اردو افسانہ سیف الایمان

      No Comments on اردو افسانہ سیف الایمان
اردو افسانہ سیف الایمان

ازقلم: ناہید طاہر

اللہ تعالی نے ذکیہ خانم کواس آب وگِل سے بنایا جس میں شاید صرف ایمان کی محبت، ایمان کی روشنی استعمال کی گئی۔ خاص کرنوجوان طبقہ، جن میں ذکیہ خانم گراں قدر شخصیت مانی جاتی تھیں۔ ہرمجلس و محفل میں نوجوان لڑکیوں سے مخاطب، گزارش کرتی نہیں تھکتیں کہ ”اپنے ایمان کی حفاظت کیجئےگا۔ یہ بہت قیمتی خزانہ ہے، اپنی جان ومال اوراولاد۔۔۔۔! ان سب سے افضل اور بیش بہا!! آج بھی پورا آڈیٹوریم نوجوان طلباء سے پرتھا۔ وہ ڈیسک کا سہارا لئے کھڑی تھیں۔

میری عزیز بچیو۔۔۔

اپنی ذات۔۔۔۔ اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنا سیکھیں ۔۔!!!”ہمیشہ کی طرح پرجوش انداز تھا۔ “تمہیں نہیں پتہ دشمنِ اسلام تندہی سے ہمارے تعاقب میں ہیں، چمن کی معصوم کلیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔۔۔!!! “کئی خفیہ تنظیمیں ظہور پزیر ہوئی ہیں جو ہمارے مسلم معاشرے کی معصوم کلیوں کو معدوم کرنے کی آخری حد تک کوشش میں لگی ہیں! یہ کہتی ہوئی وہ بے اختیار رونے لگیں۔ آج میں ایک آزاد۔۔۔۔۔فیشن پرست۔۔۔۔۔۔ بدنصیب لڑکی کی داستان سنانا چاہتی ہوں۔ جسکے گناہ گار دست سے کیسے سیف الایمان گرگئی ؟؟؟ آڈیٹوریم میں سناٹا چھایا رہا۔۔۔۔ سب ہمہ تن گوش تھیں۔

اردو افسانہ سیف الایمان

کرشنا گوپال نامی شخص اس تنظیم کا ایک آلہء کارتھا، جواپنی تنظیمِ آئین کےمطابق اس لڑکی کا تعاقب کررہا تھا۔ پتہ نہیں وہ کیسے ہراتوار کی شام سنیما گھرمیں اسکی سیٹ کے بالکل قریب ٹکٹ حاصل کرتا وہ حیران رہ جاتی۔۔۔۔! کئی قیمتی تحفوں سے اسکا دامن بھردیا۔ نہایت چالاکی سے اس معصوم کو اپنی جھوٹی محبت میں گرفتار کیا۔

تنظیم کی چال تھی جسکے تحت وہ بساط بچھاتا گیا اور وہ معصوم لڑکی کٹھ پتلی کی طرح اس کھیل کو کھیلتی چلی گئی۔دشمنوں کا دائیرہ اسکے اطراف تنگ ہونے لگا، فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ۔۔۔۔۔۔! کرشنا گوپال کی محبت نے اِسے گھر سے فرار ہونے پر مجبور کیا۔ پتنگ کھلے آسمان سے کٹ کرچند پل لہرائی اور تیزی سے زمین پر گرتی چلی گئی، کسی مندرمیں دونوں نے بیاہ رچایا، “اسطرح تنظیم کی فتح ! اسکی تا زیست شکست۔

وہ اپنے مذہب اسلام کو چھوڑ کر استغفراللہ ، کرشنا گوپال کے قدم سے قدم ملا کر بت پرستی میں لگ گئی۔ اس سے بڑھ کر اسکی بدنصیبی اور کیا ہوسکتی بھلا۔۔۔؟ پورے دس دن اس نے مندر کے چکر کاٹے۔۔۔۔ اُس بت کے آگے ماتھا ٹکایا، اپنے روشن مستقبل کی دعائیں مانگیں۔ ایک شام وہ پوجا کے بعد گھر لوٹی تو وہاں اسکے شوہر کے ساتھ تین دوست موجود تھے۔۔۔۔۔ اور وہ سارے کے سارے نشے میں دھت! یہ دیکھ کر اس معصوم کا حوصلہ پست نہیں ہوا کیونکہ اسکا شریکِ حیات ساتھ تھا۔ جسکے لئے وہ اپنا ایمان، خاندان سب کچھ قربان کر آئی تھی۔ دوسرے ہی پل اسکے بھروسے کا قتل، ایک زنگ آلود چھری سے ہونے لگا۔

کرشنا گوپال سفاکی سے کہ رہا تھا۔ “یار اس مسلم لڑکی سے بیاہ کی معقول قیمت حاصل کرچکا ہوں۔۔ “کافی عیش بھی کرچکا۔ تم بھی عیش وطرب حاصل کرو۔۔۔۔!!!” وہ لڑکی سارا معاملہ جان گئی، وہ آگے بڑھی۔۔ اور آگے۔۔۔۔۔پھراس بد قماش شخص پر جنونی اندازمیں پوجا کی برتن سے وار کرتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہوکر گر پڑا۔۔۔۔۔ اسکے تینوں ساتھی فرار ہوگئے۔ وہ اپنے بکھرے وجود کی بکھری کرچیوں کو سمیٹتی ہوئی وہاں سے فوراًباہر نکل آئی۔۔۔۔۔باہر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ کچھ ہی دیر میں تیز بارش ہونے لگی آہستہ آہستہ اندھیرے نے اپنی چادر روئے زمیں پر پھیلا دی۔ وہ لڑکی کوئی پرواہ کیئے بنا دوڑتی رہی۔ قیامت خیز طوفان معلوم ہوتا تھا۔ کبھی غضب ناک بجلی گرجنے کی آواز ماحول کےخوف کا اعلان کرتی، تو کبھی بجلی کی چمک سے قدرت راستہ دکھلا کر اس کی مدد کردیتی۔ اِس پربستہ ماحول میں جب اپنوں کے در پر ضرب لگائی تودلوں کی در کشائی نہ ہوسکی، یہ کہتے ہوئے ذکیہ خانم کرب سے رو پڑیں۔

وہ لڑکی سہمی ہوئی رات بھر ایک شجرتلے کھڑی کانپتی رہی۔ طوفان جب تھم گیا اور سورج کی پہلی کرن نے زمین کو بوسہ دیا تب ایک شخص اسکی جانب بڑھ آیا۔ وہ وحشت زدہ، خود کو سمیٹنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔ اُس شخص کی گمبھیر آواز سماعت سےآٹکرائی۔ “رات بھرانتظار کیا کہ آپ کو کوئی لینے آئے گا” لیکن افسوس کوئی نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔۔!!!” میں آپکا ایک پڑوسی ۔۔۔۔! گراعتراض نہیں، میرے ساتھ میرے گھر چل سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔میں آپ کو پناہ دونگا۔۔۔! وہ خوف میں ڈوبی لڑکی کئی لمحے اس پر شفیق اجنبی کو تکتی رہی۔ جسم سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا۔ اس فرشتے نے اپنے اطراف لپٹی چادر کھینچ کر اسکے سر پر ڈال دی اسکی حوصلہ بخش ندا سناٹے کا سینہ چاک کرگئی۔

اردو افسانہ سیف الایمان

“بسم اللہ کہہ کر راہِ ایمان پر گامزن ہوجاؤ؟۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ آپکو ایک اور موقع عطا کر رہے ہیں، غنیمت جانیں۔۔۔۔۔! اس لڑکی کی بھیگی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک لہراہ گئی، جیسے بارش کے بعد بھیگی دھوپ نکل آئی ہو!!! ایک لمحہ! بس وہ لپک کر اس فرشتے کا ہاتھ تھام لی جیسے سیف اللہ کوتھام لیا اور اسکے نقش پا ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔!!! وہ خوش نصیب لڑکی کوئی اور نہیں” “میں ذکیہ خانم ہوں۔۔۔!!!” اس انکشاف پر مجموعہ پر گویا سانپ سونگھ گیا۔ وہ فرشتہ صفت انسان آج میرے شوہر ہیں۔۔۔۔۔!!! میرا رب مجھ گناہ گار پر مہربان ہوا، دین کی دولت سے نوازہ، ایمان کی روشنی سے سرفراز کیا، یہ اس رب کا احسانِ عظیم ہے۔

آج میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ اسلام کے لئے خرچ کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔! “یاد رکھئے ہر لڑکی ذکیہ خانم جیسی خوش نصیب نہیں ہوسکتی۔۔۔!!! کئی ایک بدنصیب آج بھی ان تنظیموں کے ظلم کا شکار کسی مندر کی گھنٹی بجا رہے ہیں توکہیں کسی چرچ میں صلیب کے آگےدوزانو بیٹھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *