آج کی شخصیت صلاح الدین پرویز صاحب

صلاح الدین پرویزصاحب کا تعارف

آج کی شخصیت صلاح الدین پرویز صاحب

انتخاب: مہر خان

منفرد اور شیریں لب و لہجہ کا بے مثال شاعر صلاح الدین پرویز پر دو بڑے اور لازوال شاعروں کی رائے
……..
“… میں رفتگاں کے سراغ میں نہ جانے کہاں کہاں بھٹکتا پھرا… تمہاری نظمیں پڑھیں تو معلوم ہوا کہ ہمارا عصر اور رفتگاں کا عہد، سب کچھ تمہاری نظموں میں سانس لے رہاہے. ”
ناصر کاظمی
………
“… کل تمہاری نظمیں سننے کے بعد ساری رات سو نہیں سکا یہ کیا ہے، یہ کیسی شاعری ہے جو ہمیں خدا کے اتنے قریب کردیتی ہے…”
وزیر آغا
…………………….
’’ادب کا شہنشاہِ جذبات،عروضی اور دیگر تکنیکی پابندیوں کو توڑ کر ندی کی تیزد ھارا کی مانند اپنا الگ راستہ بنانے والا منفرد اور شیریں لب و لہجے کا شاعرصلاح الدین پرویز کی آج برسی ہے۔ صلاح الدین پرویز اسلوب نہیں اسالیب کے شاعرتھے۔ یہ بات محمودہاشمی نے کہی ہے اور یہ سچ ہے کہ ان کا شیوئہ بیان،طرزگفتار بہت سے اعتبارات سے معنی خیز ہے۔عربی عجمی شعریات کی اشارت وآہنگ کے آگہی، ہندوستانی سنسکرتی، النکاروں اورشبداولی سے شناسائی نے بھی ان کے اسالیب کو شوکت وجلال اور حسن وجمال عطا کیاہے۔ لسانی خودمختاری اور آزادہ روی کا عمل ان کی بیشتر شاعری میں عیاں ہے۔‘‘
حقانی القاسمی
……….
’’ہوں تو میں فکشن کا آدمی لیکن میں نے اپنے زمانے کی بھی شاعری پڑھی ہے اور تمہارے زمانے کی بھی ۔اپنی زبان کی بھی شاعری پڑھی ہے اور دوسری زبانوں کی شاعری کے ترجمے بھی پڑھے ہیں۔میں نے میر کے سلسلے میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں میں نے کہا تھا کہ میر کا اسلوب ہمارے زمانے کا اسلوب نہیں ہے۔صلاح الدین پتر جیو۔تمہاری شاعری نے میرے عہد کو رسوا ہونے سے بچا لیا ہے۔پتر ،لوگ تم سے حسد کریں گے تمہاری آواز کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے لیکن تم تو سچے مومن ہو،رسول عربی کے عاشق اور ہندوستانی دیومالا کے شنکر۔‘‘
راجندرسنگھ_بیدی

پیدائش: 09 فروری 1952
وفات: 27 اکتوبر 2011

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *