Sadaf Faridi Introduction And Ghazals

Sadaf Faridi Introduction And Ghazals

صدف فریدی صاحب کا تعارف اور کلام

تعارف
صدف فریدی صاحب بہت اچھے شاعر ہیں۔ آپکا تعلق کراچی پاکستان سے ہے۔ صدف فریدی صاحب نے ڈپلومہ اِن آرکیٹکچر، ڈِپلومہ اِن اِنٹیریر ڈیزایئنگ سان فرانسِسکو (یو ایس اے) اور بی ٹیک آنرز (سِوِل) نا مُکمل پرسٹن یونیورسیٹی اِسلام آباد سے کیا۔ آپ ریاض کے ایک مُقامی اِنجنیئنرنگ فرم میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

صدف فریدی صاحب نے اپنے ادبی سفر کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا اور جو ابھی تک جاری ہے، صدف فریدی صاحب کہتے ہیں نثر کے لئے قلم اُٹھانا کوئی نشہ ہے، غزل اور نظم کہنا‘ کوئی طلِسم…… کہتے ہیں‘ ہر تخلیق اوراظہارکوئی جُرأت ہے کوئی کتاب اب تک ترتیب نہیں دے سکا کیونکہ وہ جُرأت فی الحال مفقود ہے۔

آئیں صدف فریدی صاحب کومزید انکے کلام کے ذریعے جانتے ہیں۔

Sadaf Faridi Introduction And Ghazals

پھول کے مہکنے کا، تِتلیوں کے آنے کا، ایک وقت ہوتا ہے
آنکھ کے دریچے میں، خواب کو سجانے کا ایک وقت ہوتا ہے

روشنی کا گم ہونا، جبر کے اندھیروں میں، ایک رسمِ کُہنہ ہے
صُبحِ نو کے آنے کا، تیرگی کے جانے کا، ایک وقت ہوتا ہے

جبر کے سمندر میں، بادباں کے ہاتھوں میں، ہیں علم صلیبوں کے
ظُلم و جبر سہنے کا، کشتیاں جلانے کا، ایک وقت ہوتا ہے

اب جو سُکھ نہیں حاصل ، تُم اُداس مت ہونا، دُکھ بھی بیت جائیگا
زرد رُت کے جانے کا ، فصلِ گُل کے آنے کا ، ایک وقت ہوتا ہے

اب نہ کوئی بازیگر ، اور نہیں تماشائی ، کھیل ختم ہے سارا
پُتلیاں نچانے کا ، تالیاں بجانے کا ، ایک وقت ہوتا ہے

کوئی اب لبِ دجلہ ، عُمر بھر رہے پیاسا ، اِس سے کچھ نہیں حاصل
تشنگی میں جینے کا ، جسم و جاں لُٹانے کا ، ایک وقت ہوتا ہے

مصلحت کے سائے میں ، تھک کے بیٹھ جانے سے ، منزلیں نہیں ملتیں
آسماں کو چھونے کا ، فاصلہ مِٹانے کا ، ایک وقت ہوتا ہے

Sadaf Faridi Introduction And Ghazals

اشکِ غم سے کوئی نِسبت ہے مُجھے
دلِ پامال سے اُلفت ہے مُجھے

آ گلے لگ کہ بہا لیں آنسو
اے مرے غم ، ابھی فُرصت ہے مجھے

میں کہ تقسیم رہا لوگوں میں
آج خود اپنی ضرورت ہے مجھے

میں ہوں اُترا ہُوا دِل سے تیرے
تجھ سے بس اتنی سی نِسبت ہے مجھے

تجھ کو دیکھا ہے تیری ہار کے بعد
جیت پر اپنی ندامت ہے مجھے

میں بھی قانون بنا سکتا ہوں
سارے جنگل کی حمایت ہے مجھے

میں گِرہ کھول بھی سکتا ہوں صدف
اپنے ناخُن کی اجازت ہے مجھے
صدف فریدی

1 comment on “Sadaf Faridi Introduction And Ghazals

  1. rida

    takkyul ki oonchi perwaiz……or ilfaaz ka khubsurt tasulsul…..taza hawa k jhonky kiitrh….rooh ko mehkati howi….zehn k derchay khotli howi…such h qalam mn bht takat h…or inqalb ka basee b yhi h….Allah mazeed nawazy apko…ameen.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *