Shabir Hussain Shabir Interview By Touseef Turanal

Shabir Hussain Shabir Interview

انٹرویو: توصیف ترنل

شبیر حسین شبیرصاحب کا اصلی نام شبیر حسین تانترے ہے۔ شبیر حسین شبیرصاحب دسمبر 1975 کو خیرکوٹ بانہال جموں و کشمیر میں پیدا ہوئے۔ اوراس آپ وقت سرینگر میں مقیم ہیں۔ شبیر حسین شبیرصاحب نے .ایم اےاردو اور بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی اور بطور اردو لکیچرر کے اپنی خدمات سر انجام دے رہیں ہیں۔ شبیر حسین شبیرصاحب صاحب کا خصوصی انٹرویو قارئین کرام کے لئے پیش خدمت ہے

س: سب سے پہلے ایک روائتی سوال لفظوں سے رشتہ کب جڑا ؟ پہلا شعر کونسا کہا اگر یاد ہو ؟
شبیر حسین شبیر: جب میں آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم تھا تو گورمنٹ مڈل سکول نوگام میں محترم شبیر احمد میر صاحب میرے اردو کے استاد تھے تھے وہ ہمیں جوش ملح آبادی کی ایک نظم ً پیش گوئی ً پڑھا رہے تھے ان کا پڑھانے کا انداز ایسا تھا کہ گویا شہد گول کے پلا رہے ہوں بس اصل میں یہاں سے ہی لفظوں سے رشتہ جڑا اور پھرگیارہویں میں میں نے شعر کہنے شروع کیے۔ پہلا شعر کیا کہا یہ اب معلوم نہں ۔

س: والدین کو جب پتہ چلا کہ ان کا صاحبزاد شعر کہتا ہے تو ان کا ردِ عمل کیا تھا ؟
شبیر حسین شبیر: والدین نے کوئی مزاحمت نہ کی البتہ کہتے رہے کہ پہلے تعلیم مکمل کرو۔

Shabir Hussain Shabir Interview By Touseef Turanal

س: آپکا قلمی شبیر حسین شبیر ہے اس نام کو رکھنے کی کوئی خاص وجہ ؟
شبیر حسین شبیر: پہلے میں مسرت تخلص لکھتا تھا لیکن پھر شبیر ہی پر آ پہنچا شبیر نام سے مجھے حسنین کی وجہ سے انس ہے یہ نام حضور پاک ﷺ نے اپنے چہہتے نواسے حضرت امام حسین کو رکھا تھا حالانکہ شبیر حسین شبیر نام کی وجہ سے اکثر مجھے شعیہ سمجتھے ہیں مگر میں سنی ہوں اور حسینی ہوں۔

س: کیا کبھی کسی سے اصلاح لی ؟ کس شاعر کو خود کے لیے زیادہ موثر سمجھتے ہیں ؟
شبیر حسین شبیر: اصلاح تھوڑے سے وقت کے لیے محترم امین بانہالی سے لی ہے
س: شاعری کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے شاعری کیا ہوتی ہے ؟ شاعری کا ذاتی زندگی پر کوئی مثبت یا منفی اثر اگر پڑا ہو تو ؟
شبیر حسین شبیر: ہاں مثبت اثر بھی پڑھا ہے شاعری کی وجہ سے ہی اس وقت جموں و کشمیر میں میرا نام ہے خاص کر کشمیری شاعری کے حوالے سے منفی اثرات بھی ہوتے ہیں مگر میں ان کو نظر انداز کرتا گیا۔

س: طنز و مزاح سے لگاو ؟ کیا کبھی شاعری کے علاوہ نثر میں کچھ لکھا ؟
شبیر حسین شبیر: طنز و مزاح پر ابھی کوسش کے مراحل میں ہوں۔

س: موجودہ دور کی شاعری سے کس حد تک مطمئن ہیں ؟ حالات حاضرہ کے شعرا میں آپ کی پسند کا شاعر ؟
شبیر حسین شبیر: موجودہ شاعری سے کچھ خاص مطمین نہں ہوں۔ آج کل کے شاعروں میں وسیم بریلوی اور فاروق نازکی(اردو) اور رحمن راہی اور نسیم شفائی(کشمیری)۔ اردو میں مجھے غالب نے اور کشمیری میں مجھے رسل میر نے بہت ہی متاثر کیا ہے
س: کسی ادبی گروہ سے وابستگی ؟ اردو ادب کی ترویح و ترقی کے لیے جو کام ہو رہا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں ؟
شبیر حسین شبیر: میں زیادہ تر کشمیری ادبی گروہوں سے وابستہ ہوں مگرانجمن ترقی اردو (جموں)صدر امین بانہالی والی اردو انجمن سے بھی وابستہ ہوں یہ انجمن واقعی  میں اردو کے لیے بے لوث کام کر رہی ہے۔
س: محبت کے بارے میں کچھ بتائیے کیا آپ نے کبھی محبت کی ؟ کیا شاعر ہونے کے لیے محبت ضروری ؟

Shabir Hussain Shabir Interview By Touseef Turanal
شبیر حسین شبیر: شاعری کے لیے محبت بہت ہی ضروری ہے اس کے بغیر شاعری شاعری نہیں۔ ہاں میں نے بھی محبت کی ہے اور جم کر کی ہے۔ مگر محبت میں غم ہجراں ہی ملا ہے۔
س: جہاں سوشل میڈیا نے نئے لکھنے والوں کے لیے سہولیات دی ہیں وہاں پر کتب سے دوری بھی دی ہے ۔ آپ کے خیال میں وہ کتابوں کا دور ٹھیک تھا یا حال ٹھیک ہے ؟ کتابوں سے محبت کا کوئی ذریعہ ؟
شبیر حسین شبیر: کتابوں کا دور بھی اورانٹرنیٹ کا دور بھی اپنی اپنی جگہ نہایت ہی اہم ہے اگر کتابی دور نہیں دیکھا ہوتا تو شاید شاعر نہیں ہوتا اور اگر انٹرنیٹ نہیں ہوتا تو آپ کے اور میرے درمیاں اب بھیایل او سی حائل ہوتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *