آج کی شخصیت جناب سحرؔ انصاری صاحب

آج کی شخصیت جناب سحرؔ انصاری صاحب

انتخاب: مہر خان

کیسی کیسی محفلیں سُونی ہوئیں
پھر بھی دنیا کس قدر آباد ہے”

پروفیسر سحرؔ انصاری کااصلی نام ’انور مقبول انصاری‘ ہے۔ سحرؔ تخلص استعمال کرتے ہیں، اپنے نام اور تخلص کے حوالے سے انکا کہنا ہے کہ’ ’میٹرک کے سرٹیفیکیٹ او ر بعد کی تعلیمی اسناد میں میرا نام انور مقبول انصاری ہے۔ اسکول ہی کے زمانے میں شعر گوئی کی طرف رجحان ہوگیا تو ایک عدد تخلص سَحَرؔ انصاری رکھ لیا۔ اب یہ اس قدر معروف ہوگیا کہ میں خود اپنے اصل نام کے لیےاجنبی ہوگیا ہوں۔ انکا خاندانی سلسلہ نسب حضرت ایوب انصاری سے جا ملتا ہے اس لیے انصاری ٹہرے۔ انصاری صاحب کے خاندان میں بعض بڑی ادبی شخصیات کے نام ملتے ہیں ان میں مولانا اسمعیل میرٹھی کا نام قابل ذکر ہے۔ ان کے والد کے بزرگوں کا تعلق مرادآباد سے جب کہ ان کی والدہ کے بزرگ میرٹھ سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا آبائی وطن مراد آباد ہے، انہوں نے ہندوستان کے شہر’ اورنگ آباد ‘ دکن میں 27 دسمبر1941 ء کوآنکھ کھولی۔ انکے نانا معروف شاعر مولوی سمیع الزماں سرابؔ میرٹھی‘ اسمٰعیل میرٹھی کے شاگرد رہ چکے تھے۔

شعر و ادب کاذوق انہیں ورثہ میں ملالیکن وہ ایک فطری شاعر ہیں گویا شاعری کا وصفِ لطیف انہیں مالک حقیقی کی جانب سے عطا کیا گیا۔ سحرؔ انصاری نے جالبؔ مرادآبادی کے شاگرد ہیں جو جگرؔ مرادآبادی کے معاصر ہیں۔ سحرؔ انصاری نے پہلا مضمون ’’میرؔ اور فانیؔ کا غم‘ ‘ کے عنوان سے لکھا اس وقت سحرؔ صاحب نویں جماعت کے طالب علم تھے۔ ادب، شعر و شاعری کے ساتھ ساتھ آرٹ سے بھی دلچسپی تھی۔ اس شعبہ میں بھی کام کیا۔سحرؔ انصاری کی شاعری محض انسانی عمل نہیں بلکہ اس میں ان کے اندر موجود شاعر کی آواز محسوس ہوتی ہے۔ ان کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں

ابھی تو زندگی کو ریزہ ریزہ چن رہا ہوں میں
ابھی سے یہ شکست کا سوال کیسے آگیا

ابتدائی تعلیم اورنگ آباد میں ہی حاصل کی۔ 1950ء میں والدین کے ہمراہ پاکستا ن ہجرت کی اور کراچی کے مکین ہوئے۔ ناظم آباد میں رہائش اختیار کی، ۔جامعہ کراچی سے تین ایم اے کیے ایک انگریزی میں، دوسرا اردوادب میں اور تیسرا لسانیات میں کیا۔

ہنستے چہرے بھی دھوکا ہیں، روتی آنکھیں بھی ہیں فریب
لوگ نہ جانے دل میں کیا کیا بھید چھپائے پھرتے ہیں

سحر ؔ انصاری نے 1973ء میں جامعہ بلوچستان کے شعبہ اردو سے درس و تدریس کا آغاز کیا۔ دوسرے ہی سال یعنی 1974ء میں وہ جامعہ کراچی کے شعبہ اردو میں آگئے اور پھر اسی شعبہ کے ہوکر رہ گئے۔ جامعہ کراچی میں ان کی خدمات کا دائرہ وسیع ہے۔ وہ کئی سال صدر شعبہ رہے۔ اردو ڈکشنری بورڈ میں ایڈیٹر و سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ چین اور جاپان میں بھی درس و تدریس سے وابستہ رہے۔

ہفت روزہ ’نئی جمہوریت ‘ کے مدیر بھی رہے، کئی سال سے آرٹس کونسل کی ادبی کمیٹی کے سربراہ اور دیگر عہدوں سے وابستہ ہیں۔ ادارہ یاد گار غالب ؔ اور غالبؔ لائبریری کی ترقی اور فروغ میں اپنا حصہ ڈال چکے ہیں۔ شاعر کی حیثیت سے دنیا کے بے شمار ممالک میں پاکستان کی نمایندگی کرچکے ہیں۔ اردو سے تعلق اور انسیت رکھنے والا شاید ہی کوئی ادیب و شاعر ایسا ہوگا جو سحر ؔ انصاری کے نام سے واقف نہ ہو۔ کراچی کے باسی تو ان سے خوب خوب متعارف ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے پروفیسر سحر انصاری کو ان کی علمی و ادبی خدمات پر ’’ستارہ امتیاز ‘‘ سے نوازا گیا۔ اس سے قبل 2005 ء میں انہیں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے ۔ سحرؔ انصاری کا کہنا ہے کہ وہ سفارش کے قائل نہیں انہوں کبھی اپنے لیے یا اپنے بچوں کے لیے کبھی کسی سے کسی بھی قسم کی سفارش نہیں کرائی۔ وہ اس عمل کواچھا نہیں سمجھتے۔ انہیں جو کچھ ملا ہے وہ خدا کی دین ہے۔ ان کے مجموعہ کلا م ’خدا سے بات کرتے ہیں ‘ میں شامل ایک شعر ان کے اس خیال کی عکاسی کرتا ہے

فصیلِ شہر میں پیدا کیا ہے در میں نے
کسی بھی بابِ رعایت سے میں نہیں آیا

پروفیسرسحرؔ انصاری کی شخصیت مختلف پہلو لیے ہوئے ہے ۔ وہ شاعر بہت اچھے ہیں، نثر نگار ی بھی ان کی خوب تر ہے، نقاد ہیں ، خوش گُلو وخوش اِلحان ہیں، خوش وضع و خوش قطع ہیں، شیریں زبان و شیریں کلام بھی۔ خوش طرز و خوش اِقبال بھی ہیں یہی وجہ ہے کہ انہیں ایک تمغے کے بعد دوسرے تمغے سے حکومت نے نوازا۔ان کے شخصیت کے ظاہری خد وخال یا ان کا حلیہ بیان کیا جائے تو کچھ اس طرح کی صورتِ حال ابھر کر سامنے آتی ہے۔ گندمی رنگ، دراز قد ، فربہ جسم، اب کچھ کمر جھک کئی گئی ہے، موٹی کٹورہ آنکھیں جن میں سوجھ بوجھ کی چمک ، کھڑے نقش، سنجیدہ طرز گفتگو، دل میں اتر جانے والی مسکراہٹ، سبک رفتار، ستواں ناک جس کے نیچے قینچی استرے کی دسترس سے محفوظ سپاٹ میدان یعنی کلین شیو، ان کی شخصیت کی ایک انفرادیت اور پہچان ان کی زلفوں کا دراز ہونا ہے، مخصوص روایتی لباس کالی شیروانی اور علی گڑھ پیجامہ ہے ۔ سحرؔ صاحب کے قبیلے کے ایک شاعرریاض ؔ انصاری جیوری نے زلفوں کے حوالے سے خوبصور شعر کہا ہے

آپ گھبرائیں نہ زلفوں کی پریشانی سے
یہ سنور جاتی ہیں کچھ اور پریشاں ہوکر

پروفیسر سحر انصاری صورت شکل، وضع قطع، چہرے مہرے سب سے شرافت، تحمل، وضع داری، معصومیت اور شاعر ہونے کا خوشگوار اظہار نمایاں نظر آتا ہے۔ اپنی وضع قطع کے حوالے سے سحر ؔ انصاری کا یہ خوبصورت شعر دیکھئے

یہی ہے وضع ہماری یہی ہماری شناخت
کبھی سنا ہے پرندوں کو پَر بدلتے ہوئے

معروف ادیب مشفق خواجہ مرحوم نے اپنے ایک ادبی کالم میں سحرؔ صاحب کو ’’شہرِ انصاری‘‘ کہ کا پکارا تھا۔ انکے ملنے والوں کا ایک وسیع حلقہ ہے۔ سحرؔ انصاری نے اس موضوع پر کیا خوب شعر کہا

سحرؔ اک دوسرے سے اس طرح ملتے ہیں ہم اکثر
ہمارے درمیاں تقدیر تک آنے نہیں پاتی

ادبی محفلوں کو سجانے کی بات اپنے اس شعر میں حسین انداز سے کہی

اپنے خوں سے جو ہم شمع جلائے ہوئے ہیں
شب پرستوں پہ قیامت بھی تو ڈھائے ہوئے ہیں

سحر ؔ انصاری کے شعری مجموعے اب تک دو ہی سامنے آئے ایک ’نمود‘ کے عنوان سے دوسرا ’خدا سے بات کرتے ہیں‘ کے عنوان سے شایع ، پہلے اور دوسرے مجموعے کا دورانیہ تیس برس پر محیط تھا، اب دوسرے مجموعہ کو منظر عام پر آئے پانچ برس ہوچکے ہیں۔ ’’نمود‘‘ سحر ؔ انصاری کا پہلا مجموعہ کلام ہے جوادبستان جدید نے 1976ء میں شایع کیا۔ سحر ؔ انصاری کا دوسرا مجموعہ کلام’خدا سے بات کرتے ہیں‘2010ء میں اکادمی بازیافت نے شائع کیا۔اس میں نظمیں بھی ہیں غزلیں بھی، سحر ؔ نے نظری نظمیں بھی کہیں متعدد اس مجموعہ میں شامل ہیں۔ آخر میں پروفیسرسحرؔ انصاری کے مجموعوں ’خدا سے بات کرتے ہیں‘ اور ’نمود‘ سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *