Parveen Shakir Romantic Ghazals

      No Comments on Parveen Shakir Romantic Ghazals
Parveen Shakir Romantic Ghazals

Parveen Shakir Romantic Ghazals In Urdu

دل ونگاہ پہ کس طور کے عذاب اُترے
وہ ماہتاب ہی اُترا، نہ اُس کے خواب اُترے

کہاں وہ رُت کہ جبینوں پہ آفتاب اُترے
زمانہ بیت گیا ان کی آب و تاب اُترے

میں اُس سے کُھل کے ملوں، سوچ کا حجاب اُترے
وہ چاہتا ہے مری رُوح کا نقاب اُترے

اُداس شب میں، کڑی دوپہر کے لمحوں میں
کوئی چراغ، کوئی صُورتِ گلاب اُترے

کبھی کبھی ترے لہجے کی شبنمی ٹھنڈک
سماعتوں کے دریچوں پہ خواب خواب اُترے

فصیلِ شہرِ تمنا کی زرد بیلوں پر
تراجمال کبھی صُورت سحاب اُترے

تری ہنسی میں نئے موسموں کی خوشبو تھی
نوید ہو کہ بدن سے پُرانے خواب اُترے

سپردگی کا مجسم سوال بن کے کِھلوں
مثالِ قطرۂ شبنم ترا جواب اُترے

تری طرح، مری آنکھیں بھی معتبر نہ رہیں
سفر سے قبل ہی رستوں میں وہ سراب اُترے

Parveen Shakir Romantic Poetry In Urdu

Parveen Shakir Romantic Ghazals

جیسے مشامِ جاں میں سمائی ہُوئی ہے رات
خوشبو میں آج کِس کی نہائی ہُوئی ہے رات

سرگوشِیوں میں بات کریں ابر و باد و خاک
اِس وقت کائِنات پہ چھائی ہُوئی ہے رات

ہر رنگ جس میں خواب کا گُھلتا چلا گیا
کِس رنگ سے خدا نے بنائی ہُوئی ہے رات

پُھولوں نے اُس کا جشن منایا زمِین پر
تاروں نے آسماں پہ سجائی ہُوئی ہے رات

وہ چاند چُھپ چُکا ہے، مگر شہرِ دِید نے !
اب تک اُسی طرح سے بَسائی ہُوئی ہے رات

صُبحِ جمالِ یار کے جادُو کو دیکھ کے
ہم نے نظر سے اپنی چُھپائی ہُوئی ہے رات

Parveen Shakir Romantic Poetry

Parveen Shakir Romantic Ghazals
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشنِ طرب میں ہم
ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا

جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود
سر زیرِ بارِ ساغروبادہ نہیں کیا

کارِ جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام
اسنےبھی التفات زیادہ نہیں کیا

آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں
اتنابھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا

Parveen Shakir Romantic Ghazals

Parveen Shakir Romantic Ghazals

عکسِ خوشبو ھوں، بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ روکے کوئی

کانپ اٹھتی ھوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے سے تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی

جسطرح خواب مرےھو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی

میں تو اس دن سے ھراساں ھوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی

اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

کوئی آھٹ , کوئی آواز, کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ھیں آۓ کوئی

Parveen Shakir

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *