Qamar Jameel Unique Ghazals

      No Comments on Qamar Jameel Unique Ghazals
Qamar Jameel Unique Ghazals

قمر جمیل (مرحوم) کے عمدہ کلام میں سے منتخب غزلیں

انتخاب: نعیم حنیف

آج ستارے آنگن میں ہین ان کو رخصت مت کرنا
شام سے میں بھی الجھن میں ہوں تم بھی غفلت مت کرنا

ہر آنگن مین دِیے جلانا ہر آنگن میں پھول کھلانا
اس بستی میں سب کچھ کرنا ہم سے محبت مت کرنا

اجنبی ملکوں اجنبی لوگوں میں آ کر معلوم ہوا
دیکھنا سارے ظلم وطن میں لیکن ہجرت مت کرنا

اس کی یاد میں دن بھر رہنا آنسو روکے چپ سادھے
پھر بھی سب سے باتیں کرنا اس کی شکایت مت کرنا

Qamar Jameel Ghazals In Urdu

Qamar Jameel Unique Ghazals

شام عجیب شام تھی جس میں کوئی افق نہ تھا
پھول بھی کیسے پھول تھے جن کو سخن کا حق نہ تھا

یار عجیب یار تھا جس کے ہزار نام تھے
شہر عجیب شہر تھا جس میں کوئی طبق نہ تھا

ہاتھ میں سب کے جلد تھی جس کے عجیب رنگ تھے
جس پہ عجیب نام تھے اور کوئی ورق نہ تھا

جیسے عدم سے آۓ ہوں لوگ عجیب طرح کے
جن کا لہو سفید تھا جن کا کلیجہ شق نہ تھا

جن کے عجیب طور تھے جن میں کوئی کرن نہ تھی
جن کے عجیب درس تھے جن میں کوئی سبق نہ تھا

لوگ کٹے ہوۓ ادھر لاگ پڑے ہوۓ ادھر
جن کو کوئی الم نہ تھا جن کو کوئی قلق نہ تھا

جن کا جگر سیا ہوا جن کا لہو بجھا ہوا
جن کا رفو کیا ہوا چہرہ بہت ادق نہ تھا

کیسا طلسمی شہر تھا جس کے طفیل رات بھی
میرے لہو میں گرد تھی آئینہ شفق نہ تھا

Qamar Jameel Unique Ghazals

Qamar Jameel Unique Ghazals

اپنے سب چہرے چھپا رکھے ہیں آئینے میں
میں نے کچھ پھول کھلا رکھے ہیں آئینے میں

تم بھی دنیا کو سناتے ہو کہانی جھوٹی
میں نے بھی پردے گرا رکھے ہیں آئینے میں

پھر نکل آۓ گی سورج کی سنہری زنجیر
ایسے موسم بھی اٹھا رکھے ہیں آئینے میں

میں نے کچھ لوگوں کی تصویر اتاری ہے جمیلؔ
اور کچھ لوگ چھپا رکھے ہیں آئینے میں

Qamar Jameel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *