Shahid Nawaz Unique Urdu Poetry | Best Urdu Poetry

      No Comments on Shahid Nawaz Unique Urdu Poetry | Best Urdu Poetry
Shahid Nawaz Unique Urdu Poetry

ہم آن لائن اردو اور بیسٹ اردو شاعری کے تمام منتظمین کی جانب سے جناب شاہد نواز صاحب کی سالگرہ کے موقع پر مبارک باد دیتے ہیں۔ شاہد نواز صاحب خوبصورت کلام میں سے چند اشعارقارئین کرام کے لئے پیش خدمت ہیں۔

رواں برس بڑی شرمندگی اٹهائی هے
نئے برس سے اکٹهے رہیں گے وعدہ رہا

بچھڑنے والوں نے آپس میں دوستی کر لی
یہ پہلی بار محبت میں کچھ نیا ہوا ہے

اسی لیے تو میں اپنا خیال رکهتا هوں
کسی نے مجه کو ترا واسطہ دیا هوا هے

اسے پکار کے شرمندہ هو گئے هم لوگ
کہ اس کا نام بهی دل پر غلط لکها هوا هے

میں تنہا کیسے جدائ پہ روشنی ڈالوں
اسے بهی بولو ستارے گنے محبت میں

Shahid Nawaz

میں کار خیر میں اب صرف کرنا چاهتا هوں
ترے بچهڑنے سے جو وقت بچ گیا هے مرا

میری قسمت میں نہیں پہلی ملاقات کا رس
جس سے ملتا هوں وہ پہلے بهی ملا هوتا هے

Shahid Nawaz Unique Urdu Poetry

اسے بهی سجنے سنورنے کا مشوره دو یار
وہ اپنی سادگی میں رہ کے مار کها رہی هے

کچه ترے ملنے ملانے سے بهی نیت بدلی
کچه بخارات تو پانی سے بهی پہلے کے هیں

خود اپنی فصل کا جب دهیان تم نے کرنا هے
کئ پرندوں کا نقصان تم نے کرنا هے
همارے ذمے فقط دل کو فتح کرنا تها
اب آگے جشن کا اعلان تم نے کرنا هے

قبر میں کوئ مسئلہ تو نہیں
مجه سے منکر نکیر نے پوچها

مجهے پتهر پہ کیوں نہیں کهینچا
ایک مٹتی لکیر نے پوچها

یوں مجهے ہجر ترا وصل نما ہوتا ہے
بڑا بهائ بهی تو بابا کی جگہ ہوتا ہے

Shahid Nawaz

ٹاٹ پر روز جهگڑا کرتے ہیں
پیارے بچے الف انار کے دوست
کیوں نہ ہم تم سے دشمنی کر لیں
اور بن جائیں بے شمار کے دوست
یہ تعلق کهلا تضاد نہیں
میرے دشمن ہیں میرے یار کے دوست
کہاں مالک مکان کی بیٹی
اور کہاں هم کرایہ دار کے دوست

وہ پہلے تهی هماری زندگی میں
اب اس سے ملتی جلتی دوسری هے
محبت هو تو پهر دونوں طرف هو
کبهی اک ہاته سے تالی بجی هے

Shahid Nawaz

shahid-nawaz-jpg2

بس اچهے دوست تهے اک دوسرے کے
همارے بیچ ایسا کچه نہیں تها
اسے بهی پیار میں دلچسپی کم تهی
مجهے بهی آتا جاتا کچه نہیں تها

اس سے اظہار کا یہی دن هے
آج پهولوں کا عالمی دن هے
جیب میں ہاته ڈالنے والے
یہ مہینے کا آخری دن هے

جب وہ چشمہ پہن کے نکلی تو
سب نے چشمے اتار کے دیکها

مسافر کو ڈرایا جا رہا هے
سفر مشکل بتایا جا رہا هے

اس کٹاوء میں کناروں کا کوئ دخل نہیں
یہ تو دریا کی روانی سے بهی پہلے کے هیں

تمیز اپنی جگہ گورے اور کالے کی
مگر نظام مساوات سے نہیں چلتا

وہ بهی سہلیوں میں نمایاں نہیں رہی
اور اپنے  ایک دوست سے خطرہ مجهے بهی هے

Shahid Nawaz

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *