Sakhawat By Ather Usloobi

      No Comments on Sakhawat By Ather Usloobi
Sakhawat By Ather Usloobi

آج پھر فاضل سیٹھ کےگھر بڑی رونق لگی تھی۔ تمام امیر دوست احباب، اعلیٰ سرکاری افسران وسیاسی لیڈروغیرہ سبھی انکے گھرجمع تھے۔ ادھرمہنگی مہنگی پرفیوم کی خوشبوؤں سےبیٹھک کی فضامہک رہی تھی تواُدھربازو ڈائنگ ہال میں طرح طرح کےکھانوں سے میزیں سجائی جارہی تھیں۔ ان سےاُٹھتی اشتہاانگیز خوشبوئیں انکےقیمتی و لذیذ ہونےکااعلان کررہیں تھی۔

Sakhawat By Ather Usloobi

چونکہ دنیاجہان کی نعمتیں آج اس دسترخوان کی زینت بن رہی تھیں۔ دراصل فاضل سیٹھ کی مہمان نوازی ان کےکاروباری حلقوں میں دور دور تک مشہور تھی۔ اور “وہ” یہ ہرگز نہیں چاہتےتھےکہ ان کی یہ امیج خراب ہو۔ اسی لیےآج پارٹی میں طرح طرح کےکھانوں کا اہتمام کیاگیاتھا۔

اللہ اکبر، اللہ اکبر اچانک محلے کی مسجد کےلاؤڈ اسپیکرسےمغرب کی اذان سنائی دینےلگی۔ خوش گپیوں میں مصروف سیٹھ فاضل کے مہمان جن میں کئی ایک غیرمسلم بھی تھےروزہ کھولنےکیلئے ڈائنگ ہال میں جمع ہونےلگے۔ آٹھ سالہ شمس الدین مغرب کی نماز کےبعد گھرآکراپنی بیوہ ماں سےکہہ رہاتھا اماں آج پھر مسجد میں افطاری بہت کم آئی تھی۔

Sakhawat By Ather Usloobi

غریب روزہ داروں کو صرف آدھی آدھی کھجوریں ملیں افطارکیلئے۔ بھلابتاؤ! دن بھربھوکا رہنےوالوں کا آدھی کھجورسے کیا ہوتا؟ اسی لیے میں نے بیچنےکیلئےبنائے تیرےپکوڑے روزہ داروں میں مفت تقسیم کردیے۔ بیوہ ماں نےاپنےرحم دل ونیک بیٹے کوسینےسےلگالیا۔ آنکھوں میں آئے آنسو پوچھتے ہوئے رندھی ہوی آواز میں کہنےلگی۔ شاباش!”میرے چاند، ماہ رمضان کا مفہوم کوئی تجھ سے پوچھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *