ادارہ بیسٹ اردو پوئٹری کے زیر اہتمام بعنوان “سردیوں کے خواب” مشاعرہ

بعنوان "سردیوں کے خواب" مشاعرہ

سردیوں کے خواب

رپورٹ: ثمینہ ابڑو لاڑکانہ

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری برسوں سے خدمتِ ادب میں مصروفِ عمل ہے اور اپنی مستقل محنت و جفاکشی سے آج میدانِ ادب میں نمایاں مقام پا چکا ہے۔ یہ برقی دنیا کا واحد ادارہ ہے جس سے دنیا بھر سے شعراء، ادباء و شائقین ادب منسلک ہیں۔ ادارہ کی وجہء شہرت اس کی جانب سے منعقد شدہ منفرد و کامیاب تنقیدی پروگرام ہیں جن کی بدولت نہ صرف معیاری ادب پروان چڑھتا ہے بلکہ بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

mukhtar

حسبِ روایت ادارہ کی جانب سے 28 اکتوبر بروز ہفتہ شام 7.00 بجے بعنوان ” سردیوں کے خواب” ایک شاندار مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت استاد شاعر اور ماہر نقاد محترم شفاعت فہیم صاحب نے بھارت سے کی. مہمانانِ خصوصی محترم مختار تلہری صاحب اور محترم انور کیفی صاحب بھارت سے جبکہ مہمانانِ اعزازی محترم شوزیب کاشر آزاد کشمیر محترم ابن ربانی صاحب پاکستان اور محترم واقف انصاری صاحب بھارت سے تھے. ثمینہ ابڑو نے پاکستان سے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

ذاتِ باری تعالیٰ کے بابرکت نام سے محفل کی ابتداء ہوئی محترم عادل حسین عادل صاحب اور محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ نے بارگاہِ الہٰی میں حمد پیش فرمائی بعد ازاں محترم نفیس احمد نفیس ناندوری صاحب نے بارگاہِ رسالت میں نذرانہء عقیدت پیش فرمایا جس کے بعد م اعرہ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

محفلِ مشاعرہ میں شریک شعراء و شاعرات کے اسمائے گرامی

img-20170829-wa0006

محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ انڈیا
محترم نعیم حنیف آزاد کشمیر
محترم خالد سروحی صاحب پاکستان
محترم مسکین رائچوری صاحب انڈیا
محترم احمد کاشف صاحب انڈیا
محترم ظہیر احمد ضیاء کشمیر
محترم امیرالدین امیر صاحب انڈیا
محترم حفیظ مینانگری صاحب انڈیا
محترمہ نفیسہ حیا صاحبہ انڈیا
محترم عدنان منظور صاحب مظفرآباد آزاد کشمیر
محترم علیم طاہر صاحب انڈیا
محترم فیصل مارولوی صاحب انڈیا
محترم عبدالوحید عاجز صاحب پاکستان
محترم علی مزمل صاحب کراچی پاکستان
محترمہ مہ جبیں غزل صاحبہ یوکے
محترمہ انبساط ارم صاحبہ انڈیا

Urdu Adab Ko Kaisay Zindah Rakha Jaye

سبھی شعراء و شاعرات نے باری باری اپنا خوبصورت کلام پیش کیا اور خوب داد و تحسین پائی جبکہ ساتھ ساتھ اصلاحی تنقید کا سلسلہ بھی جاری رہا محترم شفاعت فہیم صاحب نے بڑی مہارت و باریک بینی سے ہر ایک کے کلام کا تنقیدی جائزہ لیا اور اصلاحی تنقید کی جس سے محفل میں چارچاند لگ گئے۔

محفل کی خصوصیت ” احمد ندیم قاسمی ” ایوارڈ تھا بمطابق جیوری محترم شوزیب کاشر صاحب اس ایوارڈ کے حقدار ہوئے ادارہ کی جانب سے ادارہ کے بانی محترم توصیف ترنل صاحب نے ایوارڈ پیش کیا۔

محترم شوزیب کاشر صاحب کی ایوارڈ یافتہ غزل

بےگل و بے آب و بے برگ و ثمر دیمک زده
ہم پرندوں کی محبت اک شجر دیمک زده

کھڑکیاں دیمک زدہ اور بام و در دیمک زدہ
ہم زبوں حالوں کا ہے سارا ہی گھر دیمک زدہ

آسماں کی جست ہم کیسے بھریں تم ہی کہو؟
بے دم و بے چارا و بے بال و پر دیمک زدہ

تُو سراپا راحت و تمکین و سطوت اور ہم
خانماں برباد ، مضطر ، دربدر، دیمک زدہ

مجھ کو اک دیمک زدہ نے بددعا دی عشق میں
جا !! خدا تجھ کو بھی رکھے عمر بھر دیمک زدہ

میں تو پہلے ہی نہ کہتا تھا کہ مجھ سے کر حذر
جان پر اب بن رہی تو صبر کر !! دیمک زدہ

حُسن کی دیوی کو مجھ پر رحم آیا اور کہا
میں تری دیمک اُتاروں آ ادھر دیمک زدہ

اول اول جب ہمیں دیمک لگی تو وصل تھا
ہجر میں ہونا پڑا بارِ دگر دیمک زدہ

اس علاقے میں ہم ایسے لوگ جا سکتے نہیں
اس علاقے سے ذرا جلدی گزر دیمک زدہ

میں تو ڈرتا ہوں کہ یہ دیمک مجھے بھی کھا نہ لے
تُو بتا! کس بات کا ہے تجھ کو ڈر،دیمک زده

کرم خوردہ لکڑیوں کا حال دیکھا ہے کبھی
ظاہر ان کا ٹھیک ٹھاک اندر مگر دیمک زدہ

ورنہ میرا کھوکھلا پن مجھ پہ کھلتا کس طرح
وہ تو مجھ کو مل گیا اک ہمسفر دیمک زدہ

لوگ اک دیمک زدہ کی خستہ حالی پر ہنسے
کر دیا مجذوب نے سارا نگر دیمک زدہ

میں نے تم کو کب دیا ہے دوش مجھ حالات کا
مجھ سے تُو ناراض ہے کس بات پر ؟؟ دیمک زده

تُو جو فولادی صفت ہے میں بھی ہوں آبی صفت
کر بھی سکتا ہے تجھے میرا اثر دیمک زدہ

خستگی اندر ہی اندر کھا رہی اُس کا وجود
لیکن اپنے حال سے ہے بے خبر دیمک زدہ

جو بھی میری ٹیک بننا چاہتا ہے سوچ لے
مجھ سے لگ کر ہو گیا وہ بھی اگر دیمک زده

ہم اگر بچ کر نکل آئے تو یہ خوش قسمتی
ورنہ دشتِ خامشی تھا سربسر دیمک زدہ

کاشرؔ اس کمبخت جاں کے عارضوں کا کیا شمار
ہو رہے ہم عشق میں المختصر دیمک زدہ

سروراجیہ انقلابی

اس طرح یہ خوربصورت محفل اختتام پذیر ہوئی، کسی بھی ادارہ کی ترقی و کامیابی کے ضامن ادارہ کی تمام ممبران , وہ ٹیم جو ہر وقت مصروفِ عمل ہو اور ادارہ کا قائد “جس کی سرپرستی میں ادارہ پروان چڑھتا ہے” ہوتے ہیں. بلاشبہ ادارہ کی کامیابیوں کا سہرا ادارہ کے قائد محترم توصیف ترنل کے سر ہے کہ جن کی اعلیٰ قیادت, مستقل محنت اور منفرد سوچ کی بدولت ادارہ نت نئے اور کامیاب پروگرام منعقد کرتے ہوئے دنیائے ادب کے بے شمار سنگِ میل عبور کر چکا ہے اور مستقبل قریب میں ادارہ کی جانب سے نئی ادبی تاریخ رقم ہوگی۔

شوزیب کاشر باکمال شاعر

تبصرہ نگار: امیر الدین امیر

غزل اردو شاعری کی سب سے محبوب ومقبول صنفِ سخن ہے۔ یہ شعراء کے نزدیک ہی نہیں بلکہ پڑھنے اور سننے والوں کے نزدیک بھی سب سے زیادہ پسندیدہ صنف ہے۔ کسی بھی رسالہ، کتاب، اخباراور مشاعرہ کی شاعری کا حصّہ غزل کے بغیرمکمل نہیں کہلاتا۔ غزل کی محبوبیت ومقبولیت کی ایک وجہ تویہی ہےکہ یہ اپنے لغوی معنی محبوب سے گفتاراور اس کے حُسن وعشق کےذکرو وصف کے علاوہ تصوّف، فلسفہ، اخلاقیات اور دیگرسماجی امور سے متعلق مضامین بھی پیش ہوتے ہیں۔ دوسری وجہ پہلی وجہ سے مربوط ہے وہ یہ کہ غزل میں زندگی ودل یعنی کائنات وحیات سے منسوب احساسات وجذبات کی پیش کش بہت فطری انداز میں ہوتی ہے۔

Urdu Adab Ko Kaisay Zindah Rakha Jaye

ذات وجہان کے احوال کا منظر نامہ ہو یا حالات و واقعات سے پیدا جذبات واحساسات غزل کی زمین شاعر کے لئے بہت زرخیز واقع ہوئی ہے,غزل ہر دَور میں ہر مکتبہ فکر کے لئے اپنا دامن کشادہ کرتی رہی ہے اس میں جذبہ واحساسِ زندگی کے نشیب وفراز معاشرتی پیش ہوتی رہی ہے۔

شوزیب کاشر کی غزل جو ادارہ عالمی بیسٹ اردوپوئٹری(وائس)کی نشست بعنوان احمدندیم قاسمی ایوارڈ کی مستحق، منتخب قرار پائی ہے مختصر روشنی بکھیری ہے۔ شوزیب کاشر کی غزل انکی فکرونظر کی ترجمان ہے۔ عصری آگہی سے روبرو ان کی غزل میں زمانے اور دل کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے اور عصری صداقتوں کے قریب رکھا ہے۔ انکی مخصوص فکرونظر جو تری ہسند تحریک کی زیرِاثر پیدا ہوئی ہے۔ شوزیب کاشرکی غزل کچھ زیادہ ہی بلند بانگ انداز میں پیش ہوئی ہے۔ غزل میں انکے جذبات واحساسات کسی قدر نرم لہجے میں پیش ہوئے ہیں۔

ہر چند انکی شاعری کی بنیاد آواز جدوجہد کی آواز ہے۔ لیکن شعر میں تاثیر، وسوں زوگداز کے قائل ہیں۔ وہ اپنی غزل میں داخلی آراستگی سے محرومی کا ذکر کرتے ہوئے شعر کی تعریف بیان کرتے ہیں۔ وہ شعر ہی کیا س کو پڑھ کر روح ر سرشاری کی کیفیت طاری نہ ہو اور ان کی غزل میں یہ کیفیت موجود ہے جس کو پڑھ کر روح کی سرشاری طاری ہوتی ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو شوزیب کاشر کی غزل معاصر غزل کے درمیان مختلف موضوعات کے حوالے سے نہ صرف اپنے وجود کی معنویت پیش کرتی ہے بلکہ ایک خاص قسم کی تاب وتوانائی کا بھی ثبوت دیتی ہے۔

Urdu Adab Ko Kaisay Zindah Rakha Jaye

البتہ یہ ضرور ہے کہ ان کا ہر لمحہ ہر جگہ یکساں نہیں ہے کہیں شوروپُر زورتو کہیں نرم وشیریں، ان کے موضوعات میں معاشی وسماجی ابتری اور زندگی کے نشیب وفراز ہیں۔ احتجاج اور رومان ان کی شاعری میں مرکزی حیثیت حاصل ہے,ادب برائے زندگی ان کا نظریہ ہے۔ شوزیب کاشر کی غزل کے لئے سنجیدہ مطالعہ کی ضرورت ہے۔ جن سے شوزیب کاشر کی ایک خاص پہچان ہے۔

آخر کلمات میں شوزیب کاشر کو احمد ندیم قاسمی ایوارڈ کےلئے منتخب ہونے ہر ہزاروں دعاؤں کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور گہرائیوں ؤگیرایوں سے قلبی تہبیت کہتا ہوں اور زورِ قلم اور زیادہ کی دعاکےساتھ مختصر گفتگو خت جرتا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *