Sajda Shukar Episode 4 By Numan Ali Hashim

Sajda Shukar Episode 4

(سجدہ شکر (چوتھی قسط

از قلم: نعمان علی ہاشم

پھرتو تحریک آزادی تحریک پاکستان کے نام سے چلی ہوگی؟ احمد نے ناشتے کے میز پر پھر سے تذکرہ چھیڑا۔ غلام رسول ہاں ٹھیک سمجھے۔ اس کے بعد تو ہر نعرہ ہر آواز پاکستان کی آواز بن گئی۔ جلسوں میں بٹ کہ رہے گا ہندوستان بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے بلند ہونے لگے۔

پاکستان کے قیام کے مقاصد ہر پیر وجواں کی زبان پر وظیفے کی طرح چلنے لگا۔ دن گزرتے گئے اور تحریک بڑھتی رہی۔ ایک موقع ایسا آیا کہ گورا حکومت نے مسلم لیگ کی لوکل لیڈرشپ کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ 1939 کی وہ صبح مجھے آج بھی یاد ہے جب میرے ماں نے میرے بابا کو کہا تھا کہ آج غلام رسول چھے سال کا ہو گیا ہے۔ اسے حفظ شروع کروا دیں۔ ماں کے مشورے پر مجھے شہر کے ایک مدرسہ میں داخل کروانے کا ارادہ کیا گیا۔

Sajda Shukar Episode 4

اگلی صبح جب ہم مدرسہ کے لیے نکلنے لگے تو شہر سے آتے ایک شخص کی زبانی معلوم ہوا کہ شہر کا بڑا مدرسہ جل گیا۔ تقریباً سو طالب علم زندہ جل گئے۔ میرے چاچا اسد اللہ کا بیٹا بھی اسی مدرسہ میں پڑھتا تھا۔ ہمارے چاچا تحریک پاکستان کے زبردست مخالف تھے۔ اور متحدہ ہندوستان کے حامی اور کانگریس کے راہنما تھے۔ دو دن کی تلاش کے بعد جب بیٹا نہ ملا اور کسی جلی لاش کی شناخت نہ ہوئی تو چاچا نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا کہ اب ان کا بیٹا مسلمان ہونے کے جرم میں شہید ہو گیا۔

چاچا کے گھر ایک کہرام تھا۔ تیسرے دن کانگریس کی قیادت سوئم کی دعا میں جمع تھی کہ چاچا نے اٹھ کر گفتگو شروع کر دی۔ چاچا اپنے آنسوں کو ضبط کرتے ہوئے بولے میں نے آج ایک فیصلہ کیا ہے۔ اس کو سنانے سے پہلے چند باتیں آپ سے کرنا چاہوں گا۔ میں نے جان لیا کہ مسلمان اور ہندو ایک دیس میں ایک جھنڈے تلے اکھٹے نہیں رہ سکتے۔ میرے وہ رشتہ دار جو تحریک آزادی کے ساتھ کھڑے ہیں اپنے نظریے پر بالکل درست ہیں۔

اب ہمیں اس خون خرابہ سے بچتے ہوئے اپنی الگ الگ منازل کی جانب بڑھنا ہوگا۔ متحدہ ہندوستان ایک بھیانک خواب کے سوا کچھ بھی نہیں۔ دو دن پہلے سو مسلمان بچوں کو صرف اس لیے جلا دیا گیا کہ وہ مسلمان تھے۔ ان میں سے چند ہی ایسے تھے جو تحریک آزادی کے حمایتی تھے۔ باقی سب کے سب متحدہ ہندوستان کے حمایتی تھے۔ ان کا جرم صرف مسلمان ہونا تھا ۔ اور مدرسہ کے اندر پڑھنا تھا۔

Sajda Shukar Episode 4

لہذا میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم ایک جگہ پررہیں گے تو ہماری بقاء کا تصور بھی بد گمانی ہوگا۔ آج میں اپنے ہوش ہوس میں کانگریس سے لاتعلقی کااظہار کرتا ہوں۔ اورمسلم لیگ کے ایجنڈے کو حق تسلیم کرتے ہوئے اس کی حمایت کرتا ہوں۔ اگر قربانیاں ہی دینی تو کسی مقصد میں دی جائیں۔ بلا وجہ جان، مال و اولاد قربان کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔۔

کانگریس کے قائدین مایوس ہو کر چلے گئے۔ اسد اللہ اپنے بھائی غلام اللہ کے گلے لگ کر رونے لگا۔ آج 15 سال بعد ایک دوسرے کو گلے لگایا تھا۔ اسد اللہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا مجھے مسلمانوں سے غداری کی سزا ملی ہے۔ اللہ نے میرا بیٹا چھینا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ اللہ باقی سو بچوں کے قتل پربھی مجھ سے سوال کرے گا۔ کہ تو نے ان ظالموں کی حمایت کی تھی جس نے بے گناہ مسلمان بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔

دونوں بھائی غمزدہ ایک دوسرے کے گلے سے لپٹے تھے۔ کہ شور ہوا بستی میں ہنگامہ ہو گیا ہے۔ چند شدت پسندوں نے لوٹ مار شروع کر دی ہے۔ آج وہ بندوقوں کے ساتھ حملہ آور ہوئے۔ غلام اللہ اور اسد اللہ بستی کی جانب دوڑے۔ ان کے پہنچنے تک شدت پسند لوٹ مار کر کہ فرار ہو چکے تھے۔ غلام اللہ نے اپنے گھر کے چوبارے کی طرف دیکھا تو عزیز دین اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔

غلام اللہ نے فوراً پاس جا کر عزیز دین کو اٹھایا۔ عزیز دین شاید موت کو دیکھ چکا تھا۔ اپنے بھائی کی باہوں میں دم توڑنے کی خواہش شاید اس کی بے ربط سانسوں کو جوڑے ہوئے تھے۔ غلام اللہ نے ایک پیلالے میں پانی ڈال کرعزیز دین کے منہ کی طرف بڑھایا۔ جسے عزیز دین نے تھوڑا سا پیا۔ اور سانسوں کو رہائی دے دی۔ کوئی لفظ تو اسکی زبان سے بیان نہ ہوا البتہ کھلی آنکھیں ایک مکمل داستاں بیان کر رہی تھی۔

Sajda Shukar Episode 4

ایک آنسو غلام اللہ کی آنکھ سے نکلا اور عزیز دین کے چہرے پر پڑا۔ اسد اللہ نے بھائی کو سہارا دیا۔ بستی کی سب دکانیں لٹ چکی تھی۔ کہی دکانوں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ ایک حملے نے تقریباََ 20 مرد و خواتین کی زندگیاں نگل لی تھی۔ غلام اللہ نے عزیز دین کے ہندو رشتہ داروں کوعزیز دین کی شہادت خبر دی۔ مگر اس کے آخری دیدار کو کوئی نہ آیا۔ عزیز دین کی بیوی بھی اس کے اسلام کی وجہ سے اسے چھوڑ چکی تھی۔

عزیز دین کا 9 سالہ بیٹا باپ کی میت پہ خاموش کھڑا تھا۔ جنازے کے بعد غلام اللہ اور اسد اللہ نے ایک نیا عزم باندھا۔ اور مزید ظلم برداشت کرنے کے بجائے اپنے وسائل سے اپنی حفاظت کے لیے چند افراد تیار کیے۔ ان کے لیے اسلحے کا انتظام کیا۔ اور بستی کے دفاع پر معمور کر دیے۔

اپنی نوعیت کا ایسا اقدام تھا جس نے ظلم کے خلاف ایسی سوچ دی کہ ہندستان کے کونے کونے میں ایسی فورسزز تیار کی جانے لگی۔ اور تحریک میں مایوسی کا باب بھی ختم ہونے لگا۔ اب دست بدست لڑائیاں ہوتی۔ اور ہندوں کو منہ کی کھانی پڑتی ۔ حالات بگڑتے گئے۔ گورا حکومت کسی طرح بھی ان حالات کو کنڑول نہیں کر پا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔

ایک دن ابا جان گھر آئے اوراپنے علاقے میں جلسہ منعقد کیا۔ جلسے میں 19 مارچ 1940 کو لاہور روانگی کی تاریخ دے دی گئی۔ اور پھر 22 23 مارچ کے اس تاریخی جلسے کی تیاریاں ہونے لگی۔ تو کیا قافلوں کی صورت میں لوگ وہاں گئے؟؟؟ احمد نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے بات آگے بڑھائی۔ غلام رسول ہاں پھر گھر گھر جا کر لوگوں کو اکھٹا کرنا شروع کر دیا۔ 19 مارچ کی صبح بستی کے 125 افراد کو ساتھ لے کر غلام اللہ منٹوپارک لاہور کی جانب روانہ ہوئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں آج مینار پاکستان واقع ہے۔

Sajda Shukar Episode 4

پورے ہندوستان سے کئی کئی دن پہلے قافلے روانہ ہوئے۔ رات کے اندھیرے میں کہیں آرام کے ارادے سے قیام ہوتا تو ہندو حملہ کر دیتے۔ اور کئی لوگ شہید ہو جاتے۔ دادا جان آپ کے بابا کے قافلے پر بھی حملہ ہوا؟؟ احمد نے پھر سے سوال کیا۔ غلام رسول ہاں کئی دفعہ حملہ کیا گیا۔ 125 میں سے 60 افراد جلسے تک پہنچے۔ اوران 60 میں سے 45 گھروں کو آئے۔ کوئی اپنا بھی شہید ہوا تھا دادا جان؟؟

غلام رسول شہید ہونے والے سارے ہی ہمارے اپنے تھے۔ ویسے تم نے جس نقطہ نظر سے پوچھا وہ بھی سمجھ گیا۔ اس قافلے میں میرے چاچا اسد اللہ بھی شہید ہوئے۔ دادا جان جب آپکے بابا گھر آئے تھے تو بستی والوں کا کیا درعمل تھا؟؟ احمد کے کربناک سوال نے دادا کو چونکا دیا۔

دادا بولے تمہارے خیال میں کیا حال ہو سکتا جب یہ خبر ملی ہوگی 125 میں سے 45 واپس آئے؟؟؟ احمد میں اپنے جذبات بیان کرنے سے قاصر ہوں دادا جان دادا جان بولے بستی میں داخل ہوتے ہی ہم پر پھول برسائے گئے۔ اخباروں میں قرارداد پاکستان کی منظوری کی خبر چھپ چکی تھی۔ اپنے شہیدوں کا غم کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ بس پاکستان کی منزل قریب ہونے کا جشن تھا۔ البتہ کبھی کبھی میری چاچی کہا کرتی تھی کاش ان کا آخری دیدار کر لیتی۔

Sajda Shukar Episode 4

محلے کی نکڑ والی دادی سائرہ اکثر اپنے بڑھاپے کی تنہائی کو بھلانے کے لیے ہمارے گھرآ جاتی۔ اسکا خاوند اور بیٹا اس سفر میں نقد جاں ہار گئے تھے۔ مگر ایک امید کسی کو رونے نہیں دیتی تھی کہ ہم اپنے پاکستان کو پا لیں گے۔ آزاد سانسیں لے کران کی قربانیوں کا صلہ پا لیں گے۔ اپنے بچوں کی جان مال عزت اور ایمان کو محفوظ دیکھ کر ہم اللہ کا شکر ادا کر لیا کریں گے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *