معروف ادبی جوڑے سجاد بلوچ اورعنبرین صلاح الدین کی حسن اختر سے خصوصی گفتگو

sajjad-baloch-and-anbreen-2

sajjad-baloch-and-anbreen-12بشکریہ ۔۔ فیملی میگزین

اردو ادب میں ادیب جوڑوں کا ذکرایک دلچسپ موضوع ہے۔ایسی ہی ایک جوڑی سجاد بلوچ اور عنبرین صلاح الدین ہیں۔یہ دونوں شخصیات جہاں شعر وادب کے میدان میں اہم مقام رکھتی ہیں وہیں اپنے پیشہ ورانہ شعبوں میں بھی نمایاں ہیں۔ سجاد بلوچ شاعر، ادیب،صحافی اور ترجمہ نگار ہیں۔ آپ مختلف ادبی تنظیموں سے وابستہ ہیں۔انھوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کر رکھا ہے۔کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ کئی اہم کتب کے تراجم بھی کر چکے ہیں۔عنبرین صلاح الدین شاعر، ادیب، محقق،نقاد،کالم نگار اور استاد ہیں۔انہوں نے صنفی مطالعات میں جامعہ پنجاب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ایک معروف یونیورسٹی کے شعبہ صنفی مطالعات کی سربراہ ہیں۔ان کی بھی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔عالمی ادب کی طرح اُردو ادب نے بھی کئی ادوار دیکھے دنیا کے جغرافیائی حالات ہوں یا سائنسی ترقی ادب پر بہر صورت اس کے اثرات ضرور sajjad-baloch-and-anbreen-4پڑتے ہیں۔

نئی صدی کے شروع ہوتے ہی ذرائع ابلاغ میں بے پناہ ترقی کی جو ایک لہر آئی اس نے پہلے سے رائج نظام کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ تاہم وطن عزیز میں صحافتی ادارے بحران کے باوجود ثابت قدم رہے۔ آزادی کے بعد بلاشُبہ اُردو ادب نے نمایاں ترقی کی۔گزشتہ دو عشروں سے جہاں کتب و رسائل کے قارئین کی تعداد کم ہوئی، وہاں نئے لکھنے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی ہوئی اور برق رفتاری سے ترقی کرتا اُردو ادب سست روی کا شکار ہو گیا۔ ایک خلا پیدا ہُوا، تاہم حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ حال ہی میں بڑی تیزی سے بہت اچھے نام سامنے آئے ہیں، جن کے کام اور لگن سے ہمارا ادب پھر سے باقاعدہ ترقی کے راستے پر چل پڑا ہے۔ان کے کام گونج نہ صرف پورے پاکستان میں ہے بلکہ پڑوسی ملک بھارت سمیت تمام ملکوں میں جہاں جہاں اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگ موجود ہیں،وہاں ان کے کام کی تعریف ہو رہی ہے۔ اردو شاعری کے اُفق پر چمکتے ہوئے ان ستاروں نے کس قدر محنت اور کس انداز سے اُردو ادب میں نمایاں مقام بنایا ہے، آئیے sajjad-baloch-and-anbreen-5انہی کی زبانی سنتے ہیں۔

ٓ سوال:شاعری کی طرف کیسے آنا ہوا؟

سجاد بلوچ:میں نے اپنی پہلی کتاب کے دیباچے میں لکھا تھا ”میں چھٹی یاساتویں جماعت میں پڑھتا تھا، تب ہم گاؤں میں مقیم تھے، مجھے یاد ہے سرما کی وہ رات جو بارش میں بھیگ کر اور بھی سرد اور گہری ہو چلی تھی۔میں والد صاحب کے پاس بیٹھا تھا، وہ غزل سن رہے تھے،،”اِبنِ مریم ہوا کرے کوئی“۔ایک بہت سریلی آواز نے ماحول  پر سحر سا طاری کیا ہوا تھا۔ میں نے والد صاحب سے پوچھا یہ کیا گا رہا ہے۔انہوں نے فرمایا غالب کی غزل ہے۔ میری الجھن کو بھانپتے ہوئے انہوں نے انتہائی سلاست سے مطلع کی تشریح کی۔ اس ماحول میں شعر اور آواز کی اس پراسراریت اور والد صاحب کی مشفقانہ گفتگونے دل ودماغ میں حرف و صوت کی دلکشی کے کتنے ہی گلاب کھلادیے۔اس کے بعد شعر کو توجہ سے پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔والد صاحب ایک صاحبِ علم اور باذوق انسان تھے،ادب سے محبت کرتے تھے،یوں میں شعر وادب کی طرف راغب ہوا۔عنبرین صلاح الدین:میرے گھر میں شروع سے شعر و ادب کا ماحول تھا۔ میرے نانا پروفیسر محمد منور مرزاایک جیدعالم اور والد صلاح الدین ایوبی صاحب کئیکتابوں کے مصنف ہیں۔ میرے نانا کی لائبریری میں ہزاروں کتب موجود تھیں۔ مجھے یاد ہے وہ جونہی گھر سے نکلتے، میں ان کی لائبریری میں چلی جاتی۔ بس انہی کتابوں کے پیلے اوراق کی خوشبو نے مجھے علم و ادب کی طرف راغب کیا۔ میرے نانا چونکہ اپنے عہد کی اہم علمی و ادبی شخصیت تھے، سو اس عہد کے اہم ترین تخلیق کار ان کے پاس تشریف لاتے رہتے تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں سکول میں پڑھتی تھی۔ نانا کی شفقت، ابو کی رہنمائی اوراپنے شوق کی وجہ سے میں شہرِ سخن میں داخل ہوئی۔

sajjad-baloch-and-anbreen-6سوال: کن کن اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہیں اورآپ کی کتنی کتابیں چھپ چکی ہیں؟

سجاد بلوچ:میرا بنیادی حوالہ تو شاعری ہی ہے لیکن میں افسانے بھی لکھتا ہوں۔کچھ تراجم بھی کیے ہیں۔صحافی ہوں، سو فیچر اور مضامین وغیرہ بھی لکھتا ہوں۔میراپہلا شعری مجموعہ ’ہجرت وہجر‘2013 میں سنگ میل پبلیکیشنز سے شائع ہوا، اور اللہ کا شکر ہے کہ اسے اردو ادب کی ممتاز شخصیات کے علاوہ دنیا بھر کے ادبی حلقوں نے سراہا۔ تراجم میں ایک کتاب نوبیل انعام یافتہ شخصیات کے انٹرویوز کے تراجم پر مشتمل ہے اوردوسری تحقیقی کتاب زبان، لہجے اور لسانی رشتے ہے، یہ دونوں کتابیں اردو سائنس بورڈ نے شائع کی ہیں۔ اس کے علاوہ شاعری، افسانے اور تراجم کی کچھ کتابیں زیر طبع ہیں۔عنبرین صلاح الدین: میں نظم اور غزل دونوں لکھتی ہوں۔میرے دونوں شعری مجموعوں میں غزلیں بھی ہیں اور نظمیں بھی۔اس کے علاوہ تحقیقی مضامین بھی لکھتی ہوں۔نثر بھی لکھتی ہوں۔میرا پی ایچ ڈی کا موضوع بھی اردوکی خواتین فکشن نگاروں کے ہاں تانیثی علامتیں تھا۔تراجم بھی کیے ہی۔2005میں میرا ایک تحقیقی کام، Feminism in modern Urdu poetessesکے نام سے شائع ہوا۔ 2004میں پہلا شعری مجموعہ ’سرِ دشتِ گماں‘ شائع ہوا جسے PEN Pakistan best first book awardدیا گیااور 2014میں دوسرے شعری مجموعے ’صدیوں جیسے پَل‘ کی اشاعت ہوئی۔اس کے علاوہ دو کتابیں ’فرہنگ صنفی مطالعات‘ اور رچرڈ ڈاکنز کی شہرہ آفاق کتاب The magic of reality کا اردوترجمہ’حقیقت کا جادو کے‘ نام سے حال ہی میں شائع ہوئیں۔

sajjad-baloch-and-anbreen-9سوال:ادب کی کونسی صنف مشکل ترین ہے؟خیال کیسے سوجھتے ہیں؟

عنبرین صلاح الدین:یہ تو ادیب کی اپنی پسند اور اس کی ریاضت پر منحصر ہے۔ میں کبھی اراداتاََ نہ غزل کہتی ہوں نہ نظم۔ کبھی غزل ہو جاتی ہے اور کبھی نظم۔ ہاں، میں نے انگریزی میں تو free verseمیں لکھا ہے، مگر اردو میں نہیں۔ سجاد بلوچ: میرے نزدیک خیال اپنی صنف ساتھ لے کر آتا ہے، میں تو پیشے کے لحاظ سے ایک صحافی ہوں، سو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی خبر یا خیال مضمون یا خبر بنتے بنتے کسی افسانے یا شعر کا رستہ دکھا دیتا ہے، وہ کہتے ہیں نا کہ شعر میں آدھی بات چھپانی اور آدھی بتانی ہوتی ہے، سو کبھی ایسا لگتا ہے کہ ادبی صنف میں بات کرنے میں سہولت ہے۔لیکن اس سہولت سے فنی اظہار کی سہولت مراد نہیں ہے، فن بحر حال خبر بنانے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔

sajjad-baloch-and-anbreen-8سوال: کن شاعروں اور ادیبوں سے متاثر ہیں؟

عنبرین صلاح الدین: بہت نام ہیں، مگر اردو شاعری میں اقبال، غالب اور مجید امجد سے شروع سے متاثر تھی، اب تک متاثر ہوں۔ پنجابی کلاسیکی شاعری بہت پسند ہے؛ میاں محمد بخش، وارث شاہ،غلام رسول عالمپوری۔۔بہت شروع سے انگریزی ادب وشاعری بشمول عالمی ادب کے انگریزی تراجم کو زیادہ پڑھا اور اس کا اثر بھی ساتھ ساتھ رہا۔ان شاعروں اور فکشن نگاروں میں میری کوریلی،ہارڈی، دوستووسکی، سارتر، الزبیتھ جیننگز، ڈینس لیورٹو، اور پھر کچھ عرصہ بعد کنڈیرا، گارشیا ماکیز، امبرٹو ایکو، گنتر گراس، ایزرا پاؤنڈاور بہت سے نام میرے سفر میں بہت اہم ہیں۔ان میں اکثر مصنفین سے میں نے اپنے ارد گرد کو کسی اور طرح جاننے، سمجھنے اور خود میں جذب کر کے نئے سرے سے، اپنے انداز میں تخلیق کرنے کا ہنر سیکھا۔سجاد بلوچ:جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا میں خوش قسمت ہوں کہ سب سے پہلے جس شاعر سے باقاعدہ تعارف ہوا وہ غالب تھا، گو اس سے پہلے مختلف شعرا کے اشعار پڑھتے تھے اور انہیں بیاض میں نقل بھی کرتے تھے یا جو نصاب میں شامل شاعری ہوتی ہے وہ پڑھتے تھے لیکن باقاعدہ کتاب کی صورت میں کسی شاعر کا کلام پڑھا تو وہ غالب کو پڑھا اور خود ہی اس کی شرح کرتا رہا،  میرے پاس اردو کی ایک اچھی لغت تھی، اس سے مدد لیتا یا پھر والد صاحب سے کسی لفظ کا مطلب پوچھ کر غالب کو پڑھتا تھا، اسی طرح پھر اقبال،میر، انیس، فیض وغیرہ کو پڑھا، پھر تمام کلاسیکس کو پڑھا، اور جتنا ہو سکا آج تک کے اردو شعر و ادب کا مطالعہ کیا، پھر عالمی ادب پڑھا کچھ انگریزی میں اور کچھ تراجم کی صورت میں،ویسے مجھے ہر اچھا شعر متاثر کرتا ہے، ہر اچھی نظم اورافسانہ و ناول میرے ساتھ رہتاہے وہ چاہے کسی بہت معروف ادیب کی تخلیق ہو یا کسی کم معروف کی۔

sajjad-baloch-and-anbreen-1سوال: اردو ادب کا مستقبل کیا دیکھ رہے ہیں اور کتنے مطمئن ہیں؟

عنبرین صلاح الدین: اگر کتابوں کے حوالے سے دیکھیں تو ڈھیروں کے حساب سے نئے شعری  ونثری مجموعے شائع ہو رہے ہیں۔پہلی بات تویہ ہے کہ ہمارے ملک میں برا ادب اور خاص طور پر بری شاعری چھاپنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ کتاب چھاپنے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ مثلاََ ایک تو وہ شاعری ہوتی ہے کہ جس کا قاری کو انتظار ہوتا ہے۔ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کا سامنے آنا واقع ضروری ہوتا ہے۔ کچھ کتابیں کسی نہ کسی مقصد یا مفاد حاصل کرنے کے لئے بھی چھاپی جاتی ہیں۔ اور بہت ساری کتابیں شاعرصرف اپنی خوشی کے لئے چھاپتے ہیں۔ معیار کو دیکھیں تو پھر سوالات اٹھتے ہیں کہ ان میں سے کتنا حصہ اعلی یا معیاری ہے۔ سجاد بلوچ: ادب بالخصوص شاعری کا وہی حال ہے جو مجموعی طور پر ہمارے معاشرے کا ہے۔ سیاست، مذہب سے لے کر اخلاقیات اور قدروں تک سب کا ایک جیسا حال ہے۔یہ محض بات نہیں، حقیقت ہے۔ہاں، ادب پھر بھی کہیں نہ کہیں اس سب سے بچنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمارے اکثر ادیب اسی رنگ میں رنگتے چلے جا رہے ہیں اور وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح اب جعلی طریقوں اور شارٹ کٹ کے ذریعے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا انجام یقینا برا ہے اورآخر کار نقصان ان کا نہیں، ادب کا ہونا ہے۔

sajjad-baloch-and-anbreen-11سوال: ایک گھر میں آپ دو تخلیق کار ہیں، اور دونوں شاعر ہیں۔ اس بارے میں کچھ بتائیں؟

عنبرین صلاح الدین: یہ زندگی کا خوب صورت ترین وقت ہے۔ اپنی ایک نظم کی چند سطریں یاد آ رہی ہیں؛ ہم دونوں ہنستے ہیں اور گنگناتے ہیں غالب کو پڑھتے ہیں مذہب، سیاست، روایت سے پہروں اُلجھتے ہیں اِس سامراجی نظامِ معیشت میں جلتی ہوئی زندگی پر سلگتے ہیں سب کچھ بدل دینے کے خواب تکتے ہیں ہاتھوں کے تکیوں پہ، نظموں کے لفظوں کے انبار دھرتے ہیں غزلوں میں پیکر بناتے ہیں سجاد بلوچ:جیسا کہ عنبرین نے کہا ہم دوستوں کی طرح رہ رہے ہیں، اور ایک اہم بات یہ ہے کہ تخلیق کار جتنا بھی پختہ ہو، سینئر ہو، اسے اپنی تصنیف کے بارے میں رائے اور مشورے کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے، ہم دونوں اس حوالے سے خوش قسمت ہیں کہ ہمیں گھر میں ہی ناقد میسر ہے، ہم ایک دوسرے کے ناقد بھی ہیں اور اگر کچھ اچھا تخلیق ہو جائے تو تحسین کرنے والے بھی ہیں اور مشورہ دینے والے بھی ہیں۔ ہم اب اپنی اکثر تخلیقات کے اولیں قاری اور سامع بھی ہیں، سو یہ بہت پر لطف بات ہے۔

sajjad-baloch-and-anbreen-10سوال:لکھنے کے لیے کیسا موحول پسند ہے،ماحول کا کام پر اثر ہوتا ہے؟

عنبرین صلاح الدین: ہوتا ہے۔ مگر کئی بار آپ کی تخلیق آپ کو ماحول سے باہر بھی لے جاتی ہے۔مثلًا میرے ساتھ اکثر ایسا ہوا کہ کوئی اور کام کیفیت کے زیرِاثر بیچ میں چھوڑنا پڑا اور پہلے شعر یا نظم لکھنی پڑی۔ ہاں مصروفیت میں کئی لمحے، کئی کیفیتیں ہاتھ سے نکل جاتی ہیں، لفظ ذہن سے پھسل جاتے ہیں اور پھر واپس نہیں آتے۔ جہاں تک یہ سوال ہے کہ کیسا ماحول پسند ہے، تومیرے لئے اتنا کافی ہوتا ہے کہ خاموشی ہو اور کوئی مداخلت نہ ہو۔سجاد بلوچ:جی ہاں خاموشی ضروری ہے، اور ممکن ہو تو روشنی بھی کم ہو، لیکن یہ ماحول اس وقت درکار ہوتا ہے جب آپ باقاعدہ کام کرنے کے ارادے سے بیٹھے ہوں یا اپنے فن پارے کی کاٹ چھانٹ کرنی ہو، عام طور پر ایسا ممکن نہیں ہوتا کہ جب بھی کسی خیال کی آمد ہو تو آپ اسے محفوظ کر لیں لیکن پھر بھی میری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ تر خیالات کو نوٹ کر لوں، پھر بھی کئی بار کسی سستی کی وجہ سے یا کسی ضروری کام یا مصروفیت کی وجہ سے بہت کچھ ایسا ہے جو قرطاس پر اترنے سے رہ جاتا ہے اور کہیں تصور میں ہی بنتا ہے اور بکھر جاتا ہے۔

sajjad-baloch-and-anbreen-14سوال:سوشل میڈیا کا کیا کردار دیکھتے ہیں اور شعرا اسے کس طرح استعمال کر رہے ہیں؟

عنبرین صلاح الدین: پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر آپ شاعر ہیں تو سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک آپ اپنی شاعری کی ترویج کے لئے استعمال کریں گے یا دوسرے شاعروں، اپنے دوستوں اورقارئین سے رابطے کے لئے استعمال کریں گے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ شاعر ہیں، تو اس فیس بک سے باہر بھی کہیں موجود ہوں گے۔ اور بہت سے مردوخواتین شاعروں کی عمر تو اِس بات کی متقاضی ہے کہ فیس بک سے پہلے کہیں توموجود رہے ہوں گے۔ان کا کام کسی ادبی مجلے میں شائع ہوا ہوا گایا کم از کم اپنے شہر کے کسی مشاعرے میں شرکت کی ہو گی۔ جیسا کہ میں اپنی طالب علمی کے زمانے سے لکھ رہی ہوں تو بین الکلیاتی شعری مقابلوں میں لاہور کے بیشتر سینئر شاعروں کو سن رکھا ہے اور انھوں نے مجھے سن رکھا ہے۔مجھے لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی سے گریجوایشن کے وقت شاعری کا کو کریکولر رول آف آنر بھی ملا۔پنجاب یونیورسٹی کے مجلے ’محور‘ کی مدیر رہی۔ 2004میں پہلی کتاب آنے سے پہلے میری شاعری احمد ندیم قاسمی صاحب کے فنون اور ڈاکٹر وزیر آغا کے اوراق میں شائع ہو چکی تھی۔یہ بھی اہم ہے اور سند ہے کہ آپ کو کسی بڑے مدیر نے اپنے مجلے کا حصہ بنایا۔یہ فیس بک تو بہت بعد کی پیداوار ہے۔اب لوگ اچانک شاعر بن جاتے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ اب بھی لوگ شاعری بیچتے ہیں، مگر اب پیسہ اتنا زیادہ ہے کہ کوئی ایسا شاعر اپنے گھر کی دہلیز پربھوک، بیماری یا نشے سے نہیں مرے گا۔سجاد بلوچ:بھائی سیدھی سی بات ہے اگر آپ کے پاؤں زمین پر نہیں ہوں گے تو آپ اعلی ادب تو کیا ادب ہی تخلیق نہیں کر سکتے،ہمارے ہاں جو سب سے بڑا مسئلہ پیدا ہوا ہے وہ یہی ہے کہ ہم دوسروں کی دیکھا دیکھی لکھتے چلے جا رہے ہیں،اور سوشل میڈیا نے ہمیں جلد باز بنا دیا ہے۔ ہمیں اپنے مسائل کا، سماج کا اور قدروں کاگہرا مطالعہ کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔ہمارے پاس معلومات کا ہجوم ہے لیکن غور فکر کا وقت نہیں۔اب توزیادہ تر شاعر ایک آوارہ خیالی میں کچھ بھی کہہ دیتے ہیں اور خود کو میر و غالب سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا کا ایک بہت مثبت کردار یہ ہے کہ اسنے نئی نسل کو ادب کے ساتھ یا کم از کم لفظ کے ساتھ جوڑا ہوا ہے۔

sajjad-baloch-and-anbreen-3سوال:آپ کا ادیبوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھا ہے؟

سجاد بلوچ:جی ہاں، بالکل ہے، ادب خود اتنی وسیع اصطلاح ہے کہ اس کے اندر زندگی کے سارے رنگ شامل ہیں، اور زندگی ملنے ملانے، مکالمہ کرنے اور گفتگو اور رابطے کا نام ہے، ہم اکثر مشاعروں، کانفرنسوں، ادبی میلوں اور کتاب میلوں میں جاتے ہیں اور وہاں شرکت کے مقاصد میں سے ایک مقصد ادیبوں سے ملاقات اور تبادلہ خیال کرنا بھی ہوتا ہے۔عنبریں صلاح الدین:یہ عمل ادب کی ترویج اور تربیت کے لیے بہت ضروری ہے، اور ہم صرف تقریبات میں ہی نہیں ملتے بلکہ اکثر نجی نشستوں میں، گھروں میں کھانے پر اکٹھے ہوتے ہیں، بلکہ میں سمجھتی ہوں کہ نجی اور مختصر نشستیں مکالمے اور گفتگو کے لیے زیادہ بہتر ہوتی ہیں۔

 sajjad-balocjسوال:ذاتی طور پر رجائیت پسند (پُرامید) ہیں یا قنوطیت پسند(نااُمید)؟

سجاد بلوچ: امید ہے تو زندہ ہیں۔

            عنبرین صلاح الدین: میں بہت پر امید اورہمیشہ خوش رہنے کی کوشش کرنے والوں میں سے ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *