Quran Shareef Ke Tarajim Episode 2 By Dr Bi Muhammad Davood Muhsin

ترجمہ قرآنِ شریف

پہلی قسط کے لئے یہاں پر کلک کریں

ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن صاحب کے تحقیقی مضمون قرآن شریف کے تراجم کی دوسری قسط پیش خدمت ہے۔

ترجمہ کے فن میں فنّی پیچیدگیاں ،فنی دشواریاں اور فنی تقاضے زیادہ ہیں ۔ترجمہ کی راہیں کٹھن، دشوار کن اور سنگلاخ ہیں ۔ان دشوار کن اور سنگلاخ راہوں سے گزرنا اور کامیاب ہونا نہایت مشکل امر ہے ۔ان دشواریوں کے پیش نظر ماضی میں ترجمہ کو ناممکن قرار دیا گیا اور مختلف قیاس آرائیاں کی گئیں ۔ اٹھارویں صدی عیسوی کے مشہور انگریزی نقاد ڈاکٹر جانسن کا خیال ہے کہ: ’’شاعری کا ترجمہ ہو ہی نہیں سکتا۔
انیسویں صدی کے ایڈورڈجیرالڈ نے عجیب اور دلچسپ استعاراتی زبان میں یہ فیصلہ سنایا کہ : ’’زندہ کتا مردہ شیر سے بہتر ہے  یعنی اس نے ترجمہ کو مردہ شیر قرار دے دیا۔ بیسویں صدی کے گرانٹ شاور من نے یہ فتویٰ صادر کیا کہ ترجمہ کرنا ایک گناہ ہے۔ بیسویں صدی کے رابرٹ فراسٹ کا قول ہے کہ ترجمہ ناممکن کو ممکن بنانے کی سعی ہے  پروفیسر ایلبرٹ گیرالڈ نے کہا۔ ’’ترجمہ ،نام ہے ایک سعئ نا مشکور کاجس کے صلے میں شدید مشقت کے بعد صرف حقارت ملتی ہے  سے تعبیر کیا ہے۔ کسی نے ترجمہ کو ’’ایک بھنا ہوا سڑا بیر‘‘بھی کہا ہے۔ترجمہ قرآنِ شریف

ترجمہ کے تعلق سے ایسی قیاس آرائیاں دانشوروں کی تھیں لیکن عوام نے بھی اسے نہیں بخشاعوام نے ترجمہ کو اچھی اوراونچی نگاہوں سے نہیں دیکھا۔ ترجمہ نگاروں کو برا بھلا کہا اور ترجمہ نگاروں کے ساتھ نہا یت برا سلوک کیا۔ انہیں غدار اور نمک حرام کہا گیا۔ بہت سے ترجمہ نگاروں نے جلاوطنی کی زندگی گزاری، بہتوں کو پھانسی بھی دی گئی اور ان کی لاشوں کو آگ کے حوالے کردیا گیا۔ مذہبی کتابوں کے ترجمہ نگاروں کو بہت ہی ذلیل اور رسوا کیا گیا۔

مثلاًولیم ٹینڈل نے پہلی بار جب بائبل کا ترجمہ عبرانی سے انگریزی میں کیا تو اسے جلا وطن کردیا گیا۔ پھانسی دی گئی اور اس پر بھی تسلی نہیں ہوئی تو اس کی لاش کو آگ میں جھونک دیا گیا۔ اسی طرح ہمارے ملک میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے پہلی بار قرآنِ مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا تو ان پر کفر کا فتویٰ صادر کردیا گیا۔ ڈپٹی نذیر احمد کے ترجمہ قرآنِ شریف میں ان کی عام زبان پر لعن طعن ہوئی۔ ہجرت کے ضمن میں حضوراکرم ؐ کی شان میں راتوں رات سٹک گئے  جیسے جملے کی بدولت ان کا عالمانہ تقدس چھن گیا۔

اس کے علاوہ 250ق م لیویوس اینڈ رونیکس نے پہلی بارہومرؔ کی تصنیف اوڈیسی کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا تو اسے آخری وقت تک گمنامی کی زندگی گزارنی پڑی۔ ان سب واقعات و کیفیات کے باوجود ترجموں کاسلسلہ برابر جاری رہا۔ جس کی بدولت مشرق و مغرب میں قربت پیدا ہوئی اور دنیا والے ایک دوسرے کے نظریات سمجھنے لگے۔ انہوں نے اس زمانے کی زبان میں حتی المقدور کامیابی حاصل کی ۔دراصل یہ دونوں لفظی تراجم تھے۔ان ترجموں کے متعلق اظہارخیال کرتے ہوئے شان الحق حقی یہ تاثر پیش کرتے ہیں۔

ترجمہ قرآنِ شریف

لفظی ترجمے کی ایک موٹی سی مثال مولانا شاہ رفیع الدین اورمولانا شاہ عبدالقادر کے کئے ہوئے قرآن شریف کے ترجمے ہیں۔ جن کی تحریر پر عربی نحو کا اثر غالب ہے۔ چنانچہ اردو کی نحوی ترکیب الٹ پلٹ ہوگئی ہے۔ حسن ارادت کی بنا پرو ہی انداز ایک عرصے تک قبول کیا جاتا رہا اور لوگ اس ترجمے کو خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھتے رہے جیسے کہ قدیم بائیبل کی متروک زبان آج تک مقبول چلی آرہی ہے۔‘‘( لسانی مسائل و لطائف شان الحق حقی صفحہ۸۶)

حضرت شاہ عبدالقادرؒ کے ترجمہ کے تعلق سے پروفیسر نثار احمد فاروقی کی رائے ملاحظہ فرمایئے ،تا کہ پتہ چلے کہ انہوں نے کس طرح مثالوں کے ذریعہ اس ترجمہ کی خوبیاں بیان کی ہیں۔ نثری تراجم میں حضرت شاہ عبدالقادر دہلوی (وفات ۱۲۳۰ ؁ھ بمطابق1814ء ) کا ترجمہ ’’موضع قرآن۱۲۰۰ھ اردو زبان میں قرآنی مطالب کو فصاحت اور سلاست کے ساتھ آسان اور دلنشین اسلوب میں پیش کرنے کی بہترین کوشش ہے۔ مثلاً انہوں نے و کلمۃ اللہ ھی العلیا کا ترجمہ یوں کیاہے ’ اور اللہ ہی کا بول بالا ہے‘ میں سمجھتا ہوں کہ اردو میں اس سے بہتر اور کوئی ترجمہ ان الفاظ کا ممکن نہیں۔

اللہ الصمد کا ترجمہ کرتے ہیں ’اللہ نرادھار ہے ،صمد کا مفہوم ادا کرنے کے لئے کوئی لفظ نرادھار سے قریب نہیں مل سکتا۔‘‘(قرآن مجید کے منظوم اردو تراجم کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ ڈاکٹر حنیف سیف ہاشمی 1999ء ص ۱۰) ایک زمانے تک ان دونوں ترجموں کو اردو والے بڑے شوق و ذوق سے پڑھتے رہے۔ اس کے بعد اردو میں ترجموں کاایک سلسلہ شروع ہوگیا دیگر علمائے کرام کے قرآن پاک کے مشہور تراجم ہماری تاریخ کے درخشندہ ابواب ہیں ان کے علاوہ اردو کی مشہور ادبی شخصیات نے بھی ادب کے ساتھ ساتھ ترجمہ و تفسیر کی جانب توجہ دی جن میں سر سید احمد خاں ،ڈپٹی نذیر احمد، خواجہ حسن نظامی ، مولانا ابوالکلام آزاد ، مولانا عبدالماجد دریاآبادی ، اور مرزا حیرت دہلوی کے نام خاص طور پر لائق ذکر ہیں۔ترجمہ قرآنِ شریف

دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرآن مجید ہے۔ سب سے زیادہ شائع ہونے والی بھی یہی کتاب ہے اور دنیا کی تقریباً سب بڑی زبانوں میں ترجمہ اسی کتاب کا ہواہے۔اس کے علاوہ اس کے موضوعات پرسب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔جب مولانا شبلی نعمانی مصروشام اور روم کے سفر پر گئے تھے۔انہوں نے صرف قسطنطنیہ کی ایک لائبریری میں قرآن کے موضوع پر بیس ہزار کتابیں دیکھیں ۔جب کہ وقت کی آندھی میں اس سے بھی زیادہ کتابیں تباہ ہوگئی ہوں گی۔ یہ بات تقریباً ایک سو سال پہلے کی ہے جب کہ چھپائی مشکل تھی آج فن طباعت نے بڑی ترقی کی ہے۔

ان سو سالوں میں کتنی کتابوں کا اضافہ ہوا ہوگا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ قرآن مجید کے جتنے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہوئے ہیں اتنے شاید ہی کسی دوسری الہامی کتاب کے ہوئے ہوں بلکہ ایک ہی زبان میں کئی کئی ترجمے ہوئے ہیں اردو میں قرآن مجید کے تراجم کے تعلق سے ڈاکٹر حسن الدین احمد کا خیال ہے کہ  اس وقت تک قرآن مجید کا ایک سو سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ دنیا کی ساری زبانوں کے مقابلے میں اردو میں قرآن شریف کے ترجموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ بالفاظ دیگر قرآن مجید کے کثیر التراجم السنہ میں اردو کانام سر فہرست ہے جس میں بقول ضمیر نیازی کوئی نوے (۹۰) تراجم کا پتہ چلتا ہے۔

ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی دریافت کے مطابق بھی قرآن پاک کے اردو تراجم کی تعداد نوے (۹۰) ہے۔ اردو کے بعد فارسی کانمبر ہے جس میں قرآن مجید کے 52 ترجمے ہوچکے ہیں ۔اردو تراجم بیشتر نثر میں ہیں منظوم ترجموں کی تعداد کم ہے۔‘‘(ساز مشرق جلد اول مرتب ڈاکٹر حسن الدین احمدمطبوعہ ولا اکاڈیمی حیدرآباد ؁ء ص۷۔۸) ماہر علوم قرآنی ڈاکٹر حمید اللہ کی تحقیق کے مطابق چودھویں صدی کی چوتھی دہائی تک قراں مجید کا دنیا کی سو سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے اور ان کی دریافت کے مطابق اردو میں تقریباً نوے تراجم ملتے ہیں۔ترجمہ قرآنِ شریف

ڈاکٹر محمد مسعود اپنے مقالے ’’اردو تراجم و تفاسیر قرآنی‘‘ میں مترجمین و مفسرین کی تعداد ایک سو پچپن ۱۵۵بتاتے ہیں ۔ مگر یہ تعداد بھی نامکمل ہے۔ کیوں کہ دور حاضر میں بھی ترجموں کا کام جاری ہے۔اردو میں قرآن مجید کے ترجمے کرنے والوں میں شاہ عبدالقادر ؒ اور شاہ رفیع الدین ؒ کے علاوہ سر سید احمد خاں (تفسیر القرآن ) ڈپٹی نذیر احمد ( قرآن مجید مترجم ) اعلی حضرت امام احمد رضا خان (کنزالایمان) مولانا اشرف علی تھانوی (ترجمان القرآن) حضرت ابوالعلی مودودی (تفہیم القرآن ) مولانا ابوالکلام آزاد (ترجمان القرآن ) مولوی عبدالحق، احمد سعید دہلوی ، فتح محمد جالندھری ، شبیر احمد عثمانی کے ترجمے زیادہ مقبول ہوئے اور ان کے اڈیشن اور تعداد اشاعت کی کثرت ہے۔

ان میں ایک انداز ے کے مطابق فتح محمد جالندھری کا ترجمہ سب سے زیادہ شائع ہوا ہے۔ دور حاضر میں اعلی حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی ،مولانا ابوالعلی مودودی ، مولانا اشرف علی تھانوی کے ترجموں کی اشاعت کی تعداد زیادہ ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ 1915 ء میں ایک عیسائی پادری نے بھی قرآن مجید کا اردو ترجمہ شائع کیا تھا۔ قرآن مجید کے اردو میں نثری ترجموں کے ساتھ ساتھ منظوم ترجمے بھی ہوئے۔ مگر علماء نے منظوم ترجموں کو مستحسن نظروں سے نہیں دیکھا۔

قرآن شریف کے منظوم تراجم کرنے والوں میں علامہ سیماب اکبر آبادی( وحئ منظوم) اور آغا شاعر قزلباش(الکلام)قابل ذکر ہیں۔ قران شریف کی اصل زبان اردو نہیں ہے۔ اس لئے اس کی تفسیریں عربی زبان میں لکھی گئیں۔ اردو میں قرآن مجید کے نثری اور منظوم ترجموں کے ساتھ ساتھ اس کی تفسیروں کے نثری و منظوم ترجمے بھی ہوئے۔اس طرح تفسیر ابن کثیر کا ایک ترجمہ آزادی سے پہلے مولوی محمد عمر جوناگڑھی نے کیا اور آزادی کے بعد دوسرا ترجمہ انظر شاہ کشمیری نے کیاجسے تیس حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ترجمہ قرآنِ شریف

آنحضرت ؐ کے چچازاد بھائی امام المفسرین حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کی روح پرور تفسیر ’’تفسیر ابن عباسؓ‘‘ کا ترجمہ علامہ سیوطی نے کیا۔ قاضی ثنا ء اللہ پانی پتی کی تفسیر ’’تفسیر مظہری ‘‘کا اردو ترجمہ مولانا عبدالدائم الجلالی نے آٹھ جلدوں میں کیا۔یہ تفسیر4218صفحات پر مشتمل ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی نے بیس مختلف سورتوں کی تفسیررشیدی، قاسم نانوتوی نے چند مختلف سورتوں کی تفسیر المعوذتین اور مولانا ابوالحسن ندوی نے سورۂ کہف کا عربی تفسیر کا ترجمہ معرکہ ایمان ومادیت کے نام سے شائع کیا۔

ملا حسین واعظ کاشفی کی فارسی تفسیرحسینی کا اردو ترجمہ دو جلدوں میں تفسیر قادری کے نام سے نولکشورنے شائع کیا جس کا 13واں ایڈیشن 1966 ؁ء میں منظر عام پر آیا۔ مولوی فقیر الدین کے اس دلکش ترجمہ کے صفحات کی تعداد لمبی تقطیع کے 1285ہے۔

تیسری قسط کے لئےجاری ہے پر کلک کریں
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *