Shaaz Ramzi Interview By Usman Atis

      No Comments on Shaaz Ramzi Interview By Usman Atis
Shaaz Ramzi Interview By Usman Atis

آن لائن اردو ڈاٹ کام کی جانب سے انٹرویو

شاذ رمزی صاحب کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو: عثمان عاطسؔ

آن لائن اردو: اگر کچھ اپبی اوائل عمری کے بارے میں بتانا چاہیں تو؟
شاذ رمزی: ۱جنوری ۱۹۷۲ کو قصبہ علی گنج ضلع بریلی اتر پردیش میں پیدائش ہوئی۔ کم عمری میں ہی بریلی سے دہلی ہجرت کی اور پھر ہم دہلی کے ہو کر رہ گئے۔
آن لائن اردو: نام اورقلمی نام اور قلمی نام رکھنے کی کوئی خاص وجہ؟
شاذ رمزی: نام محمد اسحاق اور تخلص شاذ رمزی ہےوجہ، استاد کے حکم کی تعمیل۔
آن لائن اردو: آپ نے کب لکھنا شروع کیا نیز پہلی تحریر کیا تھی اور آپکی پہلی تحریر کب کہاں شائع ہوئی؟
شاذ رمزی: غالبأ ۱۹۹۹ میں لکھنا شروع کیا پہلی تحریرغزل ہی تھی کس رسالے میں پہلی بار چھپی یاد نہیں ہے، ہاں ُُغزل کا سفر ،، کے نام سےایک شعری مجموعہ دہلی سے شائع ہوا تھا جس میں متعدد شعراء کرام کا کلام تھا اس میں یہ خاک سار بھی تھا تب سے اب تک بے شمار رسائل نے نا چیز کو جگہ دی ہے الحمدللہ۔

آن لائن اردو: آپکی کوئی تصنیف؟ برکی کتب ویب سائٹ بلاک وغیرہ؟
شاذ رمزی: ابھی تک کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہوا ہے۔

Shaaz Ramzi Interview By Usman Atis

آن لائن اردو: ان اساتذہ کا نام جن سے آپ اصلاح لیتے ہوں
شاذ رمزی: میرے صرف اور صرف ایک ہی استاد ہیں، جاں نشین رمز آفاقی محترم المقام شمس رمزی صاحب اللہ انہیں سلامت رکھے آمین، اور آپکی دعا سے استاد محترم نے فارغ الاصلاح کہ دیا پھر بزرگوں سے مشورہ ضرور کرتا ہوں۔

آن لائن اردو: کون سی تحریر لکھنا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک نہیں لکھ پائے؟
شاذ رمزی: مجھے نثر نگاری کا بہت شوق ہے مگر مصروفیت کی وجہ سے نثر پر کچھ خاص کام نہیں کر سکا ہوں۔
آن لائن اردو: آپ کو لکھنے کے لئے کون سا وقت اور کون سی جگہ اور پسند ہے؟
شاذ رمزی: میرے تمام اشعار یوں ہی چلتے پھرتے ہو جاتے ہیں جب کہیں کوئی الگ سی بات نظر آتی ہے شعر ہو جاتا ہے۔
آن لائن اردو: کیا شاعری کے لئے محبت یا غم کا ہونا ضروری ہے؟ نیز کیا آپ نے کبھی محبت کی ہے؟
شاذ رمزی: شاعری کے لئے محبت یا غم کا ہونا کتنا ضروری ہے یہ تو نہیں معلوم؟ میرے خیال میں شاعری کے لئے جزبات احساسات تجربات مشاہدات کا ہونا بہت ضروری ہے۔ رہی بات محبت کی تو محبت انسان کا فطری عمل ہے اور انسان ہونے کی دلیل ہے، تو یقینأ مجھ میں یہ صفت ہے۔

آن لائن اردو: کوئی ایسی کتاب جو آپ چاہتے ہوں سب کو پڑھنی چا ہئے
شاذ رمزی: جی میں چاہتا ہوں کہ کتابِ زندگی سب کو غور سے پڑھنی چاہئے۔
آن لائن اردو: اپنے کلام میں سے اپنا پسندیدہ کلام کوئی شعر نظم یا غزل جوآن لائن اردو کے قارئین بصارتوں کی نزر کرنا چاہیں؟

شاذ رمزی: پسندیدہ کلام

اگر ایسا کبھی ہو حرف جو دستار تک آئے
مرا سر چل کے خود تیری کھلی تلوار تک آئے

جنہیں اخبار پڑھنے کی کبھی فرصت نہیں ملتی
انہیں کے تذکرے اکثر سبھی اخبار میں آئے

فقط یہ سات دن میں زندگی الجھی ہے صدیوں سے
کبھی تو زندگی اتوار سے اتوار تک آئے

یقیں کے پیڑ سے پتےّ گرے تو بس گرے
سمجھو کہیں سوکھے ہوئے پتےّ کبھی اشجار تک آئے

کسی سے دھوپ کا ٹکڑا مری دیوار کیوں مانگے
اگر سورج کو آنا ہے مری دیوار تک آئے

تمناّ میں ترے انصاف کی ایسا ہوا آخر
خود اپنا ہی جنازہ لے کے ہم درباور تک آئے

اچانک بعد مددت کے ہنسی آئی تو آئی
عیادت کے لئے جیسے کوئی بیمار تک آئے

مجھے غرقاب کرنے کی اگر ضد ہےسمندر کو
بھنور کو چاہئے چل کر مری پتوار تک آئے

ضرورت کی طرح زندہ جہاں میں اس لئے ہوں میں
مرا قصہ کہیں چل کر نہ بازار تک آئے

یوں شوقِ زندگی کا خود گلا گھونٹا ہے میں نے شاذ
ریا کاری کا طوطا اڑ کے نہ کردار تک آئے

آن لائن اردو: کن شعراء سے متاثر ہیں؟ نئے اور پرانے آپ کے پسندیدہ شاعر کون ہیں
شاذ رمزی: فردأ فردأ نام لکھنا تو مشکل ہے پھر بھی چند نام اس طرح ہیں احمد فراز، قتیل شفائی، ظفر سہوائی، منوررانا، خصوصأ استادِ محترم حضرتِ شمس رمزی صاحب علامہ رمز آفاقی صاحب (مرحوم دادا استاد) رؤف صادق اقبال اشہر وغیرہ۔

آن لائن اردو: نئے لکھنے والوں کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے
شاذ رمزی: آج کے دور میں نئے لکھنے والے استاد کا نام بتانا شرم کی بات سمجھتے ہیں اور اصللاح لینا بے عزّتی؟ حقیقت یہ ہے کہ جس کا کوئی استاد نہیں ہوتا اس کا ہر دوسرا شاعر استاد ہوتا ہے یعنی ماحول استاد ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اچھا شاعر و ادیب بننے کے لئے ایک ھاتھ میں اچھے استاد کا دامن اور دوسرے ہاتھ میں مطالع کے لئے اچھی کتاب کا ہونا ضروری ہے۔

Shaaz Ramzi Interview By Usman Atis

آن لائن اردو: کسی ادبی گروہ سے وابستگی ہے؟ اور اردو ادب کی ترقی کے لئے جوکام ہورہا ہے کیا آپ اس سےمطمئن ہیں؟
شاذ رمزی: میں گروہ بندی سے نہ صرف یہ کہ آزاد ہوں بلکہ اس کے خلاف بھی ہوں، جہاں تک بات اردو ادب کی ترویج و ترقی کی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ دور اردو ادب کا سنہرا دور ہے خاص کر شوشل میڈیا کے آنے کے بعد تو اردو ادب پر بے پناہ کام ہو رہا ہے اور ادبی رسائل کا شمار بھی نا ممکن ہے۔
آن لائن اردو: آن لائن اردو ڈاٹ کام اردو کے لئے جو کام کر رہی ہےآپکی نظر میں کیسا ہے؟
شاذ رمزی: آن لائن اردو ڈاٹ کام کا ہر عمل مستحسن ہے، آن لائن اردو ڈاٹ کام کی پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے

نیک خواہشات اور دعاؤں کے ساتھ شکریہ
شاذ رمزی ممبئی انڈیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *