Poetry For Mother In Urdu

      No Comments on Poetry For Mother In Urdu
Poetry For Mother In Urdu

آج پوری دنیا میں مادر ڈے منایا جا رہا ہے تو ایسی دن کے حوالے سے چند شعراء کرام کا کلام قارئین کرام کے لیے پیش خدمت ہے۔

Mother Poetry In Urdu

میں اکثر سوچتی ہوں وہ بات
ماں نے کہی تھی جو اک رات
اپنی بیٹی کو کہہ دوں گی
اس کا ہر اک لفظ ہے یاد
ماں مجھ کو سمجھاتی تھی
میں چپکے سے کھو جاتی تھی
دیس پیا کے سپنوں میں
من ہی من ، شرماتی تھی
ماں کہتی تھی نا سپنے دیکھ
یہ دیس ہے تیرا
وہ نہیں دیس
تب میں اکثر یہ کہتی تھی
ماں کیونکر ایسا کہتی تھی
اب اپنی بیٹی کو دیکھتی ہوں
اب میں یہ سوچتی رہتی ہوں
اب جان گئی ہوں میں یہ بات
ماں نے کہی تھی جو اک رات
اب میری بیٹی کی باری ہے
جو جان سے مجھ کو پیاری ہے
یہ ماں کی ایک کہانی ہے
بیٹی نے جو دہرانی ہے۔
ڈاکٹر حناء امبرین

Poetry About Mother In Urdu

Poetry For Mother In Urdu

خدا کی اس سر زمیں پہ تم تھیں فلک کا تارہ، عظیم عورت
ہمیں خبر ہے، تمہیں، تمہارے غموں نے مارا عظیم عورت

تمام جیون قدم جما کر کھڑی رہیں آپ حوصلے سے
مصیبتوں کے محاذ پر ایک بے سہارا، عظیم عورت

سوا خدا کے کبھی بھی اک پل ڈری نہیں تم زمانے بھر سے
کوئی بھی دشمن جو پاس آیا وہ تم سے ہارا. .عظیم عورت

تمہاری ممتا کے زیر سایہ پلے بڑھے ہم جواں ہوئے ہیں
طویل عرصہ تلک ملا تھا ہمیں سہارا عظیم عورت

تمہارے بچے، جگر کے ٹکرے سسک رہے ہیں بلک رہے ہیں
رواں ہے اشکوں کے سیل میں اک غموں کا دھارا، عظیم عورت

لحد میں تم جاکے سوگئی ہو، ہمیں بھلا کر، ہمیں رلا کر
تمھاری یاد آگئی ہمیں تو تمھیں پکارا عظیم عورت
زارا فراز

Poems For Mother In Urdu

Poetry For Mother In Urdu

ماں تو ماں ھے

دھرتی ماں ہو
یا پھر ماں ہو
ماں تو ماں ہے
بارش دھوپ کی ڈھال جو
ماں ھے..
صبر کا ہے پاتال جو
ماں ھے
خواب کے خدوخال جو

ماں ھے

میری سوچ خیال جو
ماں ھے
ھر ناطہ ھر رشتہ دیکھا
بےلوث کہاں کوئ اس سا دیکھا
جیسے ایک فرشتہ دیکھا
دکھ اور درد کی ڈھال جو
ماں ھے
ماں دھرتی بھی ماں جیسی ھے
کرتی درد پنہاں دیکھی ھے
دونوں سے بس پیار ملا ہے

بے حد بے شمار ملا ھے
ماں کا بوسہ پیشانی پر

دھرتی مانکا پیروں پر
ماں تو ماں ھے

آفتاب بابر ہاشمی

Ghazals For Mother In Urdu

Poetry For Mother In Urdu

موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
تب کہی جا کر کہ تھوڑا سا سکون پاتی ہے ماں

فکر میں بچوں کی کچھ اس طرح گُھل جاتی ہے ماں
نوجواں ہوتے ہوئے بوڑھی نظر آتی ہے ماں

روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیے
چوٹ لگتی ہے ہمیں اور چلاتی ہے ماں

ہڈیوں کا رس پلا کر اپنے دل کے چین کو
کتنی ہی راتوں میں خالی پیٹ سو جاتی ہے ماں

جانے کتنی برف سی راتوں میں ایسا بھی ہوا
بچہ تو چھاتی پے ہے گیلے میں سو جاتی ہے ماں

جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول
آنسوں کے ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں

فکر کے شمشان میں آخر چتاؤں کی طرح
جیسے سوکھی لکڑیاں ، اس طرح جل جاتی ہے ماں

اپنے آنچل سے گلابی آنسوں کو پونچھ کر
دیر تک غربت پے اپنی اشک برساتی ہے ماں

سامنے بچوں کے خوش رہتی ہے ہر ایک حال میں
رات کیوں چھپ چھپ کے لیکن اشک برساتی ہے ماں

کب ضرورت ہو میری بچے کو ، اتنا سوچ کر
جاگتی رہتی ہیں آنکھیں اور سو جاتی ہے ماں

مانگتی ہی کچھ نہیں اپنے لیے اللہ سے
اپنے بچوں کے لیے دامن کو پھیلاتی ہے ماں

دے کے اک بیمار بچے کو دعائیں اور دوا
پینتی پے رکھ کے سر قدموں پے سو جاتی ہے ماں

ہر عبادت ہر محبت میں نیہا ہے اک غرض
بے غرض بے لوث ہر خدمات کو کر جاتی ہے ماں

زندگی بھر چنتی ہے خار ، راہ ذیست سے
جاتے جاتے نعمت فردوس دے جاتی ہے ماں

بازوں میں کھینچ کے آجائے گی جیسے کائنات
ایسے بچے کے لیے بانہوں کو پھیلاتی ہے ماں

زندگانی کے سفر میں گردشوں کی دھوپ میں
جب کوئی سایہ نہیں ملتا تو یاد آتی ہے ماں

پیار کہتے ہے کسے اور مامتا کیا چیز ہے
کوئی ان بچو سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں

صفحہ ہستی پے لکھتی ہے اصول زندگی
اس لیے اک مکتب اسلام کہلاتی ہے ماں

اس نے دنیا کو دیے معصوم رہبر اس لیے
عظمتوں میں ثانی قرآن کہلاتی ہے ماں

گھر سے جب پردیس جاتا ہے کوئی نور نظر
ہاتھ میں قرآن لے کر در پے آجاتی ہے ماں

دے کے بچے کو ضمانت میں اللہ پاک کی
پیچھے پیچھے سر جھکائے در تک جاتی ہے ماں

کانپتی آواز سے کہتی ہے بیٹا الوداع
سامنے جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں

جب پریشانی میں گھر جاتے ہیں ہم پردیس میں
آنسوں کو پونچھنے خوابوں میں آجاتی ہے ماں

دیر ہو جاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں
ریت پر مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں

مرتے دم بچہ نا آ پائے اگر پردیس سے
اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پر رکھ جاتی ہے ماں

باب مر جانے پے پھر بیٹے کی خدمت کے لیے
بھیس بیٹی کا بدل کر گھر میں آجاتی ہے ماں

ہم بلاؤں میں کہیں گھرتے ہیں تو بے اختیار
خیر ہو بچے کی ، کہ کر در پے آجاتی ہے ماں

چاہے ہم خوشیوں میں ماں کو بھول جائیں دوستو !
جب مصیبت سر پے آتی ہے تو یاد آتی ہے ماں

دور ہو جاتی ہے ساری عمر کی اس دم تھکن
بیاہ کر بیٹے کو جب گھر میں بہو لاتی ہے ماں

چھین لیتی ہے وہی اکثر سکون زندگی
پیار سے دلہن بناکر جس کو گھر لاتی ہے ماں

ہم نے یہ بھی تو نہیں سوچا الگ ہونے کے بعد
جب دیا ہی کچھ نہیں ہم نے تو کیا کھاتی ہے ماں

ضبط تو دیکھوں کہ اتنی بے رخی کے باوجود
بد دعا دیتی ہے ہرگز اور نا پچھتاتی ہے ماں
شاعر= نا معلوم

Mother

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *