Pehla Shaandaar Aalmi Sauti Online Nazmia Mushaaira

pihla Shandar mushaira

پہلا شاندار عالمی صوتی آن لائن ” نظمیہ مشاعرہ” زیرِ اہتمام بیسٹ اردو پوئٹری

(رپورٹ: ساجد شاہجہانپوری (نینی تال، انڈیا

گزشتہ شب یعنی 10 فروری سنہ 2017 ایک صوتی نظم مشاعرے کا اہتمام زیرِ قیادت ایڈمن جناب توصیف ترنل کیا گیایہ مشاعرہ واٹس ایپ گروپ کی دنیا میں پہلا ایسا مشاعرہ تھا جسکا انعقاد اب تک کسی ادبی آن لائن گروپ میں نہیں کیا گیا ھےاس منفرد مشاعرے کی نظامت کہنہ مشق قادر الکلام شاعرہ محترمہ ڈاکٹر حنا امبرین صاحبہ(ریاض، سعودی عربیہ) اور بانئِ مشاعرہ محترم توصیف ترنل نے مشترکہ طور پر فرمائی اور مسندِ صدارت کو شاعر نواز شاعر گر فنِ سخنوری اور اردو ادب کیلئے ھمہ تن پیش پیش رہنے والے استاد شاعر محترم جناب فیّاض وردگ (کویت) نے سرفرازی عطا فرماکر رونق بخشی۔

best urdu poetry members

مشاعرے کا آغاز حسب روایت حمدِ باری تعالیٰ سے ھوا اور اسکے لئے محترمہ ناظمِ مشاعرہ نے مادرِ دبستانِ ادب لاہور پاکستان محترمہ شہناز مزمّل صاحبہ سے درخواست کی محترمہ نے فرمایا
میرے سینے کو نور سے بھر کے
فیض چشمے بہا دئے یارب
سعی کرتے رہیں گے تا بہ ابد
جذبہُِ شوق لا فنا یارب
تیرے در پر ہیں ھات پھیلائے
جسم و روح کو ملے شفا یارب

shozaib kashir

اس حمدیہ کلام کے بعد عالمِ سخنوری کے مشہور و معروف نوجوان شاعر جناب شوزیب کاشر(آزاد کشمیر) نے اپنی عالمی پیمانے پر مشہور انعام یافتہ نعت شریف کا نذرانہ بہ حضور سرکارِ دوعالم احمد مجتبیٰ محمّد مصطفےٰﷺ پیش کیا-
پوشاک عمل جامۂِ کردار پہن لوں
سر تا بہ قدم اُسوئے سرکار پہن لوں
جسکو سنکر کافی دیر تک سامعین اور شعراء کرام نعرۂِ تحسین و تکبیر بلند فرماتے رھے۔ اسکے بعد مشاعرے کا باقائدہ آغاز فرماتے ھوئے اپنا کلام سامعین کی نذر کیا۔
محترمہ ڈاکٹر حنا امبرین(ریاض) نےاپنی مرصّع نظم عطا کرتے ھوئے فرمایا۔

hianعداوت ھی عداوت ھے
بھلا یہ کیسی عادت ھے
جو مٹّی سے وفا داری ذرا بھی سیکھ لی ھوتی
فصیلِ وقت کی سرحد
نہ تم نے کھیچ دی ھوتی
نہ موسم حبس کا رہتا
گل و گلزار ھو جاتا
عداوت کی جو عادت تم زمانے میں نہ پھیلاتے

اسکے بعد زحمتِ کلام محترمہ عظمیٰ شہزادی(پاکستان) کو دی گئی آپ نے وسیع ترین معنویت اپنے اندر سموئے ھوئے ایک بہترین منی نظم بہ عنوان”لَو” عطا فرمائی۔

whatsapp-image-2017-01-18-at-2-33-01-pm

لو خوب جلے گی اب
ھوا کے مقابل
دئے کی لو پے
رکھ دی ھیں
آنکہیں میں نے
جسکو حلقۂِ احبابِ فکر و فن نے خوب خوب سراہا

پھر محترمہ ریحانہ کنول (فیصل آباد پاکستان) نے اپنی طویل نظم سنا کر خوب داد و تحسین وصول کی نظم کے کچھ شعر اس طرح تھے
اب مرا ھات نہ تھامو کہ مجہے جانا ھے
ایسے رستے کی طرف ایسے مسافر کی طرح
نہ کوئی زادِ سفر ھے نہ کوئی منزل ھے
چار سو خوف ھے اور خوف ھے رسوائی کا
اس کلام پر محترمہ کو کافی دیر تک داد و تحسین سے نوازا گیا

اب محفل میں تشریف لاکر محترم عتیق العالمگرواہ(چنیوٹ، پاکستان) نے اپنی خوبصورت نظم بہ عنوان”نخلِ امّید” پیش کی

ابتدا کا شعر کچھ یوں تھا

سُنا ھے تو جاتا ھے اسکے نگر
یہ سچ ھے تو پھر مجھ پہ احسان کر
بیحد داد و تحسین سے نوازا گیا محترم کو

محترمہ اروی ٰسجل صاحبہ (چکوال، پاکستان) نے فرمایا

مرے مالک مرے مولا
ترے در پر کھڑی ھوں میں
کہ خود سے لڑ پڑی ھوں میں
بہت مشکل میں ھوں ربّا
کلام کو بیحد داد و تحسین حاصل ھوئی

اس کے بعد جناب عطا شاہکار (لاہور پاکستان) نے اپنی خوبصورت نظم بہ عنوان”سنسار” groups icسناتء ھوئے فرمایا
اک بار نہیں سو بار میاں
دیکھا ھم نے سنسار میاں
کہیں بھوک افلاس کے سائے ھیں
کہیں دولت کے انبار میاں
اس نظم کے باقی اشعار بھی خوب خوب پسن کئے گئے

اب تشریف لائے ثمر یاب ثمر (سہارن پور، انڈیا) نے ایک طویل نظم “حلب جل رھاھے” کے عنوان سے بزم میں پیش کی۔

ساری دنیا ھوئی ھے پھر دشمن
ھمکو رنج و الم نے گھیرا ھے
آج گلشن خزاں کی زد پے ھے
اس طرح بادِ سم نے گھیرا ھے
موصوف نے قوم کی حالتِ دگر گوں کا ذکر فرماتے ھوئے اس نظم کی وساطت سے قوم کے سوئے ھوئے ضمیر کو جگانے کی بھرپور سعی فرمائی ھے۔

محترم ڈاکٹر فرحت عبّاس(کراچی، پاکستان ) نے فرمایا-
رھے گی یاد برسوں تک
whatsapp-image-2017-01-18-at-2-33-11-pmوہ چشمِ اشکبار اے دل

محترم احسن لکہنوی(لکہنؤ، انڈیا ) نے فرمایا-
فکر اب نالہ و شیون کی نہ فریاد کی ھے
نے مسیحا کی ضرورت ھے نہ دمساز کی ھے
آپکے کلام کو بھی محفل نے خوب خوب سراہا

اب محفل میں محترم آفتاب ترابی صاحب (جدّہ، سعودی عربیہ) جلوہ افروز ھوکر یوں فرماتے ھیں-

اپنی نازک ھتیلی دکھا کر مجہے
مجھ سے کہنے لگی وہ نجومی بتا
ھات میں دیکھ تو میرے لکّھا ھے کیا
اسکو دیکہا تو دل یہ دھڑکنے لگا
پھر محبّت کا شعلہ بھڑکنے لگا
مر مریں ھات کو جب لیا ھات میں
آگیا اسپہ دل بات ھی بات میں
انکے اس نظم کے باقی کلام کو بھی محفل نے خوب خوب سنا اور بیشمار داد و تحسین سے حضرت کو نوازا گیا
اب ناظم مشاعر نےخوبصورت لب ولہجے کے شاعر حضرت سلیمان جاذب کو دعوتِ کلام دی۔

Suleman Jazib

حضرت سلیمان جاذب فرمایا۔
مجھے تم سے محبّت ھے
تمہیں مجھ سے محبّت ھے
محبّت اک حقیقت ھے
محبّت تو عبادت ھے
مگر یہ بات دینا سے
کبھی ہم کہہ نہیں سکتے
سامعین انکے کلام سے تادیر لطف اندوز ھوتے رھے

اب محترمہ ناظمہ نے نہایت ادب و احترام کسیاتھ حضرت شفاعت فہیم (امروھہ – انڈیا) کو دعوت سخن پیش کی۔

حضرت شفاعت فہیم فرمایا

اے مرے ھمنواؤ ھم سفرو
اے مرے ساتھیوں مِرے اپنو
ایک آواز آرھی ھے مجھے
کس کی آواز ھے یہ پہچانو
پڑھکر محفل میں ایک سماں باندھ دیا

مشاعرہ اپنی پوری آب و تاب کیساتھ محترمہ کی نظامت میں رواں دواں تھا۔ ایسے میں ایک اور ماہرِ علم و فن اور فنِ سخنوری میں ایک اعلیٰ اور منفرد مقام کی اہل کہنہ مشق استاد شاعرہ محترمہ ریحانہ روحی صاحبہ (لندن، برطانیہ) کو ناظمہ محترمہ نے کلام عطا فرمانیکی زحمت دی۔ محترمہ ریحانہ روحی صاحبہ نے اپنی طویل نظم پیش کرتے ھوئے آج کے انسان کا موازنہ پرن سے کرتے ھوئے فرمایا-

بجا ھم اشرف المخلوق ھیں لیکن
پرندے ھم سے بہتر ھیں

اس طویل نظم کا ایک ایک شعر سامعین کے اذھان کو بیدار کرتا ھوا اورخوابیدہ ضمیر کو بیدار کرتا ھوا اپنے مثبت ائرات مرتّب کر گیا
محترم شہزاد نیّر (کوئٹہ پاکستان) ( گل فروش دوشیزہ ) کے عنوان سے اپنی لاجواب نظم پیش کرتے ھوئے فرمایا-

زرد پتّے بھی گرائے ھوں گے
MukhtarTalhriکانپتی شام میں لندن کی ھوا نے لیکن

حضرت مختار تلہری (بریلی، انڈیا ) گو کہ اپنی ذاتی مصروفیات کی بناء پر ابتدا سے مشاعرے میں شرکت نہ فرما سکے لیکن جب تشریف لائے تو اپنی پوری جولانیوں اور استادانہ صلاحیتوں کیساتھ ایک نہیں بلکہ دو دو نظموں” خوشبو اور احساس” کا تحفہ شرکائے بزم کو عطا فرمایا بیحد دااد و تحسین سے انکو سامعین نے نوازا۔

راقم الحروف ساجد شاہجہانپوری (نینی تال، انڈیا نے بھی اپنا کلام سامعینِ با وقار کے حضور پیش کیا۔ جس پر احباب نے فراغدلی سے ناچیز کی پزیرائی فرمائی

مہمان اعزازی محترم اسلم بنارسی(بنگلور، انڈیا )نے اردو زبان کے حوالے سے اپنی دلنشین قطعہ بند نظم پیش کرتے ھوئے فرمایا-

ایک کمسن بر سرِ محفل مجہے آئی نظر
aslam banarsiحسن پر قربان اسکے فکر کے شمس و قمر
عمر بس سات آٹھ سو کی ھوگی اسکی غالبًا
جسم پر ھے تین سو برسوں سے اردو پیرہن
میں نے پوچھا حضرت غالب یہ آخر کون ھے
مسکرائے پھر کہا یہ غالبِ موصوف نے
دخترِ نثر مرصّع نظم کی ہمشیرہ ھے
سب اسیرِ زلف اسکے یہ وہی دوشیزہ ھے
وہ کشش ھے اسکے اندر غیر ممکن ھے بدل
میں بھی شیدائی اسی کا نام اسکا ھے غزل
کس نے تم سے کہدیا آخر غزل بوڑھی ھوئی
محفل نے موصوف کے کلام کو خوب خوب سراھا

جناب ذوالفقار نقوی نے بھی اپنے مرصّع کلام سے سبکو خوب خوب متاثّر کیا، محترم سراج گلاؤٹھوی صاحب نے بھی اپنی انقلابی نظم “امن بنام جنگ ” کے عنوان سے پیش کی اور بہت بہت داد و تحسین وصول پائی۔اب تشریف لاتے ھیں محترم عبد الرزّاق ایزد صاحب(لاہور، پاکستان ) سےفرماتے ھیں۔

Zulfiqar Naqvi

محبّت دیکہنے کو چار حرفی لفظ لگتا ھے
مگر اس لفظ کے اندر مِرے مولا نے وہ تاثیر بھر دی ھے
کہ جب یہ چار حرفی لفظ سینے میں اترتا ھے
تو اس خاکی کے خاکے میں یہ کیا کیا رنگ بھرتا ھے
محترم کو بیحد داد و تحسین سے نوازا گیا

صدرِ محترم عالی مرتبت جناب فیّاض وردغ (کویت ) نے اپنی طویل خوبصورت نظfayyaz dardakم(بہ عنوان بازی) عطا فرماتے ھوئے اپنے مخصوص جوشیلے لب و لہجے میں یوں فرمایا-
ابھی بازی لگی ھے مات باقی ھے
ابھی گزری نہیں ھے رات باقی ھے
اور باقی شعروں میں عدلیہ کو چیلنج کرتے ھوئے آپ نے فرمایا کہ رات کو گپ چپ ڈھنگ سے کسی کو سولی پر چڑھا دینا یہ تو انصاف نہیں ھے انکی نظم نے نظام عدلیہ کی حقیقت کیا ھے یہ سوچنے پر سامع کو مجبور کر دیا اوراس نظم کی سچّائی نے عوام کو بیدار ھونیکا سندیسہ بھی دیا

اسکے علاوہ محترمہ گلِ نسرین(ملتان پاکستان) محترم احمد وصال شبقدر،محترم شیر علی دائم (دونوں پاکستان)اورمحترم جاوید سحر( آزاد کشمیر) نے بھی سامعین کو اپنے خوبصورت کلام bhai-usman-whatsapp-jpg1سے نوازا۔

اپنے خطبۂِ صدارت میں محترم فیّاض وردغ صاحب نے اردو ادب اور فنِ سخنوری کی ترویج و اشاعت کیلئے اسطرح کی تقریبات کو شاندار اقدام بتاتے ھوئے تمام شرکائے محفل اور خصوصی طور سے محترم توصیف ترنل کی کاوشوں کو سراہا اور بزم میں تشریف فرما شعراء کرام کا شکریہ ادا کرتے ھوئے دعاؤں سے نوازا۔ آخر میں اس تقریب کی ناظمہ ڈاکٹر حنا امبرین صاحبہ اور کنوینر محترم توصیف صاحب نے سبکا شکریہ ادا کرتے ھوئے مشاعرے کے اختتام کا اعلان فرمایا۔

रिपोर्ट डॉसिराज गुलावठवी
पहला शानदार आलमी सौती आन लाइन नज़मिया मुशायरा, ज़ेरे अहतमाम “best urdu poetry (voice) group
पिछली रात यानी 10 फ़रवरी 2017 रात 7 बजे एक सौती नज़्म मुशायरे का अायोजन जनाब तोसीफ़ तरनल साहब की क़यादत में किया गया ये मुशायरा WhatsApp ग्रुप की दुनिया में पहला ऐसा मुशायरा था जिसका आयोजन अब तक किसी अदबी आनलाईन ग्रुप में नहीं किया गया है। इस मुनफ़रद मुशायरे की निज़ामत कुहना मशक क़ादिरूल कलाम शायरा मुहतरमा डॉ हिना अम्बरीन साहिबा (रियाज़ सऊदी अरब) और बानी ए मुशायरा जनाब तोसीफ़ तरनल साहिब ने मुशतरका तौर पर फ़रमाई और मसनदे सदारत उस्ताद शायर जनाब फ़ययाज़ वरदग साहिब (कुवैत) ने फ़रमाई
मुशायरे की शुरुआत हमदे पाक से हुई इसके लिए मुहतरमा शहनाज मुज़ममिल साहिबा को दावत दी गई उन्होंने फ़रमाया कि
मेरे सीने को नूर से भर के
फै़जे़ चश्मे बहा दिये या रब
सई करते रहेंगे ता बा अबद
जज़्बा ए शौक़ ला फ़ना या रब

siraj ghilati

इस के बाद मशहूर शायर जनाब शोज़ेब काशिर साहिब (आजाद कश्मीर) ने नात पाक पढ कर महफिल को पुर नूर किया
पोशाक ए अम्ल जामा ए किरदार पहन लूं
सर ता बा क़दम असवा ए सरकार पहन लूं
जिस को काफी पसंद किया गया
इस के बाद मुशायरे का बाकायदा आग़ाज़ किया गया
मुहतरमा डॉ हिना अम्बरीन साहिबा (रियाज) ने अपनी नज़्म अता की
अदावत ही अदावत है
भला ये कैसी आदत है
जो मिट्टी से वफादारी ज़रा भी सीख ली होती
फ़सीले वक्त की सरहद
न तुम ने खींच दी होती
न मौसम जिस का रहता
गुलो गुलज़ार हो जाता
अदावत की जो आदत तुम ज़माने में न फैलाते

मुहतरमा अज़मा शहजादा साहिबा (पाकिस्तान)

लो ख़ूब जलेगी अब
हवा के मुकाबिल
दिये की लो है
रख दी हैं
आंखें मैं ने

मुहतरमा रिहाना कंवल साहिबा (पाकिस्तान)

अब मिरा हाथ न थामो कि मुझे जाना है
ऐसे रस्ते की तरफ ऐसे मुसाफिर की तरह
न कोई ज़ादे सफ़र है न कोई मंज़िल है
चार सू ख़ौफ़ है और खौफ है रुसवाई का

मुहतरम अतीक उल आलमगीर साहब (पाकिस्तान)

सुना है तू जाता है उसके नगर
ये सच है तो फिर मुझ पे अहसान कर
मुहतरमा अरवी सजल साहिबा (चलवाल)

मिरे मालिक मिरे मौला
तिरे दर पर खड़ी हूं मैं
कि खुद से लड़ पड़ी हूँ मैं
बहुत मुश्किल में हूं रबबा

मुहतरम अता शाहकार साहिब (लाहौर)

इक बार नहीं सौ बार मियाँ
देखा हमने संसार मियाँ
कहीं भूक अफ़लास के साये हैं कहीं दौलत के अम्बार मियाँ

जनाब समरयाब समर साहिब (इण्डिया)

सारी दुनिया हुई है फिर दुश्मन हमको रंज ओ अलम ने घेरा है
आज गुलशन ख़िज़ा की ज़द पै है
इस तरह बादे सन ने घेरा है

मुहतरम डॉ फ़रहत अब्बास साहिब (कराची)

रहेगी याद बरसों तक
वो चश्मे अश्क बार ऐ दिल

मुहतरम जनाब अहसन लखनवी साहिब (इण्डिया)

फ़िक्र अब नाला ओ शेवन की ना फरियाद की है
न मसीहा की जरूरत न दम साज़ की है

मुहतरम जनाब आफताब तुराबी साहिब ( जददा)

अपनी नाजुक हथेली दिखा कर मुझे
मुझसे कहने लगी वो नजूमी बता
हाथ में देख तो मेरे लिखा है क्या
उसको देखा तो दिल ये धड़कने लगा
फिर मुहब्बत का शोला भड़कने लगा
मर मरीं हाथ को जब लिया हाथ में
आगया उस पै दिल बात ही बात में

मुहतरम जनाब सुलेमान जाज़िब साहिब

मुझे तुम से मुहब्बत है
तुम्हें मुझसे मुहब्बत है
मुहब्बत इक हकीकत है
मुहब्बत तो इबादत है

मुहतरम जनाब शिफ़ाअत फ़हीम साहब अमरोहा (इण्डिया)

ऐ मिरे हमनवाओ हमसफ़रे
ऐ मिरे साथियो मिरे अपनो
एक आवाज़ आ रही है मुझे
किस की आवाज है ये पहचाने

मुहतरमा रिहाना रूही साहिबा (लन्दन)

बजा हम अशरफ़ुलव मख़लूक़ हैं लेकिन
परिन्दे हम से बेहतर हैं

मुहतरम शहज़ाद नय्यर साहिब (पाकिस्तान)

ज़रद पत्ते भी गिराये होंगे
कांपती शाम ने लन्दन की हवा ने लेकिन

मुहतरम मुख्तार तिलहरी साहिब (इण्डिया) ने अपनी दो नज़्म पेश कीं
“खुश्बू “और “अहसास”

मुहतरम साजिद साहिब शाहजहांपुरी (इण्डिया) ने भी अपनी नज़्म पेश की

मेहमान ए ऐज़ाजी जनाब असलम बनारसी साहब (इण्डिया)
एक कमसिन बरसरे महफिल मुझे आई नज़र
हुस्न पर कुर्बान उसके फ़िक्र के शम्स ओ क़मर
उम्र बस सात आठ सौ की होगी उस की ग़ालिबन
जिस्म पर है तीन सौ बरसों से उर्दू पैरहन
मैं ने पूछा हज़रते ग़ालिब ये आखिर कौन है
मुस्कुराये फिर कहा ये ग़ालिबे मोसूफ़ ने
दुखतरे नसरे मुरससा नज्म की हमशीरा है
सब असीरे ज़ुलफ़ इसके ये वही दोशीज़ा है
वो कशिश है इस के अन्दर गै़र मुमकिन है बदल
मैं भी शैदाई इसी का नाम है इस का ग़ज़ल
किस ने तुम से कह दिया आखिर ग़ज़ल बूढी हुई

जनाब जुल्फिकार नक़वी सीहिब (कश्मीर) ने भी अपनी नज्म पेश की
डॉसिराज गुलावठवी (इण्डिया) ने अपनी नज्म “अमन बनाम जंग “पेश की

मुहतरम अब्दुल रज़ज़ाक़ ऐज़ी साहब (लाहौर)

मुहब्बत देखने को चार हरफ़ी लफ्ज़ लगता है
मगर इस लफ्ज़ के अन्दर मिरे मौला ने वो तासीर भर दी है
कि जब ये चार हरफ़ी लफ्ज़ सीने में उतरता है
तो इस ख़ाकी के ख़ाके में ये क्या क्या रंग भरता है

सदरे मुहतरम आली जनाब फ़ययाज़ वरदग साहिब (कुवैत) ने अपनी नज्म ” बाज़ी” पेश की

अभी बाज़ी लगी है मात बाक़ी है whatsapp-image-2017-01-19-at-5-04-19-pm
अभी गुज़री नही है रात बाक़ी है
रात को गुप चुप ढंग से किसी को
सूली पर चढ़ा देना तो ये इंसाफ़ नहीं है

इसके इलावा मुहतरमा गुले नसरीनसाहिबा (मुल्तान), मुहतरम अहमद विसाल साहिब शबक़दर (पाकिस्तान), मुहतरम शेर अली दाइम साहिब (पाकिस्तान), जनाब जावेद सहर साहिब (आजाद कश्मीर), ने भी सामाईन को खूबसूरत कलाम से नवाजा अपने ख़ुतबा ए सदारत में मुहतरम फ़ययाज़ वरदग साहब ने उर्दू अदब और फ़ने सुख़नवरी की तरवूज व इशाअत के लिए इस तरह की तक़रीबात को शानदार इक़दाम बताते हुए तमाम शुरका ए महफ़िल और ख़ुसूसी तौर से मुहतरम तोसीफ़ तरनल साहब की कोशिशों व काविशों को सराहा और बज़म में तशरीफ फ़रमा शेरा ए इकराम का शुक्रिया अदा करते हुए दुआ औं से नवाजा

आखिर में तकरीब की नाज़िमा डॉ हिना अम्बरीन साहिबा और कनवीनर मुहतरम तोसीफ़ तरनल साहिब ने सब का शुक्रिया अदा किया और मुशायरे के इखतिताम का ऐलान किया

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *