Urdu Afsana Shangal Episode 4 By Qaisar Hameed Ronjho

Urdu Afsana Shangal Episode 4

(اردو افسانہ شانگل (چوتھی قسط

تحریر: قیصر حمید رونجھو

باباجی بالاچ کی پیٹھ تھپک تھپک تسلی دے رہے تھے۔ بالاچ جلد سنبھل گیا اور باباجی اسے گاڑی تک لے آۓ بالاچ ایک بار پھر باباجی کے گلے لگ کر جدا ہوا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔ باباجی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے لگے تو بالاچ نے گاڑی آگے بڑھا دی اور اب جلد سے جلد یہاں سے دور نکلنا چاہتا تھا کیونکہ شانگل کی محبت اسکے پاؤں کی بیڑیوں کو کس کر اسے رکنے پرمجبورکر رہی تھیں۔

صعوبیدار سویرے اٹھا اور آگے کو روانہ ہوا پہاڑوں کے بیچ سڑک کے آس پاس آبادی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے رک رک اس جگہ کا جائزہ لیتا رہا کہ کوئی سراغ ملے لیکن ابھی تک کوئی سراغ ہاتھ نہ آیا۔ ایک جگہ سامان سے لدے ہوئے گدھے اورانکے ساتھ 3 لوگ نظر آئے صعوبیدار نے ان سے کچھ معلومات لیں اورچلتا رہا۔ اب دوپہر ہوچکی تھی انکا ارادہ تھا کہ تھوڑی دیررک کرکھانے پینے کا بندوبست کریں گے۔

Urdu Afsana Shangal Episode 4

وہ سڑک کے کنارے رک گئے صعوبیدار وہیں گاڑی کے ساتھ کھڑا رہا جبکہ باقی لوگ سامان نکال کھانے کا بندوبست کرنے لگے اچانک صعوبیدار کو گاڑی کی آواز سنائی دی وہ چونکنا ہوکر چاروں طرف دیکھنے لگا۔ گاڑی کی آواز قریب آتی جارہی تھی۔ گاڑی پر نظر پڑتے ہی صعوبیدار اچھل پڑا اس نے پہچان لیا کہ یہ سردار روئیداد خان کی گاڑی تھی _ اور چھوٹا سردار بالاچ خان گاڑی میں تھا۔

صعوبیدار سڑک کے بیچ کھڑا ہوکر گاڑی کو روکنے کا اشارہ کرنے لگا گاڑی کی رفتار کم ہوتے ہوتے صعوبیدار کے سامنے رک گئی۔ صعوبیدار دوڑ کر بالاچ کے پاس پہنچا۔ چھوٹے سائیں! آپ کہاں سے آرہے ہو؟ بالاچ بھی صعوبیدار کو پہچانتا تھا کیونکہ وہ اکثر ڈیرے پر آتا رہتا تھا۔ وہ میں گھومنے نکلا اب واپس جارہا ہوں اورتم کیسے آئے بالاچ نے صعوبیدار سے پوچھا ! چھوٹے سائیں میں کام سے ادھرآیا تھا۔ کھانے پینے کیلیۓ رکے ہیں۔ آپ بھی آجاؤ کھانا کھالیں تو ساتھ چلتے ہیں۔

صعوبیدارکا کام ہوچکا تھا اس لیۓ کھانا کھا کرواپسی کا سفرشروع ہوا صعوبیدار بالاچ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا اور اسکے آدمی پیچھے آرہے تھے۔ راستے میں ایک دو جگہ تھوڑی دیر رکے اور رات کو سون پور پہنچ گئے۔ اب انکا رخ سردار روئیداد خان کے ڈیرے کی طرف تھا۔ گاڑیاں جب ڈیرے کے اندر پہنچی تو اندر سے سردارروئیداد خان باہر آرہا تھا اوراسکے پیچھے محافظ اورنوکر تھے۔ صعوبیدار اوربالاچ گاڑی سے اتر کر روئیداد خان کی سمت بڑھ گئے۔

روئیداد خان پرنظر پڑی تو ہکا بکارہ گئے وہ رعب اوردبدبہ جو اسکی شخصیت کا حصہ تھا خاک ہوچکا تھا۔ برسوں کا مریض نظر آرہا تھا۔ بالاچ کو دیکھ کر دوڑکراپنے سینے سے لگا لیا اور دیوانہ واراسے چوم رہا تھا۔ کل سے جو خدشے اور وسوسے سرابھاررہے تھے وہ سب غلط ثابت ہوئے تھے۔ بالاچ اکلوتا بیٹا تھا اسکا اگر اسے کچھ ہوجاتا تو روئیداد خان کا نام و نشان صحفۂ ہستی سے مٹ جاتا۔ بیٹا کہاں چلا گیا تھا تو اوربتایا بھی نہیں، میں تیرے لیۓ کتنا پریشان رہا ہوں۔

Urdu Afsana Shangal Episode 4

بابا سائیں! معاف کرنا میرا ارادہ جلد واپس آنے کا تھا اس لیۓ کچھ بتایا نہیں لیکن میں دورکل گیا اس لیے دو دن لگ گئے۔ پر تو گیا کہاں تھا اوردو دن کس کے پاس تھا۔ سردارروئیداد خان بیٹے سے مخاطب ہوا۔ بابا سائیں! میں کوئی عام نہیں سردار روئیداد خان کا بیٹا ہوں۔ جہاں جاتا ہوں لوگ قدموں میں بچھ جاتے ہیں۔ تو میرے لیۓ کہیں بھی رہنا مشکل نہیں۔ ہاں بیٹا تمھاری بات ٹھیک ہے ہماری قوم اورقبیلے والے ہماری عزت کرتے ہیں۔

پیرو! سردار روئیداد خان نے اپنے خاص محافظ کو آواز دی۔ جی بابا سائیں!حکم! پیروہاتھ باندھ کرسرجھکاۓ آگے آیا صوبیدار اوراسکے ساتھیوں کو کھانا کھلاؤ وہ تھک گئے ہونگے۔ جی بابا سائیں! پیرونے صعوبیدار کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ صعوبیدارجاؤ کھانا کھا کرآرام کرو صبح ملاقات ہوگی۔ جو حکم سائیں! صعوبیدار اوراسکے ساتھی سردار روئیداد خان کے سامنے جھک گئے۔ بیٹا حویلی چلتے ہیں۔ سردار روئیداد خان بالاچ سے مخاطب ہوا۔ جی بابا سائیں!

بالاچ سردار روئیداد خان کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ حویلی کی طرف جاتے ہوئے روئیداد خان بالاچ سے مخاطب ہوا! بیٹا تم نے بتایا نہیں کہاں اورکس کے پاس تھے؟؟ بابا سائیں میں آپکے دوست کے پاس ٹھہرا تھا اس نے خوب خاطرمدارت کی۔ زبردستی اپنے پاس روکا مجھے۔ اور آج بھی اس وعدے کے ساتھ اجازت دی کہ جلدی آپ کے ساتھ چکر لگاؤں۔ اچھا واہ کیا نام تھا میرے دوست کا۔ بابا سائیں! اسکا نام ٹکری شاہ مراد ہے وہ شم میں رہتا ہے۔ سردار روئیداد خان کو ایک جھٹکا لگا بے اختیار اسکے پاؤں بریک کو دباتے چلے گئے۔

تت تم شاہ مراد کے پاس ٹھہرے ہوۓ تھے؟ سردارروئیداد خان بالاچ سے مخاطب ہوۓ۔ جی بابا سائیں! اوراس نے کافی خاطر مدارت کی میری۔ اسے بتایا تھا کہ تم سردار روئیداد خان کے بیٹے ہو! جی بابا سائیں! بتایا تھا تبھی تو اس نے اتنی خاطر مدارت کی اوروہ آپکو بہت یاد کر رہے تھے۔ ٹھیک پر مجھے کیوں یاد کر رہے تھے؟؟ بابا سائیں! آپکے تو دوست ہیں نہ اس لیۓ تو یاد کررہے تھے اورآپکے نہ آنے کا شکوہ کر رہے تھے۔ ٹھیک ہے سردار روئیداد خان چپ ہوگیا۔

بابا سائیں! پھر کب چلیں میں چاچا شاہ مراد سے وعدہ کرکے آیا ہوں کہ جلد بابا سائیں کو اپنے ساتھ لاؤں گا۔ سردار روئیداد خان سر جھکاۓ بیٹھے تھے اس کے ہونٹوں پر چپ کا قفل لگ چکا تھا۔ بالاچ نے پھر کہنا شروع کیا! بابا سائیں میری چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے چکر لگا کرآئیں گے ورنہ چاچا شاہ مراد کیا سوچیں گے کہ سردار روئیداد خان کے بیٹے نے وعدہ خلافی کی۔ بالاچ! سردار روئیداد خان کی آواز گونجی تم دوبارہ وہاں نہیں جاؤ گے۔ بابا سائیں پر کیوں؟؟

Urdu Afsana Shangal Episode 4

میں نے کہا نہ تم اب وہاں نہیں جاؤ گے یہ میرا فیصلہ ہے۔ سردار روئیداد خان نے بالاچ کو جواب دیا۔ پر بابا سائیں میں وعدہ کرکے آیا ہوں میں ضرور جاؤں گا بلکہ آپ کو ساتھ لے کر جاؤں گا۔ بالاچ نے اٹل لہجے میں جواب دیا بالاچ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو سردارروئیداد خان کے ساتھ اس طرح کی گستاخی کرنے پراب تک اسکی زبان کو ہمیشہ کیلیۓ چپ لگ چکی ہوتی لیکن بالاچ اسکا بیٹا تھا اوراکلوتا بیٹا جس میں سردار روئیداد خان کی جان تھی۔

دو دن کی جدائی نے برسوں کا مرض لاحق کر دیا تھا اب تک بالاچ کی تمام جائز اورناجائز ضدیں پوری کرتا چلا آیا تھا لیکن پہلی باروہ اسکی خواہش کو رد کر رہا تھا۔ وہ ابھی تک اس بات پرحیران تھا کہ بالاچ شاہ مراد کے پاس سے زندہ واپس کیسے لوٹ آیا جبکہ ان لوگوں کو بتایا بھی کہ وہ سردار روئیداد خان کا بیٹا ہے۔ وہ اسکے دشمنوں کے ہاتھوں زندہ سلامت لوٹ آنے پرشکرادا کررہا تھا کہ بالاچ دوبارہ وہاں جانے کی ضد کررہا تھا۔ اوروہ مطمن تھا کہ بالاچ ابھی تک اس کی کارستانی سے بے خبر ہے۔

شاید شاہ مراد والوں نے مجھے معاف کردیا ہے تبھی تو اس نے خود کو میرا دوست بتایا اور بالاچ کی اتنی خدمت کی۔ ادھر بالاچ کا دماغ تیزی سے سوچ رہا تھا جبکہ سردارچاکر خان اس سے بے خبر تھا۔ حویلی میں پہنچے تو اماں سائیں اپنے اکلوتے بیٹے کی گمشدگی میں ہلکان ہورہی تھی۔ بالاچ کو صحیع سلامت اپنے سامنے دیکھ کر اسکا سر سجدے میں گر گیا۔ بالاچ صبح نیند سے بیدار ہوا ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہو کر ڈیرے پرپہنچا سردار روئیداد خان بیٹھا تھا۔ یہ انکا معمول تھا وہ لوگوں کے مسائل سنتا اور حل کرتا۔

بالاچ تھوڑی دیر بیٹھ کر زمینوں کی طرف نکل گیا۔ اسے شانگل کی یاد آرہی تھی۔ اوراسکے ساتھ ساتھ یہ خوف ستا رہا تھا کہ اگر شانگل کوپتہ چلا کہ وہ سردار روئیداد خان کا بیٹا ہے تو کیا سوچے گی کیونکہ اسکے باپ کے لچھنوں کی وجہ وہاں سب لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں اورانکے خون کے پیاسے تھے۔ سردار روئیداد خان کو پتہ چل چکا تھا کہ وہ ٹکری شاہ مراد کے پاس تھا اس لیۓ اسے واپس ادھر جانے کی اجازت ہرگز نہیں ملنے والی تھی۔

دوپہر کو واپس ڈیرے پر پہنچ گیا اس وقت سردار روئیداد خان بھی آرام کرتا تھا۔ بالاچ نے ڈیرے پرہی کھانا کھایا اورسردار روئیداد خان کے پاس چلا آیا۔ بالاچ کو دیکھ کر سردار روئیداد خان اٹھ کر بیٹھ گیا۔ آؤ بیٹا بیٹھو مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ جی بابا سائیں حکم کریں! بالاچ روئیداد خان کے پاس بیٹھ گیا۔ بیٹا میں نے سوچا ہے تمھیں خراسان بھیج دوں وہاں پر تمھاری اچھی تعلیم ہوگی۔

Urdu Afsana Shangal Episode 4

سردار روئیداد خان کی بات سن کر بالاچ کے ہوش اڑ گئے اور اسے یہ بات سمجھنے میں دیر نہ لگی یہ سب اسے ٹکری شاہ مراد سے دور رکھنے کا بہانہ ہے۔ بابا سائیں! آپکا حکم سر آنکھوں پر لیکن میں اتنی دور کیسے رہ سکوں گا۔ پھر وہاں پرمیرا کوئی اپنا بھی تو نہیں ہے۔ تم فکر نہ کرو بیٹا میں اسکا انتظام کر دوں گا۔ سردار روئیداد خان نے جواب دیا۔ بالاچ یہ بات اچھی طرح سے جانتا تھا خراسان بھیجنا سردار روئیداد خان کیلیۓ کوئی مشکل کام نہیں لیکن اسے یہ توقع نہ تھی سردار روئیداد خان ٹکری شاہ مراد کے خوف کی وجہ سے یہ اقدام اٹھاۓ گا۔

اسے خراسان جانے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی اگر شانگل سے جلد واپسی کا وعدہ نہ کیا ہوتا۔ اتنی دور کسی بھی صورت جانے کو تیار نہ تھا۔ کیونکہ اگر اسے واپسی میں دیر ہوجاتی تو شانگل کی نظر میں وہ بیوفا بن جاتا، جو کہ کسی صورت اسے قبول نہیں تھا۔ بالاچ نے سوچا اب فیصلہ کرنے کی گھڑی آگئی ہے۔ بابا سائیں! میں سوچ کرآپکو جواب دوں گا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *