آج کی شخصیت سلام مچھلی شہری صاحب

آج کی شخصیت سلام مچھلی شہری صاحب

انتخاب: مہر خان

سلام مچھلی شہری کا پہلا تعارف ترقی پسند تحریک کے نظریاتی عقیدے سے بچ نکل ایک بالکل نئے طرز کی رومانی شاعری کی تخلیق سے جڑا ہے۔ سلام اپنے وقت میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعروں میں تھے ، نوجوانوں میں ان کی شاعری کی مقبولیت نے انہیں خوب شہرت دلائی۔

سلام یکم جولائی ۱۹۲۱ کو مچھلی شہر جونپور میں پیدا ہوئے۔ صرف ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کرسکے اسکے بعد الہ آباد یونیورسٹی کی لائبری میں ملازمت اختیار کی۔ لائبریری کی ملازمت کے دوران سلام نےکئی زبانوں کے ادب کا مطالعہ کیا۔ ۱۹۴۳ میں لکھنؤ ریڈیو اسٹیشن پر مسودہ نویسی پر مامور ہوئے۔ ۱۹۵۲ میں اسسٹنٹ پروڈیوسربناکر سری نگر ریڈیو اسٹیشن بھیج دئے گئے کچھ عرصے تک وہاں رہے پھر لوٹ کر دہلی ریڈیو اسٹیشن میں آگئے اور پروڈیوسر کے طور پر مقرر ہوئے۔ سلام کو انکی مجموعی ادبی خدمات کے اعتراف میں ’پدم شری‘ سے بھی نوازا گیا۔

سلام مچھلی شہری کے تین شعری مجموعے شائع ہوئے’میرے نغمے ‘ ’وسعتیں‘اور ’ پائل ۔ سلام نے ریڈیو کی ملازمت کے دوران بہت سے منظوم ڈرامے اور اوپیرا بھی لکھے۔ شاعری کے علاوہ سلام نے’ بازو بند کھل کھل جائے‘ کے نام سے ایک ناول بھی لکھا۔ سلام کا انتقال 19نومبر 1973کو دہلی میں ہوا۔

سلام مچھلی شہری کے کلام میں سے منتخب اشعار

آنسو ہوں ہنس رہا ہوں شگوفوں کے درمیاں
شبنم ہوں جل رہا ہوں شراروں کے شہر میں

آج تو شمع ہواؤں سے یہ کہتی ہے سلامؔ
رات بھاری ہے میں بیمار کو کیسے چھوڑوں

اب ماحصل حیات کا بس یہ ہے اے سلامؔ
سگریٹ جلائی شعر کہے شادماں ہوئے

اے مرے گھر کی فضاؤں سے گریزاں مہتاب
اپنے گھر کے در و دیوار کو کیسے چھوڑوں

عجیب بات ہے میں جب بھی کچھ اداس ہوا
دیا سہارا حریفوں کی بد دعاؤں نے

بجھ گئی کچھ اس طرح شمع سلامؔ
جیسے اک بیمار اچھا ہو گیا

میری فکر کی خوشبو قید ہو نہیں سکتی
یوں تو میرے ہونٹوں پر مصلحت کا تالا ہے

غم مسلسل ہو تو احباب بچھڑ جاتے ہیں
اب نہ کوئی دل تنہا کے قریں آئے گا

کاش تم سمجھ سکتیں زندگی میں شاعر کی ایسے دن بھی آتے ہیں
جب اسی کے پروردہ چاند اس پہ ہنستے ہیں پھول مسکراتے ہیں

کبھی کبھی عرض غم کی خاطر ہم اک بہانا بھی چاہتے ہیں
جب آنسوؤں سے بھری ہوں آنکھیں تو مسکرانا بھی چاہتے ہیں

کبھی کبھی تو سنا ہے ہلا دیے ہیں محل
ہمارے ایسے غریبوں کی التجاؤں نے

میری فکر کی خوشبو قید ہو نہیں سکتی
یوں تو میرے ہونٹوں پر مصلحت کا تالا ہے

میری موت اے ساقی ارتقا ہے ہستی کا
اک سلامؔ جاتا ہے ایک آنے والا ہے

رات دل کو تھا سحر کا انتظار
اب یہ غم ہے کیوں سویرا ہو گیا

روز پوجا کے لئے پھول سجاتا ہے سلامؔ
جانے کب اس کا خدا سوئے زمیں آئے گا

شکریہ اے گردش جام شراب
میں بھری محفل میں تنہا ہو گیا

وہ دل سے تنگ آ کے آج محفل میں حسن کی تمکنت کی خاطر
نظر بچانا بھی چاہتے ہیں نظر ملانا بھی چاہتے ہیں

وہ صرف میں ہوں جو سو جنتیں سجا کر بھی
اداس اداس سا تنہا دکھائی دینے لگے

یوں ہی آنکھوں میں آ گئے آنسو
جائیے آپ کوئی بات نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *