ثروت حسین صاحب کا تعارف اور کلام

ثروت حسین صاحب کا تعارف اور کلام

انتخاب: مہر خان

موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروتؔ
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں

نام ثروت حسین اور تخلص ثروت تھاآپ 9 نومبر 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ کراچی یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔ جامعہ ملیہ کالج ملیر میں تدریس سے وابستہ تھے۔ انکی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’آدھے سیارے پر‘، ’خاکدان‘۔ ان کا غیر مطبوعہ کلام ’’ایک کٹورا پانی کا ‘‘ کے نام سے زیر ترتیب ہے۔ پروین شاکر اور ثروت حسین کی داستانِ محبت ایک عرصہ ادبی حلقوں میں زیر بحث رہی، کچھ لوگوں کے خیال میں پروین شاکر کی بے وفائی نے ثروت حسین کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب کیے۔ ثروت حسین نے ستمبر 1993ء میں ٹرین تلے آکر خودکشی کی کوشش کی اور دونوں پاؤں سے محروم ہوئے، 3 برس بعد 1996ء میں ایسی ہی ایک کوشش کے باعث دنیا سے رخصت ہوئے۔

ثروت حسین صاحب کے کلام میں سے منتخب کلام

کتابِ سبز و درِ داستان بند کئے
وہ آنکھ سو گئی خوابوں کو ارجمند کئے

گزر گیا ہے وہ سیلابِ آتشِ امروز
بغیر خیمہ و خاشاک کو گزند کئے

بہت مصر تھے خدایانِ ثابت و سیار
سو میں نے آئنہ و آسماں پسند کئے

اسی جزیرہِ جائے نماز پر ثروت
زمانہ ہو گیا دستِ دعا بلند کئے
ثروت حسین صاحب کا تعارف اور کلام
جنگل میں کبھی جو گھر بناؤں
اُس مور کو ہم شجر بناؤں

بہتے جاتے ہیں آئینے سب
میں بھی تو کوئی بھنور بناؤں

دُوری ہے بس ایک فیصلے کی
پتوار چُنوں کہ پَر بناؤں

بہتی ہوئی آگ سے پرندہ
بانہوں میں سمیٹ کر بناؤں

گھر سونپ دوں گردِ رہ گزر کو
دہلیز کو ہم سفر بناؤں

ہو فرصتِ خواب جو میسّر
اک اور ہی بحر و بر بناؤں
ثروت حسین صاحب کا تعارف اور کلام
اک روز میں بھی باغ عدن کو نکل گیا
توڑی جو شاخ رنگ فشاں ہاتھ جل گیا

دیوار و سقف و بام نۓ لگ رہے ہیں سب
یہ شہر چند روز میں کتنا بدل گیا

میں سو رہا تھا اور مری خواب گا میں
اک اژدہا چراغ کی لو کو نگل گیا

بچپن کی نیند ٹوٹ گئی اس کی چاپ سے
میرے لبوں سے نغمہء صبح ازل گیا

تنہائی کے الاؤ سے روشن ہوا مکاں
ثروتؔ جو دل کا درد تھا نغموں میں ڈھل گیا
ثروت حسین صاحب کا تعارف اور کلام
بھر جائیں گے جب زخم تو آؤں گا دوبارا
میں ہار گیا جنگ مگر دل نہیں ہارا

روشن ہے مری عمر کے تاریک چمن میں
اس کنج ملاقات میں جو وقت گزارا

اپنے لیے تجویز کی شمشیر برہنہ
اور اس کے لیے شاخ سے اک پھول اتارا

کچھ سیکھ لو لفظوں کو برتنے کا سلیقہ
اس شغل میں گزرا ہے بہت وقت ہمارا

لب کھولے پری زاد نے آہستہ سے ثروتؔ
جوں گفتگو کرتا ہے ستارے سے ستارا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *