Quran Shareef Ke Tarajim Episode 1 By Dr Bi Muhammad Davood Muhsin

Quran Shareef Ke Tarajum

ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن صاحب کے تحقیقی مضمون قرآن شریف کے تراجم کی پہلی قسط پیش خدمت ہے۔

قرآن مجید بنی نوع انسان کے لئے اللہ کی طرف سے پیغام ہدایت ہے ۔جسے فصیح عربی زبان میں حضرت محمد مصطفی ؐ پر ملک عرب میں نازل کیا گیا۔ یہ کلام الٰہی ہے جو انسان کو کفر وضلالت اور ظلمت سے نکال کر نورِ اسلام سے فیض یاب ہونے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن کریم اپنے مخصوص ایجاز و اختصار اور فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے قدرت کا مہتمم بالشان ادب پارہ ہے۔ جس کی مثال دنیا کی کسی زبان کے ادب میں نہیں ملتی۔

ایک ایک لفظ گوہر آبدار ، معنی و مفہوم سے پر، ایک ایک آیت موتیوں کی لڑی ، پُراثرو پرکیف اور پُر مغز ایک ایک سورۃ خزانۂ غیبی ہےجواحکامات اور معلومات سے پُر ہے ۔ اس میں شعر و نثر کے جملہ اوصاف سمٹ آئے ہیں۔ جسے پڑھتے وقت سوز و گداز اور وجدانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔ قلب و ذہن کو تازگی، آنکھوں کو ٹھنڈک اور روح کو قرار آجاتا ہے ۔ قرآن مجید کی افادیت اور اس کے حسن پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر حنیف سیف ہاشمی تحریر فرماتے ہیں ۔Quran Shareef Ke Tarajum

’’قرآن حکیم وہ کتاب مقدس ہے جسے اللہ تعالی نے فصیح العرب آنحضرت ؐ پر نازل فرمایا تاکہ آپ ؐ عالم انسان کو کفر و ضلالت کی تاریکی سے نکال کر نور اسلام سے فیض یاب فرمائیں۔ قرآن کریم نہ صرف عقائد و عبادات کا مجموعہ ہے بلکہ سرچشمۂ علم و حکمت بھی ہے اور ایک مکمل دستورِ حیات بھی ، گنجینۂ رشد و ہدایات بھی ہے اور نامۂ ذکر و فکر بھی۔قرآن مجید وہ مقدس الہامی کتاب ہے جو زندگی کے تمام معاملات و مسائل پر سنجیدگی سے بحث و تمحیص کرتی ہے۔

اور ان کا نہایت منصفانہ اور حکیمانہ حل بھی پیش کرتی ہے۔ یہ قدرت کی ایسی تخلیق و ترسیلی قوت ہے جس کا اسلوب و انداز اور طریق اظہار سب سے نرالا اور سب سے جداگانہ ہے۔اس کی بلاغت و فصاحت، شکوہ و جلال ، صوتی نظم و آہنگ اور ترتیب خیال کی دلنشینی بلکہ دلگداز نغمگی کو دیکھ کر فصحاء عرب یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ یہ کلام انسانی نہیں بلکہ کلام ربانی ہے۔اور سراسر وحی و الہام ہے۔

‘‘(قرآن مجید کے منظوم اردو تراجم کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ ڈاکٹر حنیف سیف ہاشمی پاسبان پرنٹرز 1999 ؁ء ص۲۵) یہ کلام الٰہی کا کرشمہ ہے کہ جو لوگ اس کے معنی و مفہوم سمجھے بغیر اسے پڑھتے ہیں وہ بھی اس کے صوتی آہنگ و نغمگی اور شیرینی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور سرور و کیف پاتے ہیں۔ قرآن مجید بار بار پڑھنے ، سمجھ کر پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی کتاب ہے۔

Quran Shareef Ke Tarajum

چونکہ قرآن مجید ملک عرب میں عربی زبان میں نازل ہوا اس لئے اس کے اولین مخاطب عرب کے لوگ تھے جن کی زبان عربی تھی اس لحاظ سے سب سے پہلے قرآن فہمی کا شرف عربوں کو ہی حاصل ہوا لہٰذا اس کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے وہ عربی زبان میں ہی لکھا گیا ۔ آنحضرت ؐکے چچا زاد بھائی امام المفسرین حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے قرآن مجید کی تفسیر ’’تفسیر ابن عباسؓ ‘‘ لکھی۔

جب مذہب اسلام کی کرنیں دنیا کے دیگر ممالک کے گوشوں میں پہنچیں تو وہاں ضرورت لاحق ہوئی کہ اسے عربی کے علاوہ دنیا کی دیگر زبانوں میں بھی منتقل کیا جائے تاکہ قرآن مجید کے ابدی پیغام کو عربی زبان سے ناآشنا لوگوں تک پہنچایا جاسکے ۔کیوں کہ کلام الٰہی کا روئے سخن صرف عرب ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت ہے اور اس کا پیغام کل عالم انسانیت کے لئے ہے اور عربی زبان کا تعلق عرب ممالک سے ہے عربی زبان کل عالم کی زبان نہیں۔

Quran Shareef Ke Tarajum

قرآن مجید کے ابدی پیغام کو اس کے ناآشنا لوگوں تک پہنچانے کے لئے بے شمار زبانوں میں تراجم کی ضرورت لاحق ہوئی اور اس کے ترجمے اورتفسیریں لکھی جانے لگیں ۔اس طرح ان شخصیات میں ترجمہ کا جذبہ پیداہوا انہوں نے اپنی عمر عزیز کے سکھ چین کو تج کر اس کے معنی و مفہوم کی تلاش و جستجو میں اپنی عمریں صرف کردیں اور خود بھی بلند مرتبہ پر فائز ہوگئے۔

لہٰذا سینکڑوں مترجمین ، مفسرین ، فقہا ، علمائے معنی و بلاغت نے اس کو سمجھا ،عمل کیا اور اس پر کتابیں لکھیں ۔اس کی تفسیر و ترجمہ اور توضیح و تشریح میں اپنی راحت شب و روز اور آرامِ حیات کو تج دیا۔حضرت محمد مصطفی ؐ  کے عہد مبارک میں ممتاز صحابی حضرت سلمان فارسیؓ نے سورۂ فاتحہ کا فارسی میں ترجمہ کیا تھا۔ اس طرح ممکن ہے کہ اس زمانے کی ابتدائی صدیوں میں حلقہ اسلام میں داخل ہونے والی قوموں کے اصحاب علم و فکر نے اپنی زبان میں قرآنی مطالب کو سمجھنے کی کوشش کی ہوجن کی زبان عربی نہیں تھی۔

یہ تراجم مستقل کتاب کی حیثیت میں نہ رہے ہوں گے بلکہ انہیں وقتی طور پر سمجھنے سمجھانے کے لئے استفادہ کیا گیا ہوگا۔ حافظ محمود شیرانی کا خیال ہے کہ مغلیہ سلطنت سے پہلے ہندوستان میں فارسی کے کارنامے قابل ذکر نہیں حالاں کہ چوتھی صدی ہجری کے وسط اور آخر تک ملتان اور صوبہ سندھ کے لوگ عربی اور سندھی بولتے تھے۔ اس کے بعد بھی تقریباً چھہ سو سال تک یعنی اکبر کے عہد تک عربی کا رواج تھا۔

اس کے بعد فارسی کا رواج ہوا۔اس کے باوجود ہندوستان میں عربی کو وہ مقام نہیں ملا جو فارسی کو حاصل تھا یا اس کے بعد اردو کو ملا۔اس لئے قرآن مجید جیسے اہم ترین آسمانی صحیفے کو عوام تک پہنچانے کے لئے ترجموں کا اہتمام ہوا۔اس طرح اردو میں قرآن مجید کے تراجم کا سلسلہ شروع ہوا۔ قرآن مجید کلام الٰہی ہے اس کی عظمت اور تقدس کے پیش نظر ابتدائی صدیوں میں اس کےتراجم کے تعلق سے عوام کے دلوں میں یہ عقیدہ گھر کرگیا تھا کہ اس کا ترجمہ دوسری زبانوں میں ممکن نہیں اور نہیں ہونا چاہئے۔

Quran Shareef Ke Tarajum

ایسے لوگوں کے خیالات کے تعلق سے پروفیسر نثار احمد فاروقی لکھتے ہیں: ۔
’’راسخ العقیدہ علماء کا عرصہ دراز تک یہ خیال رہا کہ قرآن مجید کا کسی دوسری زبان میں ترجمہ ممکن نہیں ،یا نہیں ہونا چاہئے ۔اس لئے ابتدائی صدیوں میں اگر قرانِ کریم کی تفہیم دوسری زبانوں میں ہوئی بھی ہوگی تو اسے کبھی کتابی شکل نہیں دی گئی اور تفہیم کے لئے تفسیر کو کافی سمجھا گیا۔اس کی بھی کم سے کم دو بڑی شاخیں تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائی قائم ہوگئیں جن میں موخذ کر ہمیشہ شک کی نظروں سے دیکھا گیا۔‘‘ (قرآن مجید کے منظوم اردو تراجم کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ ڈاکٹر حنیف سیف ہاشمی1999 ؁ء ص۔۱۰)

قرآن مجید کے ترجمہ و ترجمانی ،تفسیر و تشریح کے بارے میں ہمارے ملک میں تقریباً دیڑھ دو سو سال پہلے تک علمائے کرام مطمئن نہیں تھے بلکہ اسے قدسیت کے منافی تصور کرتے تھے اور عربی زبان سے کسی دوسری زبان میں ترجمہ کرنے کو گوارا نہیں فرماتے تھے۔اس کے باوجود کلام الٰہی کے ترجمے کئے گئے ۔جب پہلی بار ہمارے ملک میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے قرآن شریف کا فارسی میں ترجمہ کیا تو اس پر اعتراضات ہوئے ۔اس سلسلے میں ڈاکٹر احمد عبدالرحیم جاگیردار لکھتے ہیں۔

’’جب ہندوستان میں شاہ ولی اللہؒ نے سب سے پہلے قرآن کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا جس کے طبع ہوتے ہی ایک عظیم تہلکہ کٹ ملاؤں کے گروہ میں پیدا ہوگیا۔وہ شاہ صاحب کے جانی دشمن ہوئے اور ان پر کفر کا فتویٰ صادر کردیا ۔یہ تو شائع کرنے کا ذکر ہوا ،زبانی ترجمہ پڑھانے کو بھی ہمارے علماء پسند نہیں کرتے تھے۔ فورٹ ولیم کالج میں جب بعض لوگوں کو قرآن مجید کے ترجمہ کے لئے متعین کیا گیا تو اسی قسم کا ہنگامہ ہوگیا۔

‘‘ (اردو نثر کا دہلوی دبستان ڈاکٹر احمد عبدالرحیم جاگیردار مطبوعہ شالیمار پبلیکیشنزحیدرآباد 1975 ؁ء ص ۱۳۳ حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے فارسی ترجمے پر کٹر ملاؤں کے اعتراضات سخت ہوئے تو ضد میں آکر ان کے نامور فرزندوں حضرت شاہ عبدالقادرؒ اور حضرت شاہ رفیع الدین ؒ نے اردو میں ترجمے کردئے ۔ حضرت شاہ عبدالقادرنے ’’موضع قرآن ‘‘ کے نام سے ۱۲۰۰ ؁ھ میں قرآن مجید کالفظی ترجمہ کیا

اور حضرت شاہ رفیع الدین نے تقریباً بارہ سال پہلے قرآن مجید کا اردو ترجمہ کیا تھا۔ حضرت شاہ عبدالقادر کا ترجمہ ان کے بڑے بھائی شاہ رفیع الدین کے لفظی ترجمے کی بہ نسبت کھلا ترجمہ ہے۔اس طرح اردو میں قرآن مجید کے ترجموں میں ان دونوں بھائیوں کو اولین ترجمہ نگار ہونے کا شرف حاصل ہے۔

دوسری قسط کے لئے جاری ہے پر کلک کریں
جاری ہے

1 comment on “Quran Shareef Ke Tarajim Episode 1 By Dr Bi Muhammad Davood Muhsin

  1. وصی بختیاری

    تراجُم نہیں تراجِم
    Tarajum nahi Tarajim hai.

    مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اردو شعر و ادب تک خامہ فرسائی اور اظہارِ آرائے عالیہ کی تحدید کی جائے
    ویسے یہ مضمون منظوم تراجِم تک محدود نہیں ہے
    شاہ صاحب کے فرزندانِ گرامی کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے، اس پر میری رائے محفوظ ہے
    ہاں! شاہ عبد القادر کے ترجمہ کا نام موضع القرآن نہیں “موضح القرآن” ہے
    وصی بختیاری
    vasibakhtiary@gmail.com

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *