Sargoshiyon Ki Mehak Intikhab Tasneem Farzana

Sargoshiyon Ki Mehak

سرگوشیوں کی مہک

انتخاب : تسنیم فرزانہ

میرے کمرے میں ائیر فریشنر کی صندلی مہک۔۔۔ میرے پرفیوم ڈن ہل ڈیزائر کی خوشبو کے ساتھ فضا کو مہکا رہی ہے۔۔۔ لیکن اس خوشبو کا وہ لطیف احساس نہیں رہا جو انسان کی حس جمال اور خوشبو کے درمیان ہونا چاہئے۔ یہ مصنوعی خوشبوئیں جب اپنی مدت گزار کر معدوم ہوجاتی ہیں تو آپ انہیں محسوس نہیں کر سکتے۔۔۔ لیکن کچھ خوشبوئیں ایسی بھی ہیں جن کی مدت گزر چکی جو معدوم ہوچکی لیکن آپ انہیں یاد کرو تو وہ اپنے پورے احساس کے ساتھ آموجود ہوتی ہیں۔۔۔آج مجھے وہی خوشبو بہت یاد آرہی تھی۔

نانو کے صحن میں کچا چولہا تھا۔ جس کے پاس بیٹھ کر وہ مٹی کی پرات میں آٹا ڈال کر پانی ڈالتی تو گیلے آٹے سے ایک مہک اٹھتی اور ہم بے اختیار لمبی سی سانس کھینچ کر اس مہک کو اپنے اندر اتارلیتے۔ پھر اس گندھے آٹے کی روٹی کو جب توے پر ڈالا جاتا۔۔تو آنچ پکڑنے پر اس روٹی سے ایک اشتہا انگیز مہک اٹھتی۔۔ گندم اور آدم کا تعلق سمجھ میں آجاتا۔ کھانے کے بعد اس چولہے میں ڈھیر سارے کوئلے دہک رہے ہوتے۔

ان پر ایک دودھ کا کڑاہا رکھ دیا جاتا۔۔کوئلوں کی دھیمی آنچ پر یہ دودھ شام تک کڑھتا رہتا۔ اس پر ابھر آنے والی سنہری بالائی کو انگلیوں سے نکال کر کھاتے تو پہلے اس کی خاص قسم کی مہک اپنے ذائقے سے روشناس کراتی۔۔اور بالائی کھانے سے پہلے ہی اس خوشبو کھاجانے کو جی چاہتا۔ صبح مسجد میں سیپارا پڑھنے جاتے تو اس سیپارے کو کھولتے ہی ایک انوکھی مہک استقبال کرتی۔ ایک تقدس بھری مہک۔

Sargoshiyon Ki Mehakسیپارے کی رہل سے اٹھتی پرانی لکڑی کی مہک مسجد کی دیواروں اور محرابوں میں چکراتی ہوئی عطر بیز مہک۔۔۔ کجھور کی صفوں سے پھوٹتی نمازیوں کے سجدوں کی مہک سبھی مل کر ایک ایسا ماحول بنا دیتی کہ کوئی آنکھیں بند کر کے بھی اندر لایا جاتا تو پہچان جاتا کہ یہ مسجد ہے۔ اب اوون اور پولیسٹر کے قالین بچھ گئے۔ دیواروں پر لگے ماربل اے سی ہیٹر شیشے اور فانوس نما لائٹس نے مسجد کے ماحول کو جدت اور خوبصورتی تو عطا کردی لیکن اس کی روایتی خوشبو سے محروم کردیا۔

ادھر گھر میں لان میں لگے امرود کے پیڑوں پہ جب پھل پکنے لگتا تو امرود کی مہک فضا میں پھیل جاتی۔ اس امرود کے پیڑوں تلے خوشبو کے حصار میں کبھی اسکول کا کام کرتے کبھی گھاس پر اوندھے لیٹے کہانیاں پڑھتے۔ سرشام کیاریوں میں لگے رات کی رانی اور گلاب کی خوشبوئیں بیدار ہوتیں تو لگتا ہم دنیا سے کٹ کے کسی خوشبو دار جزیرے کے مکین بن گئے ہیں۔

ایک دادا ابو کا کمرہ تھا جس میں داخل ہوتے ہی ایسا لگتا جیسے بندہ کسی قابل احترام مقدس جگہ پہ آگیا ہے۔ ساری غلط سوچیں خیال کی پراگندگی۔ اور شرارتیں اس کمرے سے باہر جوتے اتارتے سمے وہیں رکھ دی جاتی۔ انہیں اس کمرے میں آنا منع تھا شایداوراس کی وجہ اس کمرے کی مقدس سی مہک۔ جو جانے کہاں سے پھوٹتی تھی۔ مدھم مدھم سلگتی اگربتی سے یا نماز والی چوکی سے یا کھونٹی پر لٹکتی درجنوں تسبیحوں سے۔۔۔یا ٹیبل پر رکھی عطر کی شیشیوں سے۔ یا پھر وہ ان سب کی ملی جلی مہک تھی لیکن تھی بڑی مقدس۔

Sargoshiyon Ki Mehakایک اور خوشبو تھی جس کا سامنا تب ہوتا۔ جب نیا تعلیمی سال شروع ہوتا ہم چھوٹے چچا کے ساتھ نئی کلاس کے لئے کتابیں خرید کر لاتے تو سب سے پہلے ایک نئی کتاب کو درمیان سے کھول کر اپنی ناک اندر گھسیڑ دینا اور اتنی لمبی سانس بھرنا کہ پھیپھڑے پھول جاتے نئی کتاب کی اس مہک کا مزہ نئے موسم کے پہلے پھل سے کم نہ تھا۔ اور اتنی ہی جداگانہ مہک پرانی کتابوں کی ہوتی ایک حواس باختہ مہک وہ کوئی بھی ہو کیسی بھی ہوعمران سیریز، ڈائجسٹ ناول، اردو ادب، فکشن نان فکشن کوئی فرق نہیں بس کاغذ پرانا ہو۔

اس پرانے کاغذ کی مہک دنیا کے بڑے بڑے پرفیومز اور ائیر فریشنر سے زیادہ “مزے دار” ہوتی۔ اکثر پرانے کاغذوں پر مبنی کتاب کا ایک پیراگراف پڑھتے پڑھتے اسے یونہی کھولے ہوئے اپنے منہ پر رکھ کر اس مہک کو اپنے اندر اتارتے اتارتے سو جاتے۔ لان کے ساتھ ایک چھوٹا سا میدان تھا جہاں ہم بیڈمنٹن کھیلتے تھے۔ اس میدان کی کچی مٹی پر ہر شام کو پانی چھڑکانے پر جو مہک اٹھتی اس پہ تو وقت کی ساری ساعتیں قربان کرنے کو جی چاہت۔

گرمیوں میں ٹھنڈے خربوزے اور آم کی خوشبو۔ سردیوں کی دھوپ میں مالٹے چھیلتے وقت اٹھنے والی مہک۔ کچن سے امی نے چاولوں کا دم اٹھایا تو گھر کے کونے کھدروں میں چھپے سبھی افراد لمبی لمبی سانسیں بھرتے باہر نکلنے لگتے۔ سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں بجلی جانے کے بعد جب ٹی وی لاونج میں بیٹھے مونگ پھلی اور چلغوزے ٹونگ رہے ہوتے تو خشک میووں، چائے، قہوہ کے ساتھ ساتھ درمیان میں رکھی کوئلوں کی انگھیٹی سے بھی ایک منفرد خوشبو بیدار ہوکر کمرے کے ماحول میں اپنا الگ سا احساس دلاتی۔

اور یہ احساس اتنا طاقتور تھا کہ آج بھی اپنی پوری جزیات کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔ کچھ موسمیاتی خوشبوئیں تھیں۔ جیسے گرمیوں کی شام اور بارش پڑتے ہی زمین اور نباتات کی مہک۔ جیسے سردیوں کی کہر میں ڈوبی صبح کی خوشبو۔ خزاں میں جھڑتے پتوں اور درختوں سے پھوٹنے والی خوشبو کی لپٹیں اور بہار میں تو خوشبووں کا میلہ لگ جاتا تھا۔ کچھ تہواروں کی خوشبوئیں تھیں۔ جیسے جمعہ کی خوشبو اور رمضان شریف کی خوشبو۔ ان دو خوشبووں کا ماخذ میں آج تک نہیں جان پایا کہ یہ کہاں سے پھوٹتی تھیں؟

Sargoshiyon Ki Mehak

بس ادھر جمعہ کی صبح طلوع ہوئی یا ادھر پہلے روزے کا اعلان ہوا تو ساری فضا میں ایک تقدس بھری مہک چھا جاتی آج میں یہ ساری خوشبوئیں کیوں یاد کر رہا ہوں؟ شاید اس لئے کہ یہ تمام خوشبوئیں۔ محض احساس کی لطافت پر مشتمل نہ تھیں بلکہ ان میں سے ہر خوشبو مجھے زندگی کی خوبصورتی سے روشناس کرواتی تھی۔ وہ امرود کی مہک ہو یا سوندھی مٹی کی، مسجد کی صف سے اٹھتی خوشبو ہو یا گندھے آٹے کی۔ ہر خوشبو زندگی کی خوبصورتی کی گواہ تھی جو دماغ کو چھوتی، حلق سے اترتی، جسم سے گزر کر روح کے کانوں میں ایک میٹھی سی سرگوشی کرتی

“مسکراو۔۔۔۔۔۔زندگی خوبصورت ہے”

شاید آپ کو لگے میں ناسٹلجیا کا شکار ہو کر ماضی میں کھو رہا ہوں۔ لیکن یہ خوشبوئیں یہ تمام قدرتی خوشبوئیں مجھے آج اس لئے یاد آئی جب میں نے باہر سڑک سے آنے والی ڈیزل کی بو کو روکنے کے لئے کمرے کی کھڑکی بند کی اور مصنوعی خوشبو پر مبنی ائر فریشر سے کمرے کی فضا کو مہکانا چاہا۔ میں نے سوچا شاید میں وقت کے اس برے حصے میں ہوں جب فضا آلودگی سے اتنی بھر گئی ہے کہ اسے بہتر کر نے کے لئے ہمیں مصنوعی خوشبو درکار ہے۔

لیکن۔۔۔۔۔۔
یہ سوچ بھی مکمل حقیقت تو نہیں کیونکہ فضا کی آلودگی کا بڑھ جانا اور مصنوعی خوشبو کا ضروری ہوجانا ایک حقیقت سہی لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی تو ہے کہ: ماضی کی وہ تمام نہ سہی لیکن بیشتر قدرتی خوشبوئیں آج بھی موجود ہیں۔ اگر کچھ موجود نہیں تو یہ کہ ان کومحسوس کرنے کی فرصت نہیں ہے۔ لان میں امرود کا پیڑ آج بھی ہے۔ لیکن اس کے نیچے بیٹھنے کی فرصت نہیں۔

Sargoshiyon Ki Mehak

فرصت نہیں کہ امی روٹی بنا رہی ہوں تو ان کے پاس ٹھہرا جائے۔ بارش ہورہی ہو تو گیلی زمین کے پاس بیٹھا جائے۔ کہر میں ڈوبی صبح کے درمیان میں سے “آج” کے مسائل پر دھیان دئیے چپ چاپ گزر جاتا ہوں ۔ فرصت نہیں ہے کہ بہار اور خزاں کی خوشبووں کا اندازہ لگایا جائے۔ دنوں اور تہواروں کی مہک پر سوچا جائے۔ ان کے ماخذ پر غور کیا جائے۔ ان پر مسکرایا جائے۔ پرانی کتابوں کو کھول کر پڑھ لینا کافی ہے انہیں سونگھنے میں وقت برباد کون کرے۔

حقیقت یہی ہے کہ یہ ساری خوشبوئیں آج بھی موجود ہیں۔ اور جب کبھی ان کے درمیان سے گزرنے لگوں تو یہ روح کے کانوں میں سرگوشی کرتی ہیں مسکراو زندگی خوبصورت ہےلیکن اب اس سرگوشی کو سننے کی فرصت ہے اور نہ ہی اس پر غور کرنے۔ بس اس سرگوشی کی مہک کو سانس میں اتارتا ہوں اور آگے بڑھ جاتا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *