Quran Shareef Ke Tarajim Episode 3 By Dr Bi Mohammad Davood Muhsin

Quran Shareef Ke Tarajim

پہلی قسط اور دوسری قسط کے لئے یہاں پر کلک کریں

ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن صاحب کے تحقیقی مضمون قرآن شریف کے تراجم کی تیسری قسط پیش خدمت ہے

قران مجید کی تفسیروں کے نثری ترجموں کے ساتھ ساتھ منظوم ترجمے بھی ہوئے ایک دلچسپ منظوم تفسیری ترجمہ عبدالسلام نے کیاجو ’’تفسیر زار الآخرت ‘‘کے نام سے مشہور ہوئی جس میں 1761ء صفحات ہیں ۔اس کے علاوہ قرآن مجید کی بہت سی سورتوں کی تفسیریں علاحدہ کتابی صورتوں میں بھی منظر عام پر آئیں ۔مختلف شعراء نے قرآن کے منظوم ترجمے اور تفسیریں نظم کرنے کی کوششیں کیں۔مگر اسے اچھی نظروں سے نہیں دیکھا گیا۔سیماب اکبر آبادی نے قرآن مجید کے ترجمے کو نظم کرنا چاہا تو علما نے اسے تحریف قرار دے کر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
یہی صورت حال دسویں صدی ہجری میں بھی تھی جب شیخ بدرالدین محمد بن رضی الدین الغزی دمشقی نے عربی میں منظوم قرآن کی سب سے پہلی تفسیر لکھی۔ جس میں ایک لاکھ اشعار تھے ۔ شیخ ابومحمد عبدالوہاب بن شافعی کی تفسیر ’’تفسیرالشیرازی‘‘ فارسی زبان کی پہلی منظوم تفسیر ہے۔ جس میں تقریباً ایک لاکھ اشعار ہیں ۔اردو میں قدیم ترین منظوم تفسیر شیخ بہاالدین باجن (ولادت۷۹۰ھ) کی ہے جو مکمل نہیں بلکہ جزئی اور قدیم ترین زبان یعنی اردوگجری میں ہے۔ان کے علاوہ کئی پاروں اور آیتوں کے ترجمے الگ کتابی صورت میں کثیر تعداد میں شائع ہوئے ہیں ۔ جن میں مکتبہ الحسنات رامپور نے چو بیسویں اور تیسویں پارے کا آسان فہم ترجمہ کرکے کتابی صورت میں شائع کیا ہے جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ۔

Quran Shareef Ke Tarajim

مولانا ابوالعلیٰ مودودی کی تیسویں پارے کی تفسیر و ترجمہ کو بھی علیحدہ کتابی صورت میں ایک خاص اشاعتی پروگرام کے تحت مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی نے شائع کیا ہے۔ تاج کمپنی لاہور کو قرآنی اشاعت کے لئے سب سے بڑا فخر حاصل ہے۔ ہندوستان میں اشاعت دینیات حضرت نظام الدین دہلی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ بعض غیر مسلم ناشرین نے بھی تجارتی نقطۂ نظر سے قرآن شریف کی اشاعت کی ہے۔لہٰذاا قرآن شریف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی اور شائع ہونے والی دنیا میں واحد کتاب ہے۔انسائکلو پیڈیا برٹانیکا میں یہ لکھا گیا ہے کہ: ’’دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی اور چھپنے والی کتاب قرآن ہے۔‘‘

قرآن شریف کے سلسلے میں مترجم کو کافی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت کا مقابلہ دنیاکی کوئی زبان نہیں کرسکتی۔ یہ قرآن مجید کا معجزہ ہے کہ نہ تو اس کے الفاظ کی کوئی نقل اتار سکتا ہے اور نہ ہی معنی کی۔ قرآن مجید نے کھلے الفاظ میں فصحائے عرب کو مقابلے کی دعوت دی تھی تاکہ وہ اس کے اسلوب و انداز کی مثالیں پیش کریں ۔قرآن نے صاف اور کھلے عام اعلان ہی نہیں بلکہ چیلینج کیا کہ : ’’فاتو ! بسورۃ من مثلہِ ’’تم لوگ لاؤ اس سورت کی مثال‘‘ (پارہ ۱۰ع ۔۳) اس زمانے میں ہی کیا کسی بھی زمانے میں اس کا جواب ممکن نہیں ہوسکا اس لئے کہ یہ کلام انسانی نہیں کلام الٰہی ہے۔

Quran Shareef Ke Tarajim

مگر دنیا بھر کی زبانوں میں قرآن مجید کے ترجمے ہوتے رہے ۔مترجمین نے بڑی تگ و دو اور جانفشانی سے ترجمے کئے اور قرآن فہمی کے لئے راہیں ہموار کیں۔ قرآن مجید کا ترجمہ کرنے کے لئے مترجم کو عربی اور ترجمہ کی زبان پر مکمل عبور ہونا چاہئے ۔ قرآنی علوم و اصطلاحات سے واقفیت ہونی چاہئے ۔اس کے اصول و ضوابط اور بلاغت و بیان پر دسترس ہونی چاہئے ۔قرآن مجید قدرت کا ایک ایسا فصیح و بلیغ ادب پارہ ہے جس کے مشتقات اور اصطلاحات دنیا کی دیگر زبانوں کے مقابلے میں طور پر مختلف ہیں۔ ان کے ترجمے کے وقت مترجم کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مترجم کو عربی لغت و ادب کے ترجمہ کاصحیح ذوق ہونا چاہئے ۔قرآن شریف کے مفہوم کو زبانی بیان کرنا الگ بات ہے اور ذاتی تجربہ کی بنیاد پر اسے قلمبند کرنا بڑادشوار کن امر ہے۔ ترجمہ اور تفسیروں پر اظہار خیال کرنا الگ ہے اور ترجمہ کرنا الگ ۔ساحل پرکھڑے ہوکر موج دریا کے بارے میں کہنا آسان ہے مگر جب اس بحر طلاطم میں غوطے کھانے والا شخص اپنا تجربہ بیان کرتا ہے تو اس میں صداقت ہوتی ہے ۔جو ترجمے عربی سے اردو میں ہوئے ان کے باب میں مولانا ابوالکلام آزاد اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ قرآن کی صحت فہم کے لئے عربی لغت وادب کا صحیح ذوق شرط اول ہے۔

Quran Shareef Ke Tarajim

لیکن مختلف اسباب سے ان کی تشریح محتاج تفصیل ہے ۔یہ ذوق کمزور پڑتا گیا یہاں تک کہ وہ وقت آگیاجب مطالب میں بے شمار الجھاؤ محض اس لئے پڑگئے کہ عربیت کا ذوق سلیم باقی نہیں رہا اور جس زبان میں قرآن نازل ہوا تھااس کے محاورات و مدلولات سے یک قلم بُعد ہوگیا۔‘‘ (دیباچہ ترجمان القرآن مولانا ابوالکلام آزاد صفحہ ۴۱۔۴۲) قرآن مجید جیسی عظیم فصیح و بلیغ کتاب کا ترجمہ بڑی ذمہ داری کاکام ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے مرکزی خیال سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مترجم کو قرآن کے فصیح عربی زبان پر مکمل عبور ہونا ضروری ہے۔

قرآن شریف کے ترجمہ کے لئے لفظی ترجمہ سے زیادہ تفسیری ترجمہ بہترتصور کیا جاتا ہے یہاں تفسیری ترجمہ کا مطلب کلام پاک کا مفہوم دوسری زبانوں میں واضح طور پر بیان کرنا ہے ۔ ایسا کرتے وقت اصل قرآن کی نظم و ترتیب اور اس کے جملہ محاسن کو ملحوظ نہ رکھا جائے بلکہ اصل قرآن میں جو مفہوم مراد ہوتا ہے دوسری زبان میں اس کی ترجمانی کی جائے ۔تفسیری ترجمہ میں قرآن کی جملہ کیفیات برقرار رکھنا ناممکنات میں سے ہے۔ لہٰذ ا انتخاب الفاظ میں انتہائی احتیاط اور اظہار مفہوم میں پورا زور صرف کرنے کے باوجود ترجمہ زیادہ سے زیادہ اصل قرآ ن کے قریب تر پہنچ سکتا ہے لیکن اصل تک رسائی ممکن نہیں۔ اس کے باوجود قرآن مجید کے لئے تفسیری ترجمہ ہی کسی پس و پیش کے بغیر جائز اور روا ہے۔

Quran Shareef Ke Tarajim

منظوم ترجمہ میں آیات کے معنی و مفہوم کو شعری پیکرمیں ڈھالنا پڑتا ہے۔ یہاں ردیف قافیہ اور شعر کی سلاست شاعر کے لئے سدِ راہ بن کر کھڑی ہوجاتی ہیں کیوں کہ ان تمام شعری لوازمات کے بغیر صنف شعر میں کوئی لذت پیدا نہیں ہوسکتی۔ اس کے باوجود اردو کے شعراء نے اپنی خدادا صلاحیتیوں سے قرآن کریم کے منظوم ترجمے کئے ہیں۔ ڈاکٹر صالحہ عبدالحلیم شرف الدین نے منظوم ترجمہ قرآن کی مشکلات پر اس طرح اظہار خیال فرمایا ہے کہ : ’’قرآں کا ٹھیٹ ترجمہ تو ممکن نہیں لیکن قرآن کے قریب تر معنی کے اظہار کے لئے بھی انواع و اقسام کی فنی اور معنوی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کے باوجودبھی غلطی کااندیشہ ہمیشہ رہتا ہے۔ قرآن کے ترجمہ کا یہ حال نثر میں ہے اور اب نظم کا حالِ زار تو پوچھئے نہیں۔ پہلے ہی تعبیر معنی کی مشکلات اور اس پر سے شعر کی قید سلاسل! شاعر پابہ زنجیر ہے ۔کلام الٰہی کا ترجمہ اور قیود بحر و قافیہ ! لیکن اس دنیا میں ایسے بھی انسان ہیں جو مجبوری میں محظوظ ہوتے ہیں یا پھر اپنے آپ کو چیلنج کرکے خود چیلنج قبول کرتے ہیں اور اس کو پورا کرنے کے لئے ساری قوتیں صرف کردیتے ہیں ۔ لہٰذا اردو ادب کی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے بھی شعراء ہوگزرے ہیں جنہوں نے قرآن کے اردو ترجمہ اور اس کے معنی کی تعبیر کی کوشش کی ہے۔‘‘ (قرآن حکیم کے اردو تراجم از ڈاکٹر صالحہ عبد الحلیم شرف الدین1984 ؁ء ص ۱۵۷ تا۱۵۸)

نثر کی بہ نسبت قرآن شریف کے منظوم ترجموں میں لغزشوں کا اندیشہ بہت زیادہ رہتا ہے۔ صنف نظم کی پابندیوں میں کھوکر اصل مقصد قرآن کا اظہار مشکل ہے ۔پیغام قرآن کو عوام تک پہنچانے کے لئے نظم کی افادیت کئی گنا کم ہے۔اس کے علاوہ شرعاً بھی صنف نظم قرآن حکیم کے ترجمہ کے لئے موزوں نہیں ۔اس لئے اکابر علمائے دین نے منظوم ترجمہ کو کبھی مستحسن نظروں سے نہیں دیکھا۔اس لئے بھی کہ نظم میں قرآن مجید جیسی عظیم کتاب کے معنی و مفہوم کا سمٹ آنا ناممکنات میں سے ہے۔منظوم ترجمہ کرنے کے لئے سخت محنت ہی نہیں بہت ہی احتیاط برتنا پڑتا ہے اور قرآن شریف کے تقدس کو بھی برقرار رکھنا پڑتا ہے ۔پروفیسر غلام مصطفی خان نے علامہ سیماب اکبر آبادی کے منظوم ترجمے ’’وحئ منظوم ‘‘ میں لکھتے ہیں۔

Quran Shareef Ke Tarajim

’’یوں تو ایک زبان سے دوسری زبان میں کسی کتاب کو منتقل کرنا ہی بہت دشوار ہوتا ہے۔ پھر نظم میں منتقل کرنا تو اور بھی دشوار ہے اور قرآن جیسی اہم کتاب کو سخت احتیاط کے ساتھ نظم کرنا اور نظم کی ادبی شان کو شروع سے آخر تک برقرار رکھنا بہت مشکل ہے۔‘‘ ( وحئ منظوم، علامہ سیماب اکبرآبادی، مطبوعہ سیماب اکاڈیمی کراچی ،پاکستان) قرآن مجید کے اردو تراجم پر اردو میں تحقیقی و تنقیدی کام ہوا ہے۔ڈاکٹر حنیف سیف ہاشمی نے منظوم اردو تراجم کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا ہے ۔ ڈاکٹر صالحہ عبدالحلیم شرف الدین نے قرآن حکیم کے اردو ترجمہ کا تفصیلی طور پر جائزہ لینے کی سعی کی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *