اشعار

شاہد ذکی صاحب کی کتاب سفال میں آگ میں سے منتخب اشعار

انتخاب:عرفان حیدر

یا ر بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے

جدھر بھی دیکھیے اک راستہ بنا ہوا ہے
سفر ہمارے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے

شعوری کوششیں ، منظر بگاڑ دیتی ہیں
وہی بھلا ہے جو بے ساختہ بنا ہوا ہے

یہ کس بلندی پہ لا کر کھڑاکیا ہے مجھے
کہ تھک گیا ہوں توازن سنبھالتا ہوا میں

اک مستقل سکوت ہے اک مستقل کلام
بے زار ہوں میں سنگ سے بھی آ ئنے سے بھی

میں وہ دریا ہوں جو آہستہ روی میں سوکھا
میں اگر سست نہ ہوتا تو سمندر ہوتا

زلزلے آئیں گے ترتیب و توازن کے لئے
برسر خا ک اگر بھول ترازو سے ہو ئی

پھول تصویر ہوا تو مرے لہجے سے ہوا
تیغ ایجاد ہوئی تو مرے بازو سے ہوئی

شاہد ذکی

شاہد ذکی صاحب کی کتاب سفال میں آگ میں سے منتخب اشعار

کوزے بنانے والے کو عجلت عجیب تھی
پورے نہیں بنا ئے تھے سارے بنائے تھے

اب عشرت و نشاط کا سامان ہوں تو ہوں
ہم نے تو دیپ خوف کے مارے بنا ئے تھے

ایک گھونٹ بھرتے ہی ریت بھر گئی منہ میں
دیکھنےمیں دریا تھا ذائقے میں صحرا تھا

رکھتا ہوں اضطراب لہو کی حدود تک
پانی میں پھینکتا نہیں کنکر اٹھا کے میں

پگڑی کا مان رکھنا کوئی سہل تو نہیں
پھرتا ہوں کوہسار کو سر پر اٹھا کے میں

ایسا بدلا ہوں ترے شہر کا پانی پی کر
جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں ہوتی مجھ کو

ترا لکھا ہوا کر کے دکھا دیا ہے سو اب
ہمیں اٹھا لے کہ ہم رائگاں پڑے ہوئے ہیں

حرام ہے عمل خود کشی مگر مالک
وہ کیا کرے جسے مجبور کر دیا جائے

لاش پٹری پہ پڑی دیکھی ہے جب سے تب سے
ریل گاڑی کی صدا اپنی طرف کھنچتی ہے

اگر میں چاہوں تو تیری زباں گواہی دے
ترے خلاف ترے ہی دہن میں رکھی ہوئی

تاخیرکیا ہوئی مجھے گھر میں پڑے پڑے
شاہد مرے بدن میں سفر جھانکنے لگا

تو مری پیاس خریدے گا، ہنسی آتی ہے
میں تو لعنت بھی نہ بھیجوں گا ترے پانی پر

شاہد ذکی

لمس درکار ہے اب روح کی گہرائی تک
اب خدوخال سے تصویر کہاں کھلتی ہے

سمجھا نہیں میں تجھ کو تو میرا قصور کیا
تیرے سبھی صحیفے پرائی زباں میں ہیں

یاد بکھری ہے کہ سامان تمہارا مجھ میں
لگ رہا ہے کہ تم آؤ گے دوبارہ مجھ میں

میں نئے پاؤں بناتا ہوں تو کٹ جاتے ہیں
جب بھی ہوتا ہے مسافت کا اشارہ مجھ میں

ہونٹ سی دو گے زیادہ سے زیادہ میرے
میری آواز تو زنجیر نہیں ہو سکتی

بے چین تھا ملنے کو مکاں مجھ سے زیادہ
دستک ذرا سی دی ہے تو در ٹوٹ گیا ہے

پھر یوں ہوا کہ بھوک نے بھٹکا دیا مجھے
چولہے میں ڈالتا گیا بینائیوں کو میں

میں سورج ہوں جلاتا بھی ہوں لیکن
مرا پہلا تعارف روشنی ہے

فنا شعار تعلق ہے تیرےمیرے بیچ
تری مثال میں پانی مری مثال میں آگ

مرشدا! اب تو مرے جسم سے باہر آ جا
لوگ کہتےہیں کہ استاد نہیں رکھتا میں

وہ انتشار بپا ہے کہ لوگ سوچتے ہیں
یہ کائنات خدا کی سمجھ سے باہر ہے

مرا معاملہ کچھ اورہے خدا کے ساتھ
مرا گناہ سزا کی سمجھ سے باہر ہے

دیکھتے ہیں جو تماشا مرے پاگل پن کا
کیا تماشا ہو اگر ان کو بھی پاگل کر دوں

آخری بار اسے ملنا ہے بچھڑنے کے لیے
سوچتا ہوں کہ ملاقات معطل کر دوں

شاہد ذکی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *