رؤف خلشؔ صاحب کے خوبصورت کلام میں سے منتخب اشعار

رؤف خلشؔ صاحب کے خوبصورت کلام میں سے منتخب اشعار

انتخاب: عثمان عاطسؔ

ہوا سے لڑنے میں ہم ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں
مگر فضا کو نئی دستکیں سناتے ہیں

غم کی دھوپ اترتے ہی کیوں پگھلنے لگتی ہے
یاد کے گھروندے میں موم کی بنی کھڑکی

زخموں کو پھول کردے ، تنہائیوں کو مرہم
سو قربتوں پہ بھاری ہجرت کا ایک موسم

چھپنے کو شہر ذات بچا تھا مرے لئے
اس شہر میں بھی چاروں طرف آئینے لگے

تیری گفتار خلشؔ اور قرینہ مانگے
بول میٹھے سہی لہجے میں ذرا تلخی ہے

چاہ کرتے ہیں تو کیا لوگ وفا کرتے ہیں
تم کہو شہر کی اب آب و ہوا کیسی ہے

بچھڑے ہوؤں کی یاد منانے میں لگ گئے
کیوں دل ہمارے پچھلے زمانے میں لگ گئے

اتنے اُڑے کہ دور اڑالے گئی ہوا
اتنے جھکے کہ سانس انا کی اکھڑ گئی

کہیں ہجوم میں تنہائی مل گئی تھی مجھے
میں رودیا تری یادوں سے گفتگو کر کے

اُترو خود اپنی ذات کی گہرائی میں خلشؔ
اُبھرے جو اپنے آپ کو پانے کی آرزو

جذب کر کے رکھ لینا دستکیں ہتھیلی میں
جب سے میں سفر میں ہوں ہم سفر ہیں دروازے

اک جنگ تھی وہ گرمئی گفتار نہیں تھی
دونوں کی انا مٹنے کو تیار نہیں تھی

دھنک کے رنگ ، سلگتے بدن ، جواں خوشبو
یہ کیسے خواب میری نیند سے چرائے چاند

نظم: نیا مفہوم

درد، مروت، رشتے ناطے
بچپن میں ان لفظوں کے کچھ معنی تھے
جیسے جیسے دن بیتے
ان لفظوں کے معنی بدلے
اب یہ دنیا عمر کی جس منزل میں ہے
لگتا ہے یہ سارے الفاظ
اندھے ہوکر
اپنے آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں

رؤف خلشؔ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *