Purana Lateefa Hai Ik Naye Andaaz Se Sunye

Purana Lateefa Hai Ik Naye Andaaz Se Sunye

پرانا لطیفہ ہے اک نئے انداز سے سنیں

از قلم: نعمان علی ہاشم

ایک کھجل قسم کی عورت ائیر پورٹ کے پارکنگ اسٹینڈ میں کھڑی تھی۔ ایک شخص کھڑا سیگریٹ پھونک رہا تھا۔ عورت کو اپنی دانشمندی کا بخار چڑھا۔ پاس جا کر کہنے لگی: آپکو سیگریٹ نوشی کرتے کتنا عرصہ ہو گیا؟
آدمی : جی 30 سال۔
عورت: روز کتنے سیگریٹ پھونکتے ہیں؟
آدمی: تین سے چار پیکٹ۔
عورت نے لمبا چوڑا حساب لگا کر کہا کہ آپ کو معلوم ہے اگر آپ سیگریٹ نوشی نہ کرتے تو آپکے پیچھے کھڑی بلیو کلر کی بی ایم ڈیبلو کار آپکی ہوتی۔

آدمی عورت کی زہانت سے حیران ہوتے ہوئے۔۔۔۔ کیا واقعی۔
عورت: جی بلکل۔
آدمی: اچھا تو آپ سیگریٹ نوشی کرتی ہیں؟
عورت : بلکل نہیں۔
آدمی: تو کیا یہ بلیو کلر کی بی ایم ڈیبلو آپکی ہے؟
عورت: نہیں نہیں میری نہیں۔
آدمی: چلیں پھرسائڈ پرہوجائیں۔ کیونکہ یہ گاڑی میری ہے۔

Purana Lateefa Hai Ik Naye Andaaz Se Sunye

اب ذرہ مدعے کی طرف آتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں آپکو ایسی مشورے والی آنٹیاں کثیر مقدار میں ملیں گی۔ لبرلز پیجز کا اور لبرلز دانشوروں کا مطالعہ کر کہ دیکھ لیجیے جگہ جگہ اسٹیٹس ہوتے ہیں۔

حاجی صاحب نے دسواں حج کیا پڑوسی کی بیٹی نے جہیز نہ ہونے کی وجہ سے خود کشی کر لی، چوہدری صاحب نے پانچ لاکھ کی قربانی کی ملازم کے گھر دال پکی وغیرہ وغیرہ، پچھلے دنوں ایک تحریر پڑھ رہا تھا۔ کافی لمبی کہانی تھی کہ کشمیر کے درد رکھنے والے کے پڑوسی کی لاوارث لاش تین دن گھر پڑھی رہی۔

ایسا کئی دفعہ ہوتا ہے کبھی انکو قربانی پراعتراض تو کبھی حج پر۔۔۔ کبھی کشمیراور فلسطین کا درد رکھنےوالوں پر اعتراض۔کم علم مسلمانوں کو بہکانے کے یہ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کہ بھولے بھالے مسلمانوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ کبھی حج جیسی عبادت پرجہیز جیسی لعنت کو ترجیح دیتے ہیں۔ تو کبھی قربانی جیسے فریضے کا مذاق۔ میں نے اپنی عمر کے 23 سال اس دنیا میں گزارے ہیں۔

اور ایسی باتیں کرنے والوں کو نہ کسی بیٹی کی شادی میں دیکھا نہ کسی کو غریب کا ساتھ دیتے۔ جیسے علاقوں میں یہ رہتے ہیں اور جنکی ثقافت کے گن گاتے ہیں وہاں ایک لاش کئی کئی دن پڑی گل سڑ جاتی ہے۔ اور پھر لاش سے اٹھنے والی بدبو سے تنگ آ کر متعلقہ اداروں کو فون کر دیا جاتا ہے۔ اور میت کا دکھ کسی کو نہیں ہوتا۔

Purana Lateefa Hai Ik Naye Andaaz Se Sunye

میں نےاکثرغریبوں کی بیٹیوں کی شادیوں میں حاجی صاحب اور چوہدری صاحب کو ہی دیکھا ہے۔ میں نے قربانی کرنے والوں کو ہی غریبوں کا خیرخواہ دیکھا ہے۔ اور کشمیر و فلسطین کے مسلمانوں کا درد رکھنے والوں کو ہی یہاں ہر مشکل آفت اور پریشانی میں آپنے اہل علاقہ کی مدد کرتے دیکھا۔

میت کے غسل کےلیےمذہب سے لگاو رکھنے والے ہی میسر آتے اورغسل کا پھٹا مسجد سے، بعض جگہ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو کچھ غلط کرتے ہیں مگر بحثیت مجموعی میں نے ہر جگہ حج کرنے والوں، قربانیاں دینے والوں اور کشمیر و فلسطین اور امت کا درد رکھنے والوں کو ہی اپنوں میں کام کرتے دیکھا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *