Qudsia Nadim laali Interview By Usman Atis

      No Comments on Qudsia Nadim laali Interview By Usman Atis
Qudsia Nadim laali Interview By Usman Atis

آن لائن اردو ڈاٹ کام کی جانب سے انٹرویو

قدسیہ ندیم لالی صاحب کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو: عثمان عاطس

آن لائن اردو: اگر کچھ اپنی اوائل عمری کے باری میں بتانا مناسب سمجھیں تو؟
قدسیہ ندیم لالی: قدسیہ میرا نام میرے تايا جن کو ھم ابا جی کہا کرتے تھے انہوں نے رکھا اور لالی ، والد مرحوم کے دوست جو انگریز تھے انہوں نے رکھا ( لالی کے انگریزی ميں معنی ، لاڈلی بيٹی ) بتائے گئے تھے۔ بچپن بہت بھر پور اور شرارتوں سے سجا ہوا ہے جو اب بھی سوچوں تو بے اختیار ہنسی آجاتی ہے، ہمارے زمانے ميں شرارت اور بدتمیزی و بد تہذيبی ميں واضح فرق ہوا کرتا تھا، شرارت ميں کھیل کود و ہنسی مذاق شامل ہوا کرتا تھا نہ کہ من مانی و حکم عدولی اور کسی کو پریشان کرنا يا ايذاء دينا، اگرچہ کہ والدین کا انتقال ہمارے بچپن ميں ہوا تو ذمہ دارياں بھی بچپن سے آٹھائيں۔ ہمارے گھرانے ميں کسی کی شعر و سخن سے ایسی وابستگی نہيں تھی کہ کوئی شاعر يا ادیب ہوتا البتہ ہمارے والدین، با محاورہ اردو و موقع کی مناسبت سے اشعار کہہ کر بات کرتے اور سمجھايا بھی کرتے تھے۔

اسکول کے زمانے ميں اردو کی ٹيچر جب بھی نصاب ميں شامل علامہ اقبال کی نظم يا غزل کی تشريح ہوم ورک ميں ديا کرتیں تو ساتھ ميں يہ ہدايات بھی دیا کرتی تھيں کہ تشریح کے ساتھ ‘ حوالے کا شعر اور شاعر کا نام ‘ ضرور لکھا کیجئے، يہ آپ کی مشق کے لیے ہے کہ جب آپ بورڈ کا امتحان ديں گی تو آپ کو نمبر بہت اچھے مليں گئے، اور يوں حوالے کے شعر کی تلاش ميں جب کہيں سے کچھ نہ ملتا تھا تو خود ہی شعر ‘ بنانے ‘ کی کوشش کیا کرتی تھی، اردو کی کاپی ميں حوالے کا شعر تو ہوتا تھا مگر شاعر کا نام کبھی نہيں ہوتا،

کئی بار ٹوکنے پر بھی جب حوالے کے شعر کے ساتھ شاعر کا نام نہ پايا تو ایک روز اردو کے پيريڈ کے بعد اسٹاف روم طلب کیا گیا اور بہت ڈانٹ سُنی، ٹيچر کی بات نظر انداز کرنے پر سزا کا مژدہ بھی سنايا گیا نیز شعر پر شاعر کا نام نہ لکھنے کی وجہ بھی دریافت کی گئی، خوفزدہ سے انداز ميں جب يہ عرض کیا کہ يہ جو کچھ بھی ہے وہ ميں نے لکھا ہے، توٹيچر نےغیر يقينی انداز ميں دیکھتے ہوئے آزمائشی طور پر مجھے ‘ میرا اسکول ‘ کے عنوان سے نظم لکھنے کا حکم دیا ، يہ آٹھويں جماعت کا دور تھا، اگلے دن اسیمبلی سے پہلے ٹيچر کو خوشخط لکھی ہوئی نظم دے دی۔

اسيمبلی کے بعد جب کلاس روم کی طرف جا رہی تھی تو اسکول کے نوٹس بورڈ پر اپنی نظم آویزاں دیکھی تو رواں رواں خوشی سے جھوم اٹھا، مجھے اب بھی یاد ہے کہ ميں ہر پيريڈ ميں پانی پینے کے بہانے ٹيچر سے اجازت لے کر نوٹس بورڈ پر آویزاں اپنی نظم دیکھ کر کلاس ميں واپس آجاتی تھی ، پورا ہفتہ وہ نظم نوٹس بورڈ پر لگی رہی اور یوں ميں اپنے اسکول کی شاعر کے طور پر تسلیم کرلی گئی، 1990 ميں ، ابھی کالج شروع ہی ہوا تھا کہ شادی ہوگئی اور ميں سعودی عرب کے شہر الدمام آگئی۔

يہاں زندگی، پاکستان کی طرح گہما گہمی والی نہيں تھی تو سوشلی خود ہی کوئی نہ کوئی مصروفیت ڈھونڈنی ضروری تھی، چونکہ دور طالبعلمی والا تھا سو اُس طرف بھی دھیان لگا کر رکھا اور کالج کے امتحانات بھی مصروف رکھنے کے لیے کافی رہتے تھے، اُسکے علاوہ اھم موقوں کی تقریبات بھی بہت جوش و خروش سے منايا کرتے تھے ، 23 مارچ ، 14 اگست ، 6 ستمبر 23 ستمبر ( سعودی عرب کا قومی دن ) 9 نومبر 25 دسمبر کے علاوہ عیدين و بسنت و کبھی کبھی کے میلے بھی، مصروف اور خوش ہونے کے لیے کافی تھے۔

شادی کے تین سال بعد پہلے بيٹے کی پیدائش پر زندگی يکسر بدل گئی اور شوخ و شنگ لالی ایک خانہ دار خاتون ایک بچے کی ماں کے طور پر اپنی ذمہ داريوں ميں منہمک ہوگئی، 2004 تک ميں پانچ بچوں کی ماں بن چکی تھی، شعر و سخن سے بس اتنا رابطہ تھا کہ ہمارے رہائشی کمپاونڈ کا ہال اکٽر مشاعرہ گاہ بنا کرتا تھا، ( اور انہی مشاعروں ميں ، میری ملاقات جنابِ نسیمِ سحر سے ہوئی جو مشاعروں ميں شرکت کے لیے جدہ سے تشریف لايا کرتے تھے

جو بعد ميں میرے اُستاد بھی بنے اور ہرقدم پر میری راہنمائی کی جو آج تک جاری ہے) 2005 ميں ایک ادبی تنظیم نے احمد فراز کو مدعو کیا عين مشاعرے والے دن کسی نے محکمے ميں شکایت کردی اور وہ مشاعرہ کینسل ہوا ، مگر اُسی شام سات بجے ، میرے شوہر کے دوست نے فون کر کے ہمارے کميونٹی ہال کی صورتِحال معلوم کی خوش قسمتی سے ہال ميں کوئی تقریب نہ تھی ، اور پھر ھم سب نے مل کر ہال کو ایک گھنٹے ميں مشاعرہ گاہ ميں تبدیل کیا ، وہ پہلا موقع تھا جب ميں نے احمد فراز کو ٹی وی کے علاوہ دیکھا سنا اور بات چیت بھی کی ، مشاعرے کے اختتام پر احمد فراز مرحوم نے سوال کیا کہ آپ نے اپنا کلام نہيں سنایا ؟ ميں نے ادباٌ عرض کیا کہ ميں شاعر نہيں ہوں ، جس پر انہوں نے فرمايا کہ : آپ ميں ایک۔ شاعر چھپا بيٹھا ہے اُسے باہر آنے دیجئے ، کیونکہ آپ نے ہر عمدہ شعر پر داد دی جس سے مجھے گمان ہوا کہ آپ شاعرہ ہيں ، اور اسی جملے نے مشاعرے کے بعد کچھ لکھنے کے لیے آمادہ کیا ،

Qudsia Nadim laali Interview By Usman Atis

2006 ميں اپنی تنظیم ‘ ھم آواز ادبی ٽقافتی تنظیم کی بنیاد رکھی اور شعر و سخن کا آغاز کیا، جناب نسیمِ سحر کی سرپرستی نے مجھے وہ حوصلہ اور توانائی عطا کی جس نے مجھے مسلسل کچھ نہ کچھ لکھنے کے لیے بہت جلد تیار کر لیا ، سعودی عرب کے واحد اردو روزنامے کی راہ بھی نسیم صاحب نے سُجھائی اور يوں اخبار ميں لکھنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا ، نظموں ، غزلوں کے ساتھ طنز و مزاح لکھنا شروع کیا اور افسانے لکھنے کی طرف طبیعت مائل ہوئی ، اردو نیوز ہی ميں ، گھریلو و نفسیاتی مسائل پر آرٹکلز لکھنے شروع کیے ، پھر جنگ کراچی اور ايکسپرس نیوز ميں لکھنا شروع کیا،

ادبی رسالہ سحاب ( پنڈی) اور اجراء (کراچی) کی نائب مدیر کی حیٽيت سے ذمہ دارياں ادا کيں  يہ زمانہ سب سے زیادہ ياد گار ہے کہ نت نئے موضوعات تلاش کر کے لکھنے کا شوق عروج پر تھا ، ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھنے کی دُھن سوار تھی۔

آن لائن اردو: آپ کا نام اور قلمی نام ؟ نیز اس قلمی نام رکھنے کی کوئی خاص وجہ؟
قدسیہ ندیم لالی: دوستو کے حلقے ميں ‘ لالی ‘ اتنا عام ہوچکا تھا کہ پھر وہی تخلُص بھی کیا ، نیز اُمِ آدم کے نام سے بھی لکھتی ہوں بالخصوص ایسے افسانے و مائکرو فکشن جو دُکھ و تکلیف سموئےہوتے ہيں، ادبی نشستوں کی رپورٹس بھی اسی نام سے لکھتی ہوں، کیونکہ ادبی رپورٹ پر آپ نام درج ہو اور رپورٹ ميں ایک تسلسل و ترکیب کے ساتھ شعراء ادباء کے نام، محترم فلاں اور محترمہ فلاں لکھے ہوئے ہوں پھراپنا نام بنا محترمہ کے عجیب و ادھورا سا لگتا ہے۔ شاید میری بات سے دیگر اتفاق نہ کريں۔ اکٽر لوگ اپنے لیے ناچیز، راقم يا راقم الحروف لکھتے ہيں مجھے يہ ترکیب بھی پسند نہيں۔

آن لائن اردو: آپ نے لکھنا کب شروع کیا؟ نیزپہلی تحریر کیا تھی؟ اور آپ کی پہلی تحریر کب اور کہاں شائع ہوئی؟
قدسیہ ندیم لالی: ابتدائی دور پہلا شعر تھا
پردیس ميں آتا ہے وطن ياد زیادہ
رہتا ہے پرندے کو چمن یاد زیادہ ۔
آج کل میری توجہ ‘ مائکروفکشن ‘ لکھنے کی طرف مائل ہے ، مجھے ذاتی طور پر مائکروفکشن ميں بہت لطف آرہا ہے جبکہ میری ابتدائی پہچان طنزومزاح مزاح سے ہوئی۔

آن لائن اردو: آپکو لکھنے کے لئے کون سا وقت، کون سی جگہ پسند ہے، اور کیوں؟
قدسیہ ندیم لالی: لکھنے کے لیے سب سے بہترین وقت گھر ميں سب کے سونے کے بعد کا محسوس ہوتا ہے کہ اُس وقت نہ کوئی فون آتا ہے نہ بچے اپنی کسی ضرورت سے ماں کی توجہ چاہتے ہيں،
آن لائن اردو: آپ ماحول بنا کر سوچ سمجھ کر لکھتے ہیں یا شاعری کی طرح خیالات کی آمد ہوتی رہتی ہے؟
قدسیہ ندیم لالی: شاعری کے لیے مزاج کی یکسوئی درکار ہوتی ہے جب کہ کسی فکايے و افسانے کے لیے خواتین کی کسی محفل ميں شرکت ہی کافی ہے۔

آن لائن اردو: کیا شاعری کے لئے محبت یا غم کا ہونا ضروری ہے؟ نیز کیا آپ نے کبھی محبت کی ہے؟
قدسیہ ندیم لالی: شاعری کے لیے نہ محبت کی ضرورت محسوس ہوئی نہ غم کی کیفیت کی البتہ ميں سمجھتی ہوں کہ تخلیق کار کا حساس ہونا اور قلم کا امانت دار ہونا ضروری ہے ، پختہ تخیُل کسی سہارے کا متلاشی نہيں۔ ہمارے معاشرتی ماحول کے تحت محبت اکٽرافراد کرتے ہيں البتہ ميں اُس فہرست ميں شامل نہ ہو سکی کہ طالبِ علمی کے زمانے ميں شادی ہوگئی اور شریک سفر ہی پہلا دوست و محبوب بنا۔

آن لائن اردو: آپکی کوئی تصنیف؟ برکی کتب ویب سائٹ، بلاک وغیرہ؟
قدسیہ ندیم لالی: اب تک دو کتابيں منظر عام پر آچکی ہيں ، طنز و مزاح پر مشتمل مضامين ہيں مسکراہٹوں کی آوٹ سے’ دوسری کتاب شعری مجموعہ ہے ‘ جی اُٹھی ميں کلام کرتے ہی’ ایک شعری مجموعہ، ایک مائکروفکشن کہانياں اور افسانوں کے مجموعہ کا مسودہ تیار ہے، گھريلو ذمہ داريوں اور بچوں کی پرورش و تربیت کی وجہ سے وقفے کا دور جاری ہے۔ ادبی نشستوں اور مشاعروں ميں بھی فل الحال شمولیت کبھی کبھی ہی ہوپاتی ہے۔ برقی کتاب کوئی نہيں ، گو کہ کئی احباب کتابوں کی سافٹ۔ کاپی کا کہتے رہتے ہيں ، کچھ ميں ہی لاپرواہ ہوں ۔ کچھ وقت کی تنگی۔

آن لائن اردو: اپنے کلام میں سے اپنا پسندیدہ کلام ( کوئی شعر، نظم یا غزل) جو آن لائن اردو کے قارئین کی بصارتوں کی نذز کرنا چاہیں؟
قدسیہ ندیم لالی: پچھلے دنوں واٹس ایپ پر طرحی مشاعرے ميں شرکت کی تھی وہی غزل پیش کرتی ہوں۔

درد اک ایسا ہے دل میں جس کا درماں کچھ نہیں
اور کوئی پوچھ لے تو اس کا عنواں کچھ نہیں

ہجر میں دیکھو تو میری بےسروسامانیاں
اس قدر لمبی مسافت اور ساماں کچھ نہیں

نیند کا عالم بھی اب بے فائدہ لگنے لگا
اب کوئی خواب حسیں خواب پریشاں کچھ نہیں

جانے کیوں یک دم یہ دل ویران اتنا ہو گیا
عشق کی بے چینیاں شوق فراواں کچھ نہیں

زندگی لالی گذاری ہم نے اپنی اس طرح
اب نظر کے سامنے کوئی بهی طوفاں کچھ نہیں

آن لائن اردو: کن شعراء سے متاثر ہیں؟ نئے اور پرانے آپکے پسندیدہ شاعر کون سے ہیں؟
قدسیہ ندیم لالی: استاد شعراء کرام ميں، مولانا رومی، علامہ اقبال، غالب، مير تقی مير، اُنکے بعد کے استاد شعراء کرام ميں، جون ايليا، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز، افتخار عارف، اور دورِ موجود کے شعراء ميں عباس تابش میرے پسندیدہ شاعر ہيں۔
آن لائن اردو: نئے لکهنے والوں کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟
قدسیہ ندیم لالی: نئے لکھنے والوں کے لیے بس اتنا کہ ‘اپنے رنگ و اپنے انداز ميں لکھيں، شہرت کی تمنا بالکل نہ کريں آپ کا کام آپ کو وہ مقام عطا کر دے گا جو آپ کا استحقاق ہے،

آن لائن اردو: کوئی ایسی کتاب جو آپ چاہتے ہیوں کہ سب کو پڑھنی چاہیئے؟
قدسیہ ندیم لالی: آگ کا دريا، اُداس نسليں اور سفر نامے ضرور پڑھيں، سیاہ حاشیے، مولانا رومی، علامہ اقبال، اور غالب کو ازبر کر ليں۔ نیز سینئر شعراء اُدباء کے ساتھ تیسرے درجے کے رسالے اور يادوں کی بارات بھی پڑھيں، ميں سمجھتی ہوں کہ اُسکا بھی فائدہ ہی ہے، پہلا يہ کہ قرات کے لیے بہت وقت درکار نہيں ہوتا دوسرا يہ کہ نئے لکھنے والوں کو خود سمجھ ميں آجاتا ہے کہ اُن کو کیسے اور کیا لکھنا ہے اور کیا نہيں لکھنا۔

Qudsia Nadim laali Interview By Usman Atis

آن لائن اردو: کسی ادبی گروہ سے وابستگی ؟ اردو ادب کی ترویح و ترقی کے لیے جو کام ہو رہا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟
قدسیہ ندیم لالی: اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے شور زیادہ ہے اورحکمتِ عملی نصف بھی نہيں، در حقیقت اسوقت ادب سے وابستہ افراد کی اکٽريت اپنے علم و ہنر کا شہرہ چاہنے والوں کی ہے۔ نت نئے رسائل، فیس بک اور واٹس ایپ پر ایسے افراد کا راج ہے جو معاشی طور پر مستحکم ہيں اور ادب کو مول سے ضرب دے رہے ہيں، اکٺر حقیقی شاعر و ادیب اپنی ناقدری دیکھ کرمول لینے پر آمادہ اپنا کلام فروخت کرنے پر مجبور ہوگیے ہيں جس سے غیر شاعر و ادیب کی ایک بڑی تعداد آپکو چاروں جانب نظر آتی ہوگی،

ایسے افراد معاوضہ لے کرخاموشی سے اپنی گزر بسر کر رہے اور کہتے ہيں ھم اپنا ہنر فروخت کرتے ہيں کہيں ڈاکہ نہيں ڈالتے ہيں، حکومت کی سرپرستی نہ ہونے کے سبب ذاتی انجمن و ادبی تنظيميں زیادہ متحرک ہيں جو ذاتی تشہیر کو ادبی رنگ دے کر ماحول کمرشلائز کر رہی ہيں۔ ٹی وی کے مشاعروں ميں سفارش پر شعراء بلائے جاتے ہيں نہ کہ علم و فن پر۔ اندرونِ ملک و اندرونِ شہر کے مشاعرے شعراء کی ظاہری حالت و تراش خراش و عمر و شکل و صورت پر منحصر ہوگئے ہيں ، گويا اب مشاعرے سُنے کم اور دیکھے زیادہ جاتےہيں 

آن لائن اردو: آن لائن اردو ڈاٹ کام اردو ادب کے لئے جو کام کر رہی ہے آپکی نظر میں کیسا ہے؟
قدسیہ ندیم لالی: آن لائن اردو ڈاٹ کام کے سرپرست اعلی جناب سليمان جاذبؔ ایک متحرک انسان ہيں، اپنی گوناگوں مصروفیت کے باوجود اپنی ٹيم کے ساتھ مکمل يکسوئی سے، بنا کسی امتیاز کے اپنے کام پر توجہ دے رہے ہيں، ميں محسوس کر رہی ہوں کہ وہ معروف شعراء ادباء کے ساتھ نئے لکھنے والوں کو بھی اپنی ویب سائٹ پر نماياں انداز ميں پیش کر رہے ہيں، يہاں بہترین ٹيم ورک بہت اہمیت کا حامل ہے اسی وجہ سے بہت کم وقت ميں اردو ڈاٹ کام نے اپنا نماياں مقام بنا لیا ہے جسکے لیے جاذب اور اُنکے رفقاء کرام صد ستائش کا استحقاق رکھتے ہيں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *